ایک ادھورے خواب کی سچی داستان
انسان کی زندگی میں کچھ فیصلے ایسے ہوتے ہیں جن کی قیمت وہ اپنی پوری عمر چکا کر بھی ادا نہیں کر پاتا۔ میرا نام حیدر ہے۔ میری عمر پینتالیس سال ہے۔ آج جب میں اپنے اس عالی شان فارم ہاؤس کے لان میں بیٹھ کر چائے کی چسکیاں لیتا ہوں اور سامنے کھڑی قیمتی گاڑیوں کو دیکھتا ہوں، تو لوگ مجھے ایک کامیاب بزنس مین سمجھتے ہیں۔ مگر سچ پوچھیں تو اس کامیابی کی بنیادیں میرے اپنے بوڑھے باپ کے آنسوؤں اور اس مٹی کی بے وفائی پر رکھی ہیں جسے میں کبھی اپنی جان کہتا تھا۔
یہ کہانی آج سے بیس سال پہلے شروع ہوئی تھی، جب میں ایک تروتازہ، خوابوں سے بھرا چوبیس سال کا نوجوان تھا
ہمارا تعلق پنجاب کے ایک چھوٹے سے سرسبز گاؤں سے تھا۔ میرے بابا ایک جفاکش کسان تھے۔ ان کے پاس کوئی بہت بڑی جاگیر تو نہیں تھی، مگر بارہ ایکڑ کی وہ زمین ان کے لیے ایک ایسی ماں کی طرح تھی جس کی انہوں نے اپنی رگوں کے خون سے آبیاری کی تھی۔ بابا کا صرف ایک ہی خواب تھا کہ میں پڑھ لکھ کر کوئی بڑا افسر بنوں، لیکن میرا دل ہمیشہ ان کھیتوں میں ہی لگا رہتا تھا۔
مجھے آج بھی یاد ہے، جب فصل پک کر تیار ہوتی تھی تو مٹی سے اٹھنے والی وہ خاص خوشبو میرے اندر ایک عجیب سا سکون بھر دیتی تھی۔ میں بابا کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کام کرتا۔ بابا اکثر ہنس کر کہتے:
*’’حیدر پتر! یہ زمین صرف مٹی کا ڈھیر نہیں ہے، یہ ہمارا مان ہے۔ اس نے کبھی کسی کی محنت کو ضائع نہیں کیا۔ تم جتنا اس مٹی کو پیار دو گے، یہ اتنا ہی سونا اگلے گی۔‘‘*
پھر وقت بدلا، اور میری زندگی میں شہر کا ایک ایسا دوست آیا جس نے میرے اندر راتوں رات امیر بننے کی ہوس جگا دی۔
میرا وہ دوست اکثر شہر کی اونچی عمارتوں، بڑی گاڑیوں اور بزنس کے منافعوں کی کہانیاں سناتا۔ وہ کہتا: *’’حیدر، تم کب تک اس مٹی میں رلتے رہو گے؟ یہاں سال بھر پسینہ بہاؤ تو چند ہزار روپے ہاتھ آتے ہیں۔ میرے ساتھ شہر چلو، وہاں ایک سال میں جتنا کماؤ گے، یہاں پوری زندگی میں نہیں کما سکتے۔‘‘*
آہستہ آہستہ اس کی باتیں میرے دل میں گھر کرنے لگیں۔ مجھے اپنے وہ لہلہاتے کھیت چھوٹے لگنے لگے، مجھے بابا کا وہ کچا گھر ایک قید خانہ محسوس ہونے لگا۔ میرے اندر کا انسان شہر کی چکا چوند کا اسیر ہو چکا تھا۔
ایک شام میں نے ہمت کر کے بابا سے کہا: *’’بابا! میں یہ زمین بیچ کر شہر جانا چاہتا ہوں۔ وہاں ایک بڑا بزنس شروع کروں گا۔ اس مٹی میں اب کچھ نہیں رکھا۔‘‘*
یہ سنتے ہی بابا کے ہاتھ سے چائے کا کپ چھوٹ گیا。 ان کا چہرہ پل بھر میں ایسا زرد ہوا جیسے کسی نے ان کے وجود سے روح کھینچ لی ہو۔ انہوں نے کانپتی آواز میں کہا: *’’پتر حیدر! زمینیں تو مائیں ہوتی ہیں، اور ماؤں کا بھی سودا کیا جاتا ہے؟ یہ بارہ ایکڑ میرے باپ دادا کی نشانی ہے، اس میں میرا پسینہ، میری عمر دفن ہے۔ اگر یہ چلی گئی تو میں زندہ نہیں رہوں گا۔‘‘*
مگر میں اس وقت اندھا ہو چکا تھا۔ میں نے ان کی ایک نہ سنی۔ میں نے ضد کی، بھوک ہڑتال کی، اور یہاں تک کہہ دیا کہ اگر انہوں نے مجھے زمین بیچنے کی اجازت نہ دی تو میں اپنی زندگی ختم کر لوں گا۔ اولاد کی ضد کے سامنے ایک بوڑھا باپ ہمیشہ ہار جاتا ہے۔ بابا نے بوجھل دل اور نم آنکھوں کے ساتھ اس زمین کے کاغذات پر دستخط کر دیے。
جس دن وہ زمین بکی، اس دن پورے گاؤں میں ایسا سناٹا تھا جیسے کسی کا جنازہ اٹھنے والا ہو۔ بابا اس دن کے بعد سے کبھی ہنسے نہیں، ان کی کمر جیسے ہمیشہ کے لیے جھک گئی۔
