کئی برس پہلے کی بات ہے، جام صاحب کے پیر صاحب اوچ شریف کے میلے میں شرکت کے لیے سندھ سے آئے ہوئے تھے۔ میلہ ختم ہوا تو جام صاحب نے عرض کیا، “حضور! اتنی دور سے آئے ہیں، ہمارے غریب خانے کو بھی شرفِ میزبانی بخش دیجیے۔”
پیر صاحب نے شفقت فرمائی اور جام صاحب کے گھر تشریف لے گئے ایک دو پہر کیلئے۔
لیکن جام صاحب کے جیسے ہی گھر میں داخل ہوئے تو پیر صاحب کی نظریں چاروں اطراف گھومنے لگیں۔
کبھی صحن کو دیکھتے، کبھی کمروں کو، کبھی سامان کو۔ پھر حیرت سے بولے، “جام صاحب! ماشاءاللہ! یہ اتنا بڑا گھر؟”
جام صاحب نے فوراً ہاتھ باندھ لیے، “حضور! یہ سب آپ ہی کی کرم نوازی ہے۔ آپ کی دعاؤں کا صدقہ ہے۔ ہم تو کچھ بھی نہیں، جو کچھ ہے آپ کی برکت ہے۔”
پیر صاحب کا ارادہ تو چند لمحوں کا تھا مگر یہ سب کچھ دیکھ کر ارادہ تبدیل ہوگیا۔
جام صاحب پیر صاحب سے فارغ ہو کر بیوی سے کہا، “ذرا کچھ پیسے لے آؤ، پیر صاحب کے لیے شہر سے کچھ اچھا کھانے کو لے آتا ہوں۔”
بیگم نے معصومیت سے بولیں، “وہ سارے پیسے تو کل خرچ ہو گئے تھے۔”
پہلے تو جام صاحب پریشان ہوگئے لیکن پھر اچانک انہیں وہ صندوق یاد آیا جو پیر صاحب میلے سے واپسی پر اپنے ساتھ لائے تھے اور یہ کہہ کر جام صاحب کے پاس رکھ دی کہ، “یہ ذرا سنبھال کر رکھنا، واپسی پر جاتے ہوئے لیتا جاؤں گا۔” جام صاحب نے صندوق کھولا تو اندر نوٹوں کی تہیں لگی ہوئی تھیں۔ میلے میں مریدوں نے دل کھول کر نذرانے دیے تھے۔
وہ کچھ دیر اسے دیکھتے رہے، پھر دل نے عقل کو ایک انتہائی مختصر مشورہ دیا:
جام صاحب نے ایک ہزار کا نوٹ نکالا، ہاتھ میں گھمایا اور خود کو تسلی دی، “اتنے سارے پیسے ہیں، ایک کا پیر صاحب کو کیا پتہ چلے گا؟”
اور ویسے بھی “اتنے سارے پیسے پیر صاحب نے گنے تو ہو گئے نہیں۔”
اور فوراً جام صاحب پیر صاحب سے جاکر پوچھا، “حضور! آج کیا تناول فرمائیں گے؟” پیر صاحب نے ذرا توقف کیا، پھر فرمایا، “مرغ اچھا رہے گا۔” جام صاحب نے گھر والوں کو آواز دی، “حضور کے لیے اچھا سا مرغ تیار کیا جائے”
مرغ آیا، دسترخوان بچھا، پیر صاحب نے کھانا شروع کیا۔ ایک نوالہ لیا، آنکھیں بند کیں اور بولے، “واہ جام صاحب! مزہ آ گیا”
جام صاحب خوش ہو گئے، “حضور! بس آپ خوش رہیں۔”
پیر صاحب نے کہا، “بہت شکریہ!”
