بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک شہر کے مصروف بازار میں ایک شخص کا گزر ہوا۔ ابھی وہ چند قدم ہی چلا تھا کہ اس کی نظر ایک بہت بڑے ہجوم پر پڑی۔ لوگ دائرہ بنا کر کھڑے تھے، تالیاں بجا رہے تھے اور خوشی سے قہقہے لگا رہے تھے۔ تجسس میں وہ بھی آگے بڑھا۔
اس نے دیکھا کہ ایک بندر نہایت خوبصورتی سے ناچ رہا ہے۔ کبھی قلابازی لگاتا، کبھی لوگوں کو سلام کرتا، کبھی ڈھول کی تھاپ پر ایسا رقص کرتا کہ حاضرین ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو جاتے۔ لوگ خوش ہو کر مٹھی بھر بھر کر سکے اور نوٹ اس کے مالک کی چادر میں ڈال رہے تھے۔
وہ شخص کافی دیر تک یہ منظر دیکھتا رہا۔ اس کی نظریں بندر پر کم اور پیسوں پر زیادہ تھیں۔
واپسی پر اس کے دل میں ایک ہی خیال گردش کرتا رہا۔
“اگر ایک بندر ناچ کر اتنے پیسے کما سکتا ہے تو میں بھی ایک بندر لے آتا ہوں، پھر تو روز ہی دولت برسنے لگے گی۔”
اگلے ہی دن وہ کہیں سے ایک طاقتور اور صحت مند بندر خرید لایا۔ اس نے سوچا کہ جتنا مضبوط بندر ہوگا، اتنا ہی اچھا ناچے گا۔
صبح ہوتے ہی وہ بندر کو لے کر اسی بازار میں پہنچ گیا جہاں کل ہجوم لگا تھا۔
لوگ بھی تجسس میں رک گئے کہ شاید آج بھی کوئی تماشا ہوگا۔
اس شخص نے بندر کے سامنے کھڑے ہو کر زور سے کہا، “چلو… ناچو!”
بندر خاموش بیٹھا رہا۔
اس نے پھر حکم دیا، “ارے ناچو! جلدی ناچو!”
بندر نے صرف گردن گھما کر اس کی طرف دیکھا اور پھر خاموش ہو گیا۔
اب وہ شخص غصے میں آ گیا۔ کبھی اسے دھکا دیتا، کبھی رسی کھینچتا، کبھی زور زور سے ڈانٹتا۔
“ناچ! آخر ناچتا کیوں نہیں؟”
لوگ خاموشی سے یہ سب دیکھ رہے تھے۔
جب بار بار کی ڈانٹ اور کھینچا تانی حد سے بڑھ گئی تو بندر نے اچانک غصے میں آ کر دونوں ہاتھوں سے اس شخص کے چہرے پر جھپٹا مارا۔
چند لمحوں میں اس کے گال نوچ ڈالے، کپڑے پھاڑ دیے اور وہ جان بچا کر بھاگ کھڑا ہوا۔
بازار میں کھڑے لوگ ہنس ہنس کر دوہرے ہو گئے۔
شرمندگی اور زخمی چہرے کے ساتھ وہ شخص ایک طرف بیٹھ گیا۔
اسی وقت ایک سفید ریش بوڑھا وہاں سے گزرا۔ اس نے زخمی شخص کو دیکھا اور پوچھا، “بیٹا، یہ حالت کیسے ہوئی؟”
اس شخص نے سارا قصہ سنا دیا۔
بوڑھا مسکرایا اور بولا، “تم نے صرف آخری منظر دیکھا تھا، آغاز نہیں دیکھا۔”
وہ حیران ہو کر بولا، “کیا مطلب؟”
بوڑھے نے کہا، “جس بندر کو تم نے کل ناچتے دیکھا تھا، اس کے مالک نے اسے برسوں کی محنت سے سکھایا تھا۔ بچپن سے اسے ایک ایک اشارہ سمجھایا، ہزاروں بار مشق کرائی، تب جا کر وہ اس قابل ہوا کہ لوگوں کو خوش کر سکے۔ تم نے صرف اس کی کمائی دیکھی، مگر اس کے پیچھے چھپی ہوئی برسوں کی محنت نہیں دیکھی۔”
پھر بوڑھے نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا،
“دنیا میں اکثر لوگ دوسروں کی کامیابی دیکھ کر وہی راستہ اختیار کر لیتے ہیں، مگر یہ جاننے کی کوشش نہیں کرتے کہ اس کامیابی کے پیچھے کتنی راتوں کی محنت، کتنی ناکامیاں اور کتنا صبر چھپا ہوا ہے۔ جو صرف نتیجہ دیکھ کر نقل کرتا ہے، اسے اکثر وہی ملتا ہے جو آج تمہیں ملا۔”
وہ شخص خاموشی سے سر جھکا کر بیٹھ گیا۔ اس دن اسے پہلی بار احساس ہوا کہ کامیابی کی نقل نہیں کی جا سکتی، صرف اس کے لیے کی گئی محنت کی جا سکتی ہے۔
اخلاقی سبق:
لوگ اکثر دوسروں کی کامیابی دیکھ کر رشک کرتے ہیں، مگر اس کامیابی کے پیچھے چھپی برسوں کی محنت، صبر اور مسلسل مشق نہیں دیکھتے۔ صرف نتیجے کی نقل کرنے والا اکثر ناکام ہوتا ہے، جبکہ محنت کی راہ اختیار کرنے والا ہی حقیقی کامیابی حاصل کرتا ہے۔
