نیکی کا صلہ

نیکی کا صلہ

پُرانے زمانے کی بات ہے، ایک سچے اور ایماندار تاجر کا نام زاید تھا۔ وہ اپنے اونٹ پر اکیلا سفر کر رہا تھا۔ اس سفر میں اس کے ساتھ ایک عجیب بات ہو رہی تھی۔ وہ جہاں بھی جاتا، ایک خوبصورت نیلے رنگ کا پرندہ اس کے سر پر اڑتا ہوا دکھائی دیتا۔ زاید نے پہلے تو اسے عام بات سمجھا، لیکن اصلی کہانی تب شروع ہوئی جب وہ ایک ویران اور گرم صحرا میں پہنچا۔شدید گرمی کی وجہ سے زاید کا پانی ختم ہو گیا۔ پیاس سے اس کا برا حال تھا اور چکر آ رہے تھے۔ اتنے میں اس نے دیکھا کہ وہی نیلا پرندہ ایک پُرانے کنویں کے اوپر چکر کاٹ رہا ہے۔ زاید خوش ہو کر کنویں کے پاس پہنچا اور پانی نکالنے کے لیے رسی سے ڈول نیچے لٹکایا۔ لیکن جب ڈول باہر آیا تو اس میں پانی کی جگہ چمکتے ہوئے سونے کے سکے بھرے ہوئے تھے۔ زاید نے سوچا کہ اس تپتے ہوئے صحرا میں سونے کے سکے میری پیاس نہیں بجھا سکتے۔ اس نے وہ سارا سونا واپس کنویں میں ڈال دیا اور دعا کی کہ اے اللہ! مجھے دولت نہیں، صرف اپنی جان بچانے کے لیے پانی چاہیے۔ اس نے پھر ڈول نیچے ڈالا، تو اس بار اس میں سے ٹھنڈا اور میٹھا پانی نکلا۔ زاید نے پیٹ بھر کر پانی پیا اور اللہ کا شکر ادا کیا۔تھوڑا آگے جانے کے بعد اس نے دیکھا کہ وہی پرندہ زمین پر تڑپ رہا ہے۔ اس کا پر زخمی تھا اور ایک زہریلا سانپ اسے ڈسنے کے لیے آگے بڑھ رہا تھا۔ زاید نے ذرا بھی دیر نہیں کی، اس نے اپنی لاٹھی سے سانپ کو دور بھگایا اور پرندے کو اٹھا کر اپنے سینے سے لگا لیا۔ اس نے اپنے کپڑے سے پٹی بنا کر پرندے کے زخم پر باندھی اور اپنے برتن سے اسے پانی پلایا۔ اسی وقت ایک معجزہ ہوا۔ وہ پرندہ انسانوں کی طرح بولنے لگا۔ پرندے نے کہا، “اے زاید! کیا تم نے مجھے نہیں پہچانا؟”
زاید نے حیرت سے پوچھا، “تم ایک پرندہ ہو کر انسان کی آواز میں کیسے بول رہے ہو؟ پرندے نے جواب دیا، “میں کوئی عام پرندہ نہیں ہوں، بلکہ میں اس غریب اور بوڑھے انسان کا ‘احسان’ ہوں جسے تم نے تین سال پہلے سخت سردی میں اپنا گرم کوٹ اور کھانا بغیر کسی کو بتائے دے دیا تھا۔ تم تو وہ نیکی کر کے بھول گئے تھے، لیکن اللہ نے تمہاری اس نیکی کو میری صورت دے کر تمہاری مدد کے لیے بھیج دیا۔ جب تم نے کنویں سے سونا نکلنے پر لالچ نہیں کی اور صرف پانی مانگا، تو تم نے ثابت کیا کہ تمہارا اللہ پر بھروسہ دنیا کے مال سے بڑا ہے۔ اور جب تم نے مجھے سانپ سے بچایا، تو تم نے ثابت کیا کہ تمہارے دل میں رحم دلی ہے۔یہ کہہ کر وہ پرندہ آسمان کی طرف اڑ گیا اور غائب ہو گیا۔ زاید کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے اور اسے یہ بات اچھی طرح سمجھ آ گئی تھی کہ انسان کی کی ہوئی کوئی بھی نیکی کبھی ضائع نہیں ہوتی۔ وہ اللہ کے پاس محفوظ رہتی ہے اور مصیبت کے وقت کسی نہ کسی روپ میں انسان کے کام آ جاتی ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner