نائی کی ذہانت

نائی کی ذہانت

ایک نائی کی ذہانت کا منہ بولتا ثبوت : ساہیوال سے کچھ کلو میٹر دور نہر کے کنارے پر بنے انگریز دور کے نائی والے بنگلے کی دلچسپ کہانی ۔۔۔۔۔۔یہ بنگلہ انگریزوں نے اپنے افسران کو دوران سفر رہائش کی سہولت مہیا کرنے کے  لیے 1908 میں تعمیر کروایا تھا ۔ یہاں انگریز افسران کئی کئی روز قیام پذیر رہتے ، اس بنگلے سے کچھ دور ایک نائی کی دکان یا گھر تھا جو لوگوں کی حجامتیں کرتا یا بال بناتا تھا ۔۔ انگریز افسران بھی حجامت کے لیے اس نائی کو طلب کیا کرتے اور وہ بنگلے پر آکر انکی شیو وغیرہ کر جاتا ۔ ایک افسر کا معمول تھا کہ وہ ہر روز صبح شیو لازمی بنواتا ، مذکورہ نائی کو ایک دن صبح منہ اندھیرے اپنی رشتہ داری میں لازمی جانا پڑ گیا ، اور یہ علی الصبح کا وقت تھا جبکہ گورا افسر ابھی سویا ہوا تھا ۔ اب وہ افسر کی حجامت کیے بغیر جاتا تو اسکی شامت آجاتی ، نائی عقلمند تھا یا پھر سرپھرا تھا اس نے ایک ترکیب نکالی اسی وقت بنگلے پر گیا ،گورا افسر محو خواب تھا ، اس نے سوتے ہوئے انگریز افسر کی اسی حال میں اس طرح خاموشی سے شیو کر ڈالی کہ گورے کی نیند میں ذرا بھی خلل نہ پڑا، یہ نائی کی ہاتھ کی صفائی کا  معیار تھا ۔ گورے کی شیو کرکے نائی اپنے رشتہ داروں میں چلا گیا ۔ رات گئے وہ واپس آیا اور اپنے گھر سوگیا اگلی صبح پھر بنگلے پر مقررہ وقت پر پہنچ گیا ۔ پچھلے روز انگریز افسر کو نائی کی اس معصومانہ لیاقت اور مہارت کا علم دیگر ملازموں سے ہو چکا تھا اور وہ بہت خوش تھا اور حیران بھی ۔ جب نائی شیو کرنے گورے افسر کے سامنے پیش ہوا تو اس نے پوچھا یہ کل تم نے کیا کمال کیا میری نیند بھی خراب نہیں ہوئی اور تم میری تازہ شیو کرکے چلے گیے ، اپنے اس کارنامے کا انعام مانگو جو کہو گے ملے گا ۔۔۔ نائی لالچی نہیں تھا ، پھر اس دور میں پیسہ اتنی بڑی ضرورت بھی نہیں تھا ، نائی نے کچھ سوچا اور کہا جناب اگر ہو سکے تو اس بنگلے کا نام میرے نام پر نائی والا بنگلہ درج کروا دیں تاکہ میں مر جاؤں تو بھی میرا نام زندہ رہے اور لوگوں کو میرے اس کارنامے کا علم ہوتا رہے ۔۔ یہی ہوا گورے چلے گئے ، وہ نائی بھی مر گیا اسکی نسل کے لوگ شاید آج بھی علاقے میں موجود ہوں مگر نائی کا نام اس بنگلے کی وجہ سے آج بھی زندہ ہے ۔۔۔۔

Leave a Reply

NZ's Corner