ڈاکٹر کی قربانی

ڈاکٹر کی قربانی

ڈاکٹر کی وہ قربانی جس نے ایک باپ کو رُلا دیا…ایک دل کو چھو لینے والی کہانی

ایک مشہور ڈاکٹر صبح سویرے ہسپتال پہنچا۔ آج ایک انتہائی نازک آپریشن ہونا تھا۔ مریض ایک کم عمر لڑکا تھا جس کی جان خطرے میں تھی۔

آپریشن تھیٹر کی طرف جاتے ہوئے ڈاکٹر کی نظر ایک پریشان حال شخص پر پڑی جو راہداری میں بے چینی سے ٹہل رہا تھا۔ وہ لڑکے کا باپ تھا۔

جیسے ہی اس نے ڈاکٹر کو دیکھا، تیزی سے اس کے پاس آیا اور قدرے ناراضی سے بولا:

“ڈاکٹر صاحب! آپ کو آنے میں اتنی دیر کیوں ہوئی؟ کیا آپ جانتے ہیں میرا بیٹا زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے؟ اگر آپ کا اپنا بیٹا اس حالت میں ہوتا تو کیا آپ اتنے پرسکون رہتے؟”

ڈاکٹر نے تحمل سے اس کی بات سنی، پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا:

“میں سمجھ سکتا ہوں کہ آپ کس اذیت سے گزر رہے ہیں۔ لیکن یقین رکھیں، میں اپنی پوری کوشش کروں گا۔ اب دعا کیجیے اور مجھے اپنا کام کرنے دیجیے۔”

یہ کہہ کر ڈاکٹر آپریشن تھیٹر میں داخل ہوگیا۔

کئی گھنٹوں تک باپ بے چینی سے دروازے کے باہر بیٹھا رہا۔ ہر گزرتا لمحہ اسے ایک صدی کے برابر محسوس ہو رہا تھا۔

آخرکار آپریشن ختم ہوا۔

ڈاکٹر باہر آیا۔ اس کے چہرے پر اطمینان تھا۔

“مبارک ہو! آپ کا بیٹا اب خطرے سے باہر ہے۔”

یہ کہہ کر وہ رکے بغیر تیزی سے آگے بڑھ گیا۔

باپ حیران رہ گیا۔

“یہ کیسے ڈاکٹر ہیں؟ چند لمحے رک کر میرے سوالوں کا جواب بھی نہیں دے سکتے تھے!”

قریب کھڑی نرس نے اس کی بات سن لی۔ اس کی آنکھیں نم ہوگئیں۔

وہ آہستہ سے بولی:

“آپ شاید نہیں جانتے… آج صبح ڈاکٹر صاحب کے جوان بیٹے کا انتقال ہوا تھا۔ وہ اس کی تدفین کی تیاریوں میں مصروف تھے کہ ہسپتال سے آپ کے بیٹے کی جان بچانے کے لیے فوری بلایا گیا۔”

باپ کے قدم جیسے زمین میں گڑ گئے۔

نرس نے بات جاری رکھی:

“وہ اپنے دل کے ٹکڑے کو دفنانے جا رہے تھے، لیکن اس سے پہلے آپ کے بیٹے کی زندگی بچانے آئے۔ ابھی جو وہ جلدی میں گئے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں اپنے بیٹے کی آخری رسومات میں پہنچنا ہے۔”

یہ سنتے ہی باپ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

اب اسے اپنی تلخ باتیں یاد آ رہی تھیں۔

اس نے سر جھکا لیا اور دل ہی دل میں سوچا:

“ہم اکثر دوسروں کے حالات جانے بغیر ان پر فیصلے سنا دیتے ہیں، حالانکہ ہر مسکراتے چہرے کے پیچھے ایک ان کہی کہانی اور ہر خاموش انسان کے دل میں کوئی نہ کوئی درد چھپا ہوتا ہے۔”

Leave a Reply

NZ's Corner