نیا شہر

نیا شہر

ایک بادشاہ تھا جسے اپنی سلطنت کی وسعت سے زیادہ اپنی یادگاروں پر ناز تھا۔ اس نے ایک دن اپنے دل میں خیال کیا کہ دنیا میں ایسے کتنے بادشاہ آئے اور چلے گئے، مگر ان کے نام کے ساتھ ایسا کیا رہ گیا جسے دیکھ کر آنے والی نسلیں کہیں کہ یہاں کبھی ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا؟ چنانچہ اس نے اپنی سلطنت کے ایک خوب صورت حصے میں ایک نیا شہر بسانے کا ارادہ کیا۔ دور دور تک زمین خریدی گئی، سنگ تراش بلائے گئے، معمار جمع کیے گئے اور خزانے کے دروازے کھول دیے گئے۔ بادشاہ نے اپنے وزیروں اور مشیروں سے کہا، “میں ایسا شہر چاہتا ہوں جس میں انسان کی ہر جائز خواہش کو جگہ مل جائے۔ تم سوچو، دنیا میں ایک خوش حال انسان کو کیا کیا چاہیے، اور جو چیز تمہیں اس شہر کے لائق لگے، اسے اس میں شامل کر دو۔” کسی نے باغات بنوائے، کسی نے چشمے نکلوائے، کسی نے بازار سجائے، کسی نے محلوں کے درمیان کشادہ راستے بنوائے۔ کہیں خوشبودار پھولوں کے باغ تھے، کہیں پھلوں کے درخت، کہیں پانی کی نہریں، کہیں بلند فصیلیں، کہیں کشادہ میدان، کہیں بازار جن میں دنیا بھر کی نعمتیں دستیاب تھیں۔ شہر کے بیچوں بیچ بادشاہ کا محل ایسا بنایا گیا کہ اس کی چھت پر کھڑے ہو کر دور تک صرف سبزہ، پانی اور عمارتیں دکھائی دیتیں۔ کئی برس کی محنت کے بعد وہ شہر تیار ہوا تو بادشاہ اپنے وزیروں کے ساتھ اس کی سیر کو نکلا۔ وہ ایک باغ سے دوسرے باغ تک جاتا، ایک چشمے کے کنارے رک کر پانی دیکھتا، پھر کسی بلند عمارت کی طرف اشارہ کر کے پوچھتا، “کیا دنیا میں اس جیسی کوئی اور چیز ہے؟” وزیر فوراً کہتے، “نہیں حضور!” بادشاہ مسکراتا۔ پھر اس نے شہر کے آخری دروازے تک جا کر ایک بار پورے شہر کو دیکھا اور کہا، “اب بتاؤ، کیا تمہاری آنکھوں نے کبھی ایسا شہر دیکھا ہے؟” سب وزیر ایک زبان ہو کر بولے، “خدا جھوٹ نہ ملائے حضور! آج تک ان آنکھوں نے ایسا شہر نہیں دیکھا۔” بادشاہ نے فخر سے کہا، “یہ شہر قیامت تک قائم رہے گا۔” ابھی یہ جملہ فضا میں تھا کہ دربار کے ایک خاموش گوشے سے کسی نے آہستہ سے کہا، “شاید قیامت تک نہیں…” سب کی نظریں اس طرف اٹھ گئیں۔ وہ ایک درویش صفت بزرگ تھے جو کچھ عرصے سے بادشاہ کی اجازت سے شہر کے قریب رہتے تھے۔ بادشاہ نے انہیں بلایا اور کہا، “تم نے کیا کہا؟” بزرگ نے ادب سے سر جھکا کر جواب دیا، “حضور! میں نے صرف اتنا کہا کہ قیامت تک کا علم تو اللہ کو ہے، مگر اتنا ضرور جانتا ہوں کہ یہ شہر آپ کے ساتھ ہمیشہ نہیں رہے گا۔” بادشاہ نے ہنس کر کہا، “اچھا! تو تمہارے خیال میں میری بنائی ہوئی یہ عظمت بھی مٹ جائے گی؟” بزرگ نے کہا، “دنیا نے میری آنکھوں کو بہت کچھ دکھایا ہے، حضور۔ میں نے پہاڑ دیکھے، دریا دیکھے، سلطنتیں دیکھی ہیں، محل دیکھے، ایسے بادشاہ دیکھے جنہیں یقین تھا کہ ان کا نام کبھی مٹ نہیں سکتا۔ مگر وقت نے سب کے دروازوں پر ایک ہی دستک دی ہے۔” بادشاہ نے کہا، “مگر تم نے اس شہر کے بارے میں کیا دیکھا ہے؟” بزرگ نے کچھ دیر شہر کی طرف دیکھا اور کہا، “میں نے دیکھا ہے کہ ایک دن آپ کے محل کی چھت پر گھاس اگے گی، آپ کے باغوں کے چشمے خشک ہوں گے، ان بازاروں میں خاموشی ہوگی جہاں آج انسانوں کا ہجوم ہے، اور جن پتھروں کو آپ نے اپنی بادشاہی کی مضبوطی سمجھ کر لگایا ہے، وہی پتھر ایک دن لوگوں کو بتائیں گے کہ یہاں کبھی کوئی بادشاہ رہتا تھا۔” بادشاہ کے چہرے پر مسکراہٹ کچھ کم ہوئی۔ اس نے پوچھا، “اور پھر؟” بزرگ نے کہا، “پھر اس شہر کے ختم ہونے کے بعد، جہاں آج کوئی آباد ہونا پسند نہیں کرتا، وہاں ایک اور آبادی ہوگی۔” بادشاہ زور سے ہنسا۔ وزیروں نے بھی اس کی ہنسی میں اپنی ہنسی شامل کر دی۔ بادشاہ نے پوچھا، “کہاں؟” بزرگ نے شہر سے بہت دور پھیلے ہوئے ایک سنسان صحرا کی طرف اشارہ کیا۔ وہ علاقہ برسوں سے “موت کی وادی” کہلاتا تھا۔ وہاں نہ درخت تھے، نہ پانی کا چشمہ، نہ کوئی بستی، نہ کوئی راستہ۔ ریت کے ٹیلے دور دور تک پھیلے تھے اور دن کے وقت بھی وہاں ایسی خاموشی رہتی تھی کہ آدمی کو اپنے قدموں کی آواز اجنبی محسوس ہوتی۔ بادشاہ نے حیرت سے پوچھا، “وہاں؟” بزرگ نے کہا، “جی، وہیں۔ ایک وقت آئے گا جب لوگ اس وادی کو دیکھ کر موت کا نام نہیں لیں گے بلکہ زندگی کی بات کریں گے۔” بادشاہ پھر ہنسا، “اس صحرا میں؟ جہاں آج ایک پرندہ بھی ٹھہرنا پسند نہیں کرتا؟” بزرگ نے کہا، “جہاں اللہ چاہے، وہاں زندگی کو آنے کے لیے محلوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔” بادشاہ نے اس بات کو مذاق سمجھ کر بھلا دیا۔ وقت گزرتا گیا۔ بادشاہ بوڑھا ہوا، پھر اس کا انتقال ہوگیا۔ اس کے بعد اس کا بیٹا تخت پر بیٹھا، پھر اس کا بیٹا، پھر ایک اور نسل آئی۔ جس شہر کو بادشاہ نے قیامت تک قائم رہنے والا سمجھا تھا، اس کی فصیلوں میں دراڑیں پڑنے لگیں۔ باغوں کے چشمے خشک ہوئے، نہریں مٹی سے بھر گئیں، بازاروں کے دروازے بند ہونے لگے۔ ایک زمانے میں جہاں گھوڑوں کی ٹاپیں اور تاجروں کی آوازیں گونجتی تھیں، وہاں اب ہوا چلتی اور خالی مکانوں میں سیٹی بجاتی۔ پھر ایک دن وہ شہر بھی تاریخ کا ایک خاموش ورق بن گیا۔ مگر موت کی وادی ویسی ہی رہی۔ ریت، خاموشی، دھوپ اور بے آب و گیاہ زمین۔ برسوں گزر گئے۔ پھر ایک دن ایک اللہ والا مسافر اس وادی سے گزرا۔ نہ اس کے پاس لشکر تھا، نہ خزانہ، نہ کوئی محل، نہ کوئی اعلان۔ اس نے سفر کی تھکن کے بعد ایک چٹان کے سائے میں اپنا چھوٹا سا ٹھکانہ بنایا اور وہیں عبادت میں مشغول ہوگیا۔ دن گزرا، رات آئی، پھر صبح ہوئی۔ وہ وہیں رہا۔ چند دن بعد کسی چرواہے نے اسے دیکھا۔ پھر کوئی مسافر وہاں رکنے لگا۔ کسی نے اس سے دعا کی درخواست کی، کسی نے قرآن کی بات سنی، کسی نے اس کے ہاتھ سے پانی پیا۔ پھر خبر پھیلنے لگی کہ موت کی وادی میں ایک نیک دل شخص رہتا ہے۔ دور کے لوگ آنے لگے۔ کسی نے قریب ایک کنواں کھودا۔ کسی نے ایک چھوٹی سی جھونپڑی بنا لی۔ کسی نے مسافروں کے لیے پانی رکھ دیا۔ کسی نے چند کھجور کے پودے لگا دیے۔ پھر وہ جگہ جہاں کبھی زندگی کا گزر بھی محال سمجھا جاتا تھا، آہستہ آہستہ آباد ہونے لگی۔ سال گزرتے گئے اور وہاں ایک بستی بن گئی۔ پھر بازار بنا، پھر مسجد بنی، پھر بچوں کی آوازیں گونجنے لگیں۔ وہی وادی جس کا نام “موت کی وادی” تھا، اب مسافروں کے لیے زندگی کی علامت بن چکی تھی۔ لوگ وہاں آتے تو کہتے، “یہ وہ جگہ ہے جہاں کبھی کچھ نہیں تھا، پھر ایک اللہ والے نے یہاں قیام کیا اور ویرانی نے آباد ہونا سیکھ لیا۔”  اور شاید اس وقت کہیں بہت دور، مٹی کے نیچے دفن اس قدیم شہر کے پتھر خاموشی سے اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ جس بادشاہ نے اپنی دولت سے شہر بنایا تھا، اس کا شہر مٹ گیا، مگر جس اللہ والے نے اللہ کے نام پر ایک ویران زمین میں اپنا چھوٹا سا ٹھکانہ بنایا، اس جگہ کی یاد لوگوں کے دلوں میں زندہ رہ گئی۔ بادشاہ نے اپنی سلطنت کو ہمیشہ کے لیے زندہ رکھنے کی کوشش کی تھی، مگر وقت نے اس کی عمارتیں نگل لیں۔ اللہ والے نے ہمیشہ زندہ رہنے کی کوئی کوشش نہیں کی تھی؛ وہ تو صرف اپنے رب کے قریب رہنے آیا تھا، مگر اس کی نسبت نے ایک ویرانے کو ایسی زندگی دے دی جسے آنے والی نسلیں بھی یاد کرتی رہیں۔ تب شاید بزرگ کی وہ پرانی بات پوری طرح سمجھ میں آتی تھی: دنیا میں کچھ لوگ اپنی موجودگی سے جگہوں کو آباد کرتے ہیں اور کچھ جگہیں اپنے اندر رہنے والوں کی وجہ سے تاریخ میں زندہ رہتی ہیں۔ بادشاہ محل بنا سکتا ہے، شہر بسا سکتا ہے، پتھر پر اپنا نام کندہ کرا سکتا ہے؛ مگر دوام صرف اللہ کے اختیار میں ہے۔ جس دل میں اللہ کی یاد آباد ہو جائے، وہاں ویرانی زیادہ دیر نہیں ٹھہرتی۔

حاصلِ سبق:
کبھی کبھی ایک نیک دل انسان کا قیام بھی ایسی شمع ہوتا ہے جس کے گرد روشنی کے حصول کیلئے پورا شہر جمع ہو جاتا ہے۔” دنیا کی بڑی سے بڑی عمارت، شہر اور سلطنت وقت کے سامنے کمزور ہیں۔ انسان اپنی طاقت سے اپنی یاد کو ہمیشہ کے لیے محفوظ نہیں کر سکتا، مگر نیک نیت، اللہ کی یاد اور مخلوقِ خدا کے لیے خیر کبھی کبھی ایسی روشنی چھوڑ جاتی ہے جو انسان کے جانے کے بعد بھی باقی رہتی ہے۔ اس لیے اپنے نام کی عمارت بنانے سے زیادہ اہم یہ ہے کہ جہاں ہم رہیں، وہاں ہمارے کردار سے کسی کے دل میں روشنی پیدا ہو۔

Leave a Reply

NZ's Corner