وہ رات جب کسان نے اپنے ہی محافظ مار دئے..

وہ رات جب کسان نے اپنے ہی محافظ مار دئے..



رات کے دو بجے تھے۔
کھیت سو رہا تھا، مگر ایک پتے کے نیچے قتل ہو رہا تھا۔

ایک نرم جسم والا ننھا حشرہ پتے سے چمٹا رس چوس رہا تھا کہ اچانک اندھیرے سے دو جبڑے نمودار ہوئے۔ چند لمحوں کی تڑپ اور وہ غائب۔

قاتل وہیں نہیں رکا۔
وہ اگلے شکار کی طرف بڑھ گیا۔
کچھ فاصلے پر ایک اور عجیب واقعہ ہو رہا تھا۔ ایک انتہائی چھوٹی بھڑ خاموشی سے ایک حشرے کے قریب اتری، چند لمحوں کے لیے اس کے جسم پر رکی اور پھر اندھیرے میں غائب ہوگئی۔ شکار زندہ تھا، چل پھر رہا تھا، رس بھی چوس رہا تھا. اسے خبر تک نہ تھی کہ اس کے جسم کے اندر موت رکھ دی گئی ہے۔

اوپر ایک مکڑی کئی گھنٹوں سے بے حرکت بیٹھی تھی۔

زمین پر شکاری بھونرے گشت کر رہے تھے۔

پتوں کے درمیان ننھے شکاری ایک ایک کرکے فصل کے دشمنوں کو ختم کر رہے تھے۔

اور صبح ہونے سے پہلے سینکڑوں فیصلے ہو چکے تھے کہ کون زندہ رہے گا اور کون نہیں۔

یہ کوئی اتفاق نہیں تھا۔
یہ اس کھیت کا وہ خفیہ حفاظتی نظام تھا جسے کسان نے کبھی دیکھا ہی نہیں تھا۔
دن میں اسے صرف فصل کے دشمن نظر آتے تھے۔ رات میں قدرت ان دشمنوں کے خلاف اپنی پوری فوج اتارتی تھی۔ کوئی انہیں کھا رہا تھا، کوئی ان کے جسم میں اپنی نسل چھوڑ رہا تھا، کوئی جال میں پھانس رہا تھا اور کسی کو بیماری اندر ہی اندر ختم کر رہی تھی۔

نہ کوئی تنخواہ۔
نہ کوئی سپرے۔
نہ کوئی بل۔
بس کروڑوں سال میں قائم ہونے والا ایک خاموش توازن۔

پھر ایک صبح کسان کھیت میں آیا۔ اس نے ایک پتا پلٹا۔ چند حشرات دیکھے۔ اس کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔ اور اسی لمحے اس نے ایک ایسا فیصلہ کیا جس کی خبر کھیت کے کسی محافظ کو نہیں تھی۔

شام ڈھلی۔

وہ ننھی بھڑ حسبِ معمول اپنے شکار کی تلاش میں نکلی۔ مکڑی نے نیا جالا مکمل کیا۔ شکاری بھونرے مٹی سے باہر آئے۔ پتوں پر ننھے محافظ اپنی جگہ سنبھال چکے تھے۔ انہیں کیا معلوم تھا کہ آج رات دشمن دوسری طرف سے نہیں آنے والا۔
دور سے ایک مشین کی آواز ابھری۔

گررررررررر

پھر ہوا میں سفید دھند نمودار ہوئی۔
پہلا قطرہ پتے پر گرا۔
دوسرا مکڑی کے جال پر۔
تیسرا اس ننھی بھڑ کے پروں پر
اور چند منٹ بعد پورے کھیت میں موت برس رہی تھی۔
صبح کسان واپس آیا۔
پتوں کے نیچے مردہ حشرات پڑے تھے۔
اس نے ایک کو انگلی سے ہلایا۔
وہ نہیں ہلا۔
کسان مسکرایا اور بولا، کام ہوگیا۔

لیکن اسے معلوم نہیں تھا کہ زمین پر پڑی ان لاشوں میں اس کے دشمن بھی تھے اور اس کی فوج بھی۔

کچھ دن تک کھیت غیر معمولی طور پر پرسکون رہا۔

پھر ایک صبح ایک پتے کے نیچے ایک حشرہ دکھائی دیا۔
پھر دوسرا۔ پھر دس۔ پھر سو۔
وہ واپس آ رہے تھے۔
مگر اس بار منظر مختلف تھا۔
انہیں کھانے والے شکاری کہاں تھے؟
ان کے جسم میں موت رکھنے والی وہ ننھی بھڑ کہاں تھی؟
جال کہاں تھے؟
زمین پر گشت کرنے والے محافظ کہاں تھے؟

میدان خالی تھا۔

اور دشمن کے لیے خالی میدان سے بڑی دعوت کوئی نہیں ہوتی۔

چند ہی دنوں میں تعداد پھر بڑھنے لگی۔ کسان حیران تھا۔ اس نے وہی زہر دوبارہ استعمال کیا۔ کچھ مرے۔ کچھ بچ گئے۔

اس نے پھر سپرے کیا۔
پھر کیا۔

ہر بار کچھ ایسے دشمن زندہ رہ جاتے جنہیں زہر نسبتاً کم متاثر کرتا تھا، اور اگلی نسل انہی بچ جانے والوں سے اٹھتی گئی۔
جس جنگ کو کسان ایک بوتل سے ختم کرنا چاہتا تھا وہ اب لمبی جنگ بن چکی تھی۔

اور کہانی کا سب سے خوفناک حصہ ابھی باقی تھا۔

وہ زہر جسے انسان نے کھیت میں چھوڑا تھا، ضروری نہیں تھا کہ وہیں رک جاتا۔ اس کے اثرات غیر ہدف جانداروں، مٹی اور پانی تک پہنچ سکتے تھے، جبکہ غلط یا غیر ضروری استعمال فصل پر باقیات کا مسئلہ بھی پیدا کر سکتا تھا۔
یعنی گولی دشمن پر چلائی گئی تھی مگر میدان میں اپنے بھی موجود تھے۔

اگلی بار جب آپ کسی پتے پر چند حشرات دیکھیں تو فوراً یہ فیصلہ مت کیجیے گا کہ کھیت بے دفاع ہے۔
ذرا پتے کے نیچے بھی دیکھیے گا۔
ممکن ہے کسی کونے میں ایک شکاری گھات لگائے بیٹھا ہو۔
ممکن ہے ایک ننھی بھڑ ابھی ابھی کسی دشمن کے جسم میں اس کی موت چھوڑ کر گئی ہو۔
ممکن ہے کسی مکڑی کے جال میں اگلا حملہ آور پہلے ہی پھنس چکا ہو۔
اور ممکن ہے قدرت آپ کی فصل کی جنگ آپ سے کہیں پہلے شروع کر چکی ہو۔

ایسے میں سوال یہ نہیں کہ سپرے دشمن کو مار دے گا یا نہیں, اصل سوال یہ ہے کہ جب دھند چھٹے گی تو کھیت میں زندہ کس کی فوج بچے گی؟

Leave a Reply

NZ's Corner