میں زمین بیچ کر حاصل ہونے والی خطیر رقم لے کر شہر آ گیا۔ شروع میں سب کچھ بہت اچھا لگا۔ میں نے ایک بڑا فلیٹ لیا، ایک اچھی گاڑی خریدی اور ایک بڑے بزنس میں انویسٹ کر دیا۔ مجھے لگا کہ میں نے زندگی کا بہترین فیصلہ کیا ہے۔ میں بابا کو بھی شہر لے آیا، مگر وہ اس بند فلیٹ کے کمرے میں یوں بیٹھے رہتے جیسے کوئی قیدی ہو۔ وہ اکثر کھڑکی سے باہر دیکھتے اور گہری سانس لے کر کہتے: *’’حیدر، یہاں کی ہوا میں وہ خوشبو نہیں ہے، یہاں کی مٹی میں وہ وفا نہیں ہے۔‘‘*
پھر زندگی نے اپنا اصل رخ دکھایا۔ جس دوست پر میں نے اندھا بھروسہ کیا تھا، وہ بزنس کے سارے پیسے لے کر راتوں رات فرار ہو گیا۔ میری انویسٹمنٹ ڈوب گئی، مارکیٹ کے قرضہ دار میرے دروازے پر آ کھڑے ہوئے، اور چند ہی مہینوں میں، میں سڑک پر آ گیا۔ وہ فلیٹ، وہ گاڑی، سب کچھ بک گیا۔
اب حالت یہ تھی کہ ہمارے پاس اگلے وقت کے کھانے کے پیسے بھی نہیں تھے۔ میں دن بھر شہر کی سڑکوں پر نوکری کی تلاش میں دھکے کھاتا، اور شام کو جب خالی ہاتھ واپس آتا تو بابا کے سامنے آنکھیں ملانے کے قابل نہیں ہوتا تھا۔
ایک رات میں بہت مایوس ہو کر گھر لوٹا اور بابا کے قدموں میں سر رکھ کر پھٹ پڑا۔ *’’بابا! مجھے معاف کر دیں، میں نے آپ کا مان توڑ دیا۔ میں نے وہ مٹی بھی کھو دی اور شہر نے مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا۔ میں برباد ہو گیا۔‘‘*
بابا نے اپنے نحیف اور کانپتے ہاتھوں سے میرا سر اٹھایا۔ ان کی آنکھوں میں غصہ نہیں تھا، صرف ایک بے پناہ ممتا تھی。 وہ بولے: *’’پتر! مٹی کبھی بے وفا نہیں ہوتی، بے وفا انسان ہوتا ہے۔ تم نے اس مٹی کو چھوڑا تھا، مگر اس مٹی نے تمہیں نہیں چھوڑا۔ چلو، واپس اپنے گھر چلتے ہیں۔‘‘
ہم واپس اپنے گاؤں آ گئے。 ہمارے پاس اب اپنی زمین تو نہیں تھی، لیکن بابا نے ہار نہیں مانی۔ ہم نے دوسروں کی زمینوں پر بطور مزارع (مزدور) کام کرنا شروع کیا۔ وہ لڑکا جو کبھی شہر میں سوٹ پہن کر گھومتا تھا، اب دوبارہ تپتی دھوپ میں ہل چلا رہا تھا。
مگر اس بار میرے اندر ہوس نہیں تھی، بلکہ ایک پچھتاوا اور سچی لگن تھی۔ میں نے دن رات ایک کر دیا۔ مٹی نے میری توبہ کو قبول کر لیا۔ اس سال فصل اتنی شاندار ہوئی کہ پورے علاقے میں دھوم مچ گئی۔ دو سال کی سخت محنت کے بعد، میں نے اپنی بیچی ہوئی زمین کا پہلا ایکڑ واپس خرید لیا۔ اس دن جب میں نے اس زمین کی مٹی کو اپنے ہاتھ میں لیا، تو مجھے لگا جیسے میری کھوئی ہوئی ماں نے مجھے دوبارہ گلے سے لگا لیا ہو۔
آج بیس سال بعد، میں نے نہ صرف وہ بارہ ایکڑ زمین واپس خرید لی ہے، بلکہ اللہ نے مجھے اس سے دگنی زمین دی ہے۔ میرے بابا اب اس دنیا میں نہیں رہے، لیکن ان کا وہ جملہ میرے دل میں ہمیشہ کے لیے نقش ہو چکا ہے: *’’زمین مٹی کا ڈھیر نہیں، مان ہوتی ہے۔‘‘*
آج میں جوان نسل سے صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ شہر کی چکا چوند کے پیچھے بھاگتے ہوئے اپنے اس کچے گھر اور بزرگوں کے مان کو کبھی مت ٹھکرانا۔ کامیابی بڑی گاڑیوں یا اونچے فلیٹوں میں نہیں ہے، کامیابی اپنے ضمیر کے سکون اور اپنی مٹی سے جڑے رہنے میں ہے۔
> انسان چاہے جتنی مرضی بلندیوں پر پہنچ جائے، اس کی اصل طاقت اس کی جڑیں ہوتی ہیں۔ اپنی جڑوں کو کاٹ کر ہریالی کی تمنا کرنا صرف ایک دھوکا اور سراب ہے۔
