ایک عرب شخص اپنی انتہائی بوڑھی ماں کے ساتھ سفر کرتا تھا۔ بڑھاپے کی وجہ سے ماں کی یادداشت کمزور ہو گئی تھی، اس لیے وہ اکثر خیمے سے باہر نکل جاتی۔ بیٹے کو یہ بات بوجھ لگنے لگی۔
ایک دن قبیلے نے دوسری جگہ منتقل ہونے کا فیصلہ کیا۔ اس شخص نے اپنی بیوی سے کہا:
“کل روانگی کے وقت میری ماں کو یہیں چھوڑ دینا۔ اس کے پاس پانی اور کھانا رکھ دینا، شاید کوئی اسے سنبھال لے۔”
بیوی نے شوہر کی بات مان لی، مگر ایک ایسا کام کیا جس نے اس کی زندگی بدل دی۔
وہ اپنی بوڑھی ساس کو وہیں چھوڑنے کے ساتھ اپنے اکلوتے بچے کو بھی اس کے پاس چھوڑ آئی۔
دوپہر کو شوہر نے بچے کو بلانے کے لیے کہا تو بیوی نے جواب دیا:
“میں اسے آپ کی ماں کے پاس چھوڑ آئی ہوں۔”
وہ حیران ہو کر بولا، “کیوں؟”
بیوی نے کہا:
“جس طرح آج آپ اپنی ماں کو بڑھاپے میں تنہا چھوڑ آئے ہیں، کل کو ہمارا بیٹا بھی آپ کے ساتھ یہی سلوک کر سکتا ہے۔”
یہ الفاظ تیر کی طرح اس کے دل میں اتر گئے۔
وہ فوراً گھوڑے پر سوار ہوا اور واپس اپنی ماں کے پاس پہنچا۔
وہاں کا منظر دیکھ کر اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔
اس کی بوڑھی ماں اپنے پوتے کو سینے سے لگائے کھڑی تھی، جبکہ اردگرد بھیڑیے منڈلا رہے تھے۔ وہ بوڑھی عورت پتھر اٹھا اٹھا کر انہیں اپنے پوتے سے دور بھگا رہی تھی۔
یہ منظر دیکھ کر بیٹے کا دل ٹوٹ گیا۔
وہ اپنی ماں اور بچے کو واپس لے آیا اور پھر ساری زندگی اپنی ماں کی خدمت کرتا رہا۔
اس دن اسے سمجھ آیا کہ ماں بوجھ نہیں، اللہ کی طرف سے ایک عظیم نعمت ہے۔
اور اس نیک بیوی نے اسے وہ سبق سکھا دیا جو شاید کوئی نصیحت نہ سکھا سکتی تھی۔
🌸 ماں کی خدمت صرف ذمہ داری نہیں، ایک ایسی سعادت ہے جس کا صلہ دنیا اور آخرت دونوں میں ملتا ہے۔