جام صاحب فوراً بولے، “حضور! شکریہ کیسا؟ شرمندہ نہ کریں، یہ سب آپ ہی کا تو ہے”
پیر صاحب نے فوراً گردن بلند کی اور پاس بیٹھے مریدوں کی طرف دیکھا۔ مریدوں نے بھی عقیدت سے سر ہلا دیے۔
دوسرے دن صبح جام صاحب نے پھر پوچھا، “حضور! آج کیا پسند فرمائیں گے؟”
پیر صاحب نے فرمایا، “آج ذرا گوشت کھانے کو دل چاہ رہا ہے۔”
جام صاحب نے کہا، “حضور! گوشت نہیں، آج آپ کے لیے تازہ بکرا آئے گا”
دوپہر تک بکرا حاضر تھا۔ پیر صاحب نے خوب کھایا، پیٹ پر ہاتھ پھیرا اور بولے، “جام صاحب! اللہ تمہیں خوش رکھے، آج تو دل باغ باغ ہو گیا۔” جام صاحب نے مسکرا کر جواب دیا، “حضور! آپ خوش ہوں، ہمارے لیے یہی کافی ہے۔” پیر صاحب نے کہا، “آپ نے بڑی زحمت کی۔” جام صاحب نے فوراً کہا حضور شرمندہ نہ کریں، یہ سب آپ ہی کا تو ہے!” پیر صاحب نے پھر مریدوں کی طرف دیکھا۔ اس مرتبہ مریدوں کے چہروں پر وہی عقیدت تھی جو کسی بزرگ کے کرشمے کے بعد ہوتی ہے۔ تیسرے دن جام صاحب نے پوچھا، “حضور! کیا پسند فرمائیں گے؟” پیر صاحب بولے، “مچھلی اچھی رہے گی۔” شام تک مچھلی آ گئی۔ پیر صاحب نے کھائی، تعریف کی اور حسبِ معمول شکریہ ادا کیا۔ جام صاحب نے حسبِ معمول جواب دیا، “حضور! یہ سب آپ ہی کا تو ہے۔” چوتھے دن مٹھائی، پانچویں دن پلاؤ، چھٹے دن کباب اور خشک میوہ؛ پیر صاحب کی فرمائشیں بڑھتی گئیں اور جام صاحب کی مسکراہٹ بھی عجیب طرح سے پھیلتی گئی۔ کیونکہ جب بھی پیر صاحب فرمائش کرتے، جام صاحب صندوق کھولتے، چند نوٹ نکالتے اور پھر خود کو وہی تسلی دیتے، “پیر صاحب نے اتنے پیسے گنے تھوڑی ہوں گے!” اور ہر کھانے کے بعد پیر صاحب جب کہتے، “جام صاحب! آپ نے بہت خدمت کی”، جام صاحب بڑی عاجزی سے کہتے، “حضور! شرمندہ نہ کریں، یہ سب آپ ہی کا تو ہے”۔
ایک ہفتے میں پیر صاحب کو واقعی یقین ہو گیا کہ جام صاحب کی خوش حالی ان کی دعاؤں کا نتیجہ ہے۔ ساتویں دن پیر صاحب نے فرمایا، “جام صاحب! اب کل واپسی کا ارادہ ہے۔ آپ نے بہت خدمت کی۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔” جام صاحب نے دل میں کہا، “اللہ کا شکر ہے!” مگر زبان پر پھر وہی عقیدت بھرا جملہ آیا، “حضور! شرمندہ نہ کریں، یہ سب آپ ہی کا تو ہے۔
اگلی صبح جام صاحب نے پیر صاحب کا صندوق تیار کروایا۔ صندوق کچھ زیادہ ہی وزنی تھا، مگر جام صاحب نے اسے اٹھاتے ہوئے بڑی عقیدت سے کہا، “حضور! آپ کا سامان ہے، احتیاط سے جائے گا۔”
پیر صاحب نے فرمایا، “جام صاحب! آپ نے واقعی بہت خدمت کی۔”
جام صاحب نے آنکھیں جھکا کر کہا، “حضور! پھر وہی بات؟ یہ سب آپ ہی کا تو ہے”
پیر صاحب مسکرا دیے۔ انہیں کیا معلوم کہ جام صاحب کی زبان پر “آپ کا” اور ہاتھ میں “اپنا” والا حساب چل رہا ہے۔
جام صاحب پیر صاحب کو اسٹیشن لے گئے۔ صندوق اٹھایا، ٹرین تک پہنچے، پیر صاحب کو سوار کیا اور پھر صندوق بھی اندر رکھوا دیا۔
ٹرین چلنے لگی تو پیر صاحب نے کھڑکی سے ہاتھ نکال کر کہا، “جام صاحب! اللہ تمہیں بہت دے”
جام صاحب نے ہاتھ ہلایا، “آمین حضور! اور جو کچھ ہے، وہ سب آپ ہی کا تو ہے”
ٹرین چل پڑی۔
کچھ دیر بعد پیر صاحب نے صندوق کھولا تو ایک لمحے کے لیے انہیں لگا شاید سفر کی تھکن نے آنکھوں کو دھوکا دے دیا ہے۔ انہوں نے دوبارہ دیکھا۔
صندوق میں نوٹ تو تھے، مگر وہی پہلے والے نوٹ نہیں تھے۔
پیر صاحب نے جلدی جلدی گننا شروع کیا۔ پھر دوبارہ گنا۔ پھر تیسری بار گنا۔
تین حصے غائب تھے۔
پیر صاحب چند لمحے خاموش بیٹھے رہے۔ پھر اچانک انہیں جام صاحب کے وہ الفاظ یاد آئے:
“حضور! شرمندہ نہ کریں، یہ سب آپ ہی کا تو ہے”
“ہائے! میں سات دن ’یہ سب آپ ہی کا ہے‘ کو اپنی کرامت سمجھ کر پھولا نہیں سما رہا تھا اور جام صاحب مجھے کرامت نہیں، حقیقت کی خبر دے رہا تھا۔
