وفادار وزیر کی قربانی

     وفادار وزیر کی قربانی

           
ایک جزیرے پر بندروں کی ایک بڑی جماعت بستی تھی، جہاں پھل پھول عام تھے اور آب و ہوا ان کے مزاج کے بالکل موافق تھی۔ ایک دن، جب چند بزرگ بندر ایک درخت کے سائے میں بیٹھے آپس میں باتیں کر رہے تھے، تو اچانک وہاں سے ایک بلبل نامی ریچھ کا گزر ہوا۔ بلبُل نے دل میں سوچا کہ ان بندروں کا رہن سہن کتنا آرام دہ ہے؛ پہاڑوں کے درمیان ایک تنگ غار میں گزارا کرتا ہوں، بڑی محنت سے گھاس پھول حاصل کرتا ہوں، اور یہ بندر کتنے مزے سے تازہ پھل کھاتے اور نرم سبزے پر آرام کرتے ہیں۔ یہ سوچ کر بلبُل نے غصے میں بندروں پر حملہ کر دیا۔
تمام بندر ڈر کر چیختے چلاتے ادھر ادھر بھاگے، لیکن ہزاروں کی تعداد میں جمع ہونے کے باوجود وہ بلبُل کا مقابلہ نہ کر سکے اور بلبُل نے کئی بندروں کو کاٹ کر زخمی کر دیا۔ بڑی مشکل سے بلبُل وہاں سے پہاڑوں کی طرف بھاگ گیا۔ جب بندروں کے بادشاہ شہباز نے واپس آ کر یہ حال دیکھا تو اسے شدید صدمہ ہوا۔ بندروں میں ایک انتہائی عقل مند اور چالاک وزیر تھا (جس کا نام “دانا” تھا۔ دانا نے بادشاہ کو تسلی دی اور کہا کہ مصیبت کے وقت رونے دھونے سے بہتر ہے کہ ہمت اور تدبیر سے کام لیا جائے۔
دانا وزیر نے اپنی قوم کو بچانے کے لیے ایک چال سوچی۔ اس نے بادشاہ شہباز سے کہا کہ وہ اس کے کان نوچ ڈالے، ہاتھ پاؤں توڑ دے اور اسے زخمی حالت میں اسی جزیرے پر پھینک کر خود غاروں میں چھپ جائے۔ بادشاہ نے پہلے تو انکار کیا، لیکن دانا کے اصرار پر اس کے حکم کی تعمیل کی گئی۔
اگلی صبح جب بلبُل اپنے ساتھیوں کے ساتھ دوبارہ اس جزیرے پر آیا، تو اس نے زخمی حالت میں دانا وزیر کو وہاں پڑا پایا۔ دانا نے بڑی عیاری سے بلبُل کو بتایا کہ وہ بادشاہ کا وزیر ہے، اور جب اس نے بادشاہ کو بلبُل پر حملہ کرنے سے منع کیا تو غصے میں آ کر بادشاہ نے اس کی یہ درگت بنا ڈالی ہے۔ بلبُل دانا کی یہ بات سن کر دھوکہ کھا گیا، اور جب اس نے پوچھا کہ بندر اب کہاں ہیں، تو دانا نے کہا کہ وہ ایک خطرناک جنگل میں چھپے ہوئے ہیں اور بلبُل پر حملے کی تیاری کر رہے ہیں۔ دانا نے کہا کہ وہ بلبُل کو خود اس جنگل تک لے کر جائے گا۔
رات کے وقت بلبُل ایک ریچھ کو اپنی پیٹھ پر بٹھا کر شہباز بادشاہ کے لشکر کے ساتھ روانہ ہوا۔ دانا انہیں گھماتے گھماتے ایک ایسے صحرا میں لے آیا جہاں دور دور تک پانی کا نام و نشان نہیں تھا اور شدید گرم ہوا چل رہی تھی۔ وہاں پہنچ کر دانا وزیر بولا: “سورج نکلنے سے پہلے ان تمام ریچھوں کا کام تمام کر دو۔” یہ کہہ کر دانا وزیر خود اس گرم ریت اور تپش میں جل کر ہلاک ہو گیا اور اپنی جان دے کر اپنی قوم کو دشمنوں سے ہمیشہ کے لیے نجات دلائی۔
تیسرے دن بندروں کا بادشاہ شہباز اپنے لشكر کے ساتھ واپس جزیرے پر آیا تو اس نے اپنے پرانے ٹھکانے کو دشمنوں سے مکمل طور پر خالی پایا۔ اس طرح وزیر دانا کی قربانی نے تمام بندروں کی جان بچا لی۔
