ایک مالدار تاجر کا اکلوتا بیٹا تھا۔ جب وہ پندرہ سال کا ہوا تو اسے چند ایسے لڑکوں کی صحبت مل گئی جو سارا دن آوارہ گردی، عیش و عشرت اور دوسروں کے پیسوں پر موج اڑانے میں مصروف رہتے تھے۔
وہ روز اسے اپنے ساتھ لے جاتے اور اس کی جیب سے اچھی خاصی رقم خرچ کروا دیتے۔
تاجر کئی دن خاموشی سے سب کچھ دیکھتا رہا۔ آخر ایک دن اس نے بیٹے کو اپنے پاس بلایا اور نرمی سے کہا:
“بیٹا! انسان کی پہچان اس کے دوستوں سے ہوتی ہے۔ اچھی صحبت انسان کو سنوار دیتی ہے اور بری صحبت اسے برباد کر دیتی ہے۔”
بیٹا مسکرا کر بولا:
“ابا جان! آپ میرے دوستوں کو نہیں جانتے۔ وہ میرے سچے دوست ہیں۔ اگر کبھی مجھ پر مشکل وقت آیا تو وہ سب سے پہلے میرے ساتھ کھڑے ہوں گے۔”
تاجر نے کچھ دیر بیٹے کو دیکھا، پھر کہا:
“اچھا! اگر تمہیں اپنے دوستوں پر اتنا یقین ہے تو آج ان کا امتحان لے لیتے ہیں۔”
بیٹا حیران ہوا۔
تاجر نے کہا:
“بازار سے ایک بھیڑ لے آؤ اور اپنے سب دوستوں کو آج رات کھانے پر بلا لو۔”
لڑکا بھیڑ لے آیا۔ تاجر نے ملازم کی مدد سے اسے تیار کروایا اور اس کے خون کے چند چھینٹے دیوار پر لگا دیے۔ پھر بھیڑ کو اچھی طرح بھون کر اس کے پیٹ میں چاول اور خشک میوے بھر دیے اور اس پر سفید کپڑا ڈال دیا۔
دور سے وہ واقعی کسی لاش جیسی دکھائی دیتی تھی۔
شام ہوتے ہی بیٹے کے دوست ایک ایک کرکے پہنچنے لگے۔
تاجر انہیں ایک کمرے میں لے گیا اور گھبرائی ہوئی آواز میں بولا:
“بیٹو! خدا تمہیں سلامت رکھے۔ ابھی کچھ دیر پہلے میرے بیٹے کا ایک آدمی سے جھگڑا ہوگیا۔ ہاتھا پائی میں وہ آدمی مر گیا۔ میرے بیٹے نے گھبرا کر لاش یہاں چھپا دی ہے۔”
دوستوں کے چہروں کا رنگ اڑ گیا۔
تاجر نے کہا:
“میرے بیٹے کو تم پر بہت بھروسا ہے۔ بس یہ لاش کسی محفوظ جگہ پھینک آؤ، میں تمہارا احسان کبھی نہیں بھولوں گا۔”
ایک لڑکا فوراً بولا:
“نہیں! ہم اس مصیبت میں نہیں پڑ سکتے۔”
دوسرا بولا:
“ہمیں کچھ معلوم نہیں، آپ خود جانیں!”
