شادی کے پہلے مہینے کے اختتام پر ماں نے اپنی بہو سے نم آنکھوں کے ساتھ مسکرا کر کہا:
“بیٹی! تم نے میرے بیٹے کو مسجد میں نماز کا پابند بنا دیا۔ تم نے تیس دنوں میں وہ کر دکھایا جس میں میں تیس سال کامیاب نہ ہو سکی۔”
بہو نے ادب سے جواب دیا:
“ماں جی! کیا آپ نے پتھر اور خزانے کی کہانی سنی ہے؟”
کہا جاتا ہے کہ ایک بڑا پتھر لوگوں کے راستے میں رکاوٹ بنا ہوا تھا۔ ایک شخص آیا اور اسے ہٹانے کی کوشش کی۔ اس نے پتھر پر 99 وار کیے، مگر وہ نہ ٹوٹا اور وہ تھک کر چلا گیا۔
کچھ دیر بعد دوسرا شخص آیا۔ اس نے کلہاڑی اٹھائی اور ایک ہی ضرب میں پتھر ٹوٹ گیا۔ حیرت انگیز طور پر پتھر کے نیچے سونے سے بھری تھیلی موجود تھی۔
دوسرے شخص نے کہا: “یہ خزانہ میرا ہے، میں نے پتھر توڑا ہے!”
پہلا شخص بولا: “میں نے 99 وار کیے، میرا بھی حصہ بنتا ہے!”
دونوں منصف کے پاس پہنچے۔ منصف نے فیصلہ سنایا:
“خزانے کے 99 حصے پہلے شخص کے اور ایک حصہ دوسرے کے ہوں گے۔ کیونکہ اگر وہ 99 ضربیں نہ ہوتیں تو سوویں ضرب میں پتھر نہ ٹوٹتا۔”
🌷 ماں تیس برس تک اپنے بیٹے کو نماز کی تلقین کرتی رہی، صبر اور دعا کے ساتھ۔ اگرچہ وہ بظاہر کامیاب نہ ہوئی، مگر اس کی ہر نصیحت ایک ضرب تھی، ہر آنسو ایک دعا تھی، ہر سمجھانا ایک بنیاد تھی۔
بہو کا حسنِ اخلاق یہ تھا کہ اس نے کامیابی کا سہرا اپنے سر نہ باندھا، بلکہ ماں کو یقین دلایا کہ اصل محنت اسی کی تھی — میں تو صرف آخری اینٹ رکھنے والی ہوں۔
*اصل اخلاق وہی ہوتا ہے جو کریڈٹ خود لینے کے بجائے دوسروں کی محنت کو تسلیم کرے۔*
اگر آپ نے یہ تحریر مکمل پڑھی ہے تو اپنے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ پر درود بھیجیں 🤲🌹