۔۔                  وفادار وزیر کی قربانی
ایک جزیرے پر بندروں کی ایک بڑی جماعت بستی تھی، جہاں پھل پھول عام تھے اور آب و ہوا ان کے مزاج کے بالکل موافق تھی۔ ایک دن، جب چند بزرگ بندر ایک درخت کے سائے میں بیٹھے آپس میں باتیں کر رہے تھے، تو اچانک وہاں سے ایک بلبل نامی ریچھ کا گزر ہوا۔ بلبُل نے دل میں سوچا کہ ان بندروں کا رہن سہن کتنا آرام دہ ہے؛ پہاڑوں کے درمیان ایک تنگ غار میں گزارا کرتا ہوں، بڑی محنت سے گھاس پھول حاصل کرتا ہوں، اور یہ بندر کتنے مزے سے تازہ پھل کھاتے اور نرم سبزے پر آرام کرتے ہیں۔ یہ سوچ کر بلبُل نے غصے میں بندروں پر حملہ کر دیا۔
تمام بندر ڈر کر چیختے چلاتے ادھر ادھر بھاگے، لیکن ہزاروں کی تعداد میں جمع ہونے کے باوجود وہ بلبُل کا مقابلہ نہ کر سکے اور بلبُل نے کئی بندروں کو کاٹ کر زخمی کر دیا۔ بڑی مشکل سے بلبُل وہاں سے پہاڑوں کی طرف بھاگ گیا۔ جب بندروں کے بادشاہ شہباز نے واپس آ کر یہ حال دیکھا تو اسے شدید صدمہ ہوا۔ بندروں میں ایک انتہائی عقل مند اور چالاک وزیر تھا (جس کا نام “دانا” تھا۔ دانا نے بادشاہ کو تسلی دی اور کہا کہ مصیبت کے وقت رونے دھونے سے بہتر ہے کہ ہمت اور تدبیر سے کام لیا جائے۔
دانا وزیر نے اپنی قوم کو بچانے کے لیے ایک چال سوچی۔ اس نے بادشاہ شہباز سے کہا کہ وہ اس کے کان نوچ ڈالے، ہاتھ پاؤں توڑ دے اور اسے زخمی حالت میں اسی جزیرے پر پھینک کر خود غاروں میں چھپ جائے۔ بادشاہ نے پہلے تو انکار کیا، لیکن دانا کے اصرار پر اس کے حکم کی تعمیل کی گئی۔
اگلی صبح جب بلبُل اپنے ساتھیوں کے ساتھ دوبارہ اس جزیرے پر آیا، تو اس نے زخمی حالت میں دانا وزیر کو وہاں پڑا پایا۔ دانا نے بڑی عیاری سے بلبُل کو بتایا کہ وہ بادشاہ کا وزیر ہے، اور جب اس نے بادشاہ کو بلبُل پر حملہ کرنے سے منع کیا تو غصے میں آ کر بادشاہ نے اس کی یہ درگت بنا ڈالی ہے۔ بلبُل دانا کی یہ بات سن کر دھوکہ کھا گیا، اور جب اس نے پوچھا کہ بندر اب کہاں ہیں، تو دانا نے کہا کہ وہ ایک خطرناک جنگل میں چھپے ہوئے ہیں اور بلبُل پر حملے کی تیاری کر رہے ہیں۔ دانا نے کہا کہ وہ بلبُل کو خود اس جنگل تک لے کر جائے گا۔
رات کے وقت بلبُل ایک ریچھ کو اپنی پیٹھ پر بٹھا کر شہباز بادشاہ کے لشکر کے ساتھ روانہ ہوا۔ دانا انہیں گھماتے گھماتے ایک ایسے صحرا میں لے آیا جہاں دور دور تک پانی کا نام و نشان نہیں تھا اور شدید گرم ہوا چل رہی تھی۔ وہاں پہنچ کر دانا وزیر بولا: “سورج نکلنے سے پہلے ان تمام ریچھوں کا کام تمام کر دو۔” یہ کہہ کر دانا وزیر خود اس گرم ریت اور تپش میں جل کر ہلاک ہو گیا اور اپنی جان دے کر اپنی قوم کو دشمنوں سے ہمیشہ کے لیے نجات دلائی۔
تیسرے دن بندروں کا بادشاہ شہباز اپنے لشكر کے ساتھ واپس جزیرے پر آیا تو اس نے اپنے پرانے ٹھکانے کو دشمنوں سے مکمل طور پر خالی پایا۔ اس طرح وزیر دانا کی قربانی نے تمام بندروں کی جان بچا لی۔

Leave a Reply

NZ's Corner