اور دیکھتے ہی دیکھتے سب لڑکے وہاں سے بھاگ گئے۔
تاجر کے بیٹے نے حیرت سے یہ سب دیکھا، مگر ابھی اس کے دل میں اپنے دوستوں کے لیے کچھ نہ کچھ امید باقی تھی۔
تاجر نے کہا:
“بیٹا! ابھی امتحان مکمل نہیں ہوا۔ اب میرے دوستوں کو دیکھو۔”
اتنے میں دروازے پر زور زور سے دستک ہوئی۔
باہر کوتوال چند سپاہیوں کے ساتھ کھڑا تھا۔
کوتوال نے سخت لہجے میں پوچھا:
“ہمیں اطلاع ملی ہے کہ یہاں ایک آدمی قتل ہوا ہے۔ لاش کہاں ہے؟”
تاجر نے اطمینان سے اس کمرے کی طرف اشارہ کیا۔
سپاہیوں نے سفید کپڑے میں لپٹی “لاش” دیکھی، دیوار پر خون کے نشان دیکھے اور تاجر کو حراست میں لے لیا۔
راستے میں تاجر کا ایک معمولی واقف کار ملا۔ اس نے تاجر کو ہتھکڑیوں میں دیکھا تو پریشان ہو کر پوچھا:
“کیا ہوا؟”
کوتوال نے بتایا:
“اس پر قتل کا الزام ہے۔”
وہ شخص کچھ دیر سوچتا رہا، پھر بولا:
“اگر اسے چھوڑ دیں تو میں اپنی جائیداد کا چوتھائی حصہ دینے کو تیار ہوں۔”
تاجر نے خاموشی سے اسے دیکھا۔
کچھ آگے ایک دوسرا شخص ملا، جو تاجر کا قدرے قریبی دوست تھا۔ حقیقت سن کر وہ بھی گھبرا گیا اور بولا:
“اگر آپ اسے چھوڑ دیں تو میری آدھی جائیداد لے لیجیے۔”
کوتوال نے کہا:
“قانون کسی کے مال کے بدلے نہیں بدل سکتا۔”
تاجر خاموش رہا۔
آخرکار وہ ایک دکان کے سامنے سے گزرے۔ دکان دار نے جب اپنے پرانے دوست کو ہتھکڑیوں میں دیکھا تو اس کے قدم رک گئے۔
“یہ کیا ہو گیا؟ اسے کہاں لے جا رہے ہیں؟”
سپاہیوں نے بتایا:
“اس پر قتل کا الزام ہے۔”
دکان دار کا چہرہ فق ہو گیا۔ وہ فوراً تاجر کے پاس پہنچا اور بولا:
“تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا!”
پھر کوتوال سے کہا:
“اسے چھوڑ دیں۔ قتل اس نے نہیں، میں نے کیا ہے!”
کوتوال حیران رہ گیا۔
“تم یہ کیا کہہ رہے ہو؟”
دکان دار نے کہا:
“لاش اسی کے گھر میں تھی، مگر وہاں میں نے پھینکی تھی۔ اگر کسی کو سزا دینی ہے تو مجھے دیں!”
تاجر کی آنکھیں نم ہوگئیں۔
کوتوال نے حکم دیا:
“اچھا، پہلے اس لاش کو کھولو۔”
سپاہی نے سفید کپڑا ہٹایا تو سب حیران رہ گئے۔
وہ انسان کی لاش نہیں بلکہ ایک بھنی ہوئی بھیڑ تھی، جس کے پیٹ میں خوشبودار چاول اور میوے بھرے ہوئے تھے!
کوتوال نے حیرت سے تاجر کی طرف دیکھا:
“یہ سب کیا ماجرا ہے؟”
تاجر مسکرایا اور بولا:
“حضور! یہ میرے بیٹے کے دوستوں کا امتحان تھا۔ میں اسے سمجھانا چاہتا تھا کہ مشکل وقت میں ساتھ کھڑے ہونے والے ہی سچے دوست ہوتے ہیں۔”
پھر اس نے اپنے بیٹے کی طرف دیکھا اور کہا:
“بیٹا! آج تم نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ جو دوست تمہارے پیسوں پر تمہارے ساتھ تھے، وہ خطرہ دیکھتے ہی بھاگ گئے۔ لیکن جس دوست نے تمہیں بچانے کے لیے اپنی جان تک قربان کرنے کا فیصلہ کر لیا، وہی حقیقت میں میرا سچا دوست ہے۔”
بیٹا شرمندہ ہو کر سر جھکا گیا۔
اس دن اسے سمجھ آگیا کہ دوست وہ نہیں جو خوشی میں ساتھ بیٹھے، بلکہ دوست وہ ہے جو مشکل وقت میں بھی آپ کا ہاتھ نہ چھوڑے۔
اس کے بعد اس نے بری صحبت چھوڑ دی اور اپنے باپ کی نصیحت کو ہمیشہ کے لیے یاد رکھ لیا۔
سبق:
سچا دوست دولت، فائدہ یا خوشی کا ساتھی نہیں ہوتا؛ سچا دوست وہ ہے جو مشکل وقت میں آپ کے ساتھ کھڑا رہے۔
