“جج صاحب بیوی کو پہچاننے سے قاصر، تاجر مسکرا رہا تھا، گواہ ثابت قدم تھے، پھر سلطان نے کتے اور کتیا کو عدالت میں بٹھایا، اور اس کے بعد جو کچھ ہوا اس نے انصاف کی نئی تعریف لکھ دی
شادی کے دوسرے مہینے شوہر نے بیوی کو گھر سے نکال دیا، سلطان کے سامنے پیشی پر قاضی اور تین گواہ جھوٹی گواہی دے گئے، لیکن کتے نے عدالت میں ایسا کیا کہ سب کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔
بصرہ شہر کی گلیاں اس وقت سلطان عبدالعزیز کے نام سے آشنا تھیں جب عدالتی فیصلے تلوار سے نہیں، دانائی سے ہوا کرتے تھے۔ سلطان کی عدالت میں انصاف کی ایسی دھاک تھی کہ امیر سے امیر تاجر اور غریب سے غریب مسافر دونوں برابر کھڑے نظر آتے تھے۔ مگر انصاف کی اس دیوار میں بھی شاید ایک شگاف تھا—وہ شگاف جسے رشوت کی انگلیاں بڑی خاموشی سے چوڑا کر رہی تھیں۔
زینب کا باپ بصرہ کے پرانے محلے میں کسرِ پزیر مکان میں رہتا تھا۔ نہ اس کے پاس دولت تھی، نہ کوئی بڑا کاروبار۔ بس ایک بیوہ کی اولاد تھی اور اس کی عزت۔ اسی عزت کے بل بوتے پر اس نے زینب کا نکاح شہر کے مشہور تاجر عبدالرشید سے پڑھا دیا۔
عبدالرشید کی شہرت تھی کہ اس کا شمار بصرہ کے بڑے سوداگروں میں ہوتا ہے۔ اس کے گوداموں میں مصالحے بھرے رہتے، اس کے اونٹ قافلے دمشق تک جاتے۔ مگر آدمی کی دولت اس کی انسانیت نہیں ہوتی۔ یہ سچ زینب کو شادی کے دوسرے دن ہی پتہ چل گیا تھا۔
پہلا مہینہ گزرا تو عبدالرشید نے سوچا کہ شاید یہ لڑکی ٹھیک ہے۔ دوسرے مہینے کی ابتدا میں اسے احساس ہوا کہ اس نے جلدی میں فیصلہ کر لیا۔ اسے زینب میں کوئی عیب نہیں ملا، کوئی ایسی بات نہیں جس کی بنا پر وہ اسے چھوڑ سکے۔ مگر اس کی طبیعت میں ایک بےچینی تھی—وہ عادی تھا بدلنے کا، نئی لذتوں کا، عارضی رشتوں کا۔
ایک دن بغیر کسی وجہ کے، بغیر کسی جھگڑے کے، عبدالرشید نے زینب سے کہا:
“تو میرے لیے نہیں بنی۔ جا اپنے باپ کے گھر واپس چلی جا۔”
زینب کے قدم اکھڑ گئے۔ اس نے سوچا کوئی غلط فہمی ہے۔ کوئی بات ہوئی ہوگی۔ مگر عبدالرشید کا لہجہ ایسا تھا جیسے کوئی سودا ختم کر رہا ہو۔
“حضرت! میرا قصور کیا ہے؟” زینب کی آواز کانپ رہی تھی۔
“قصور کچھ نہیں۔ بس میرا دل نہیں چاہتا۔”
یہ کہہ کر اس نے زینب کا ہاتھ تھاما اور اسے باہر کر دیا۔ گلی میں کھڑی زینب کو دیکھ کر پڑوسنوں نے سر جھٹک دیے۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ اس بے گناہ لڑکی نے ایسا کیا کیا کہ دو ماہ میں گھر سے نکال دی گئی۔
زینب کا باپ بوڑھا تھا، بیمار تھا۔ اس کے پاس نہ طاقت تھی نہ وسائل کہ وہ بڑے تاجر سے لڑ سکے۔ مگر اس کی بیٹی کے آنسو تھے جو رات بھر نہیں رکتے تھے۔
“بیٹی، اب کیا ہو سکتا ہے؟”
“والد محترم، سلطان کی عدالت چلتی ہے نا؟ وہاں انصاف ملتا ہے نا؟”
بوڑھے باپ نے سر جھٹکا۔ “بیٹی، عبدالرشید جیسے آدمی کی عدالت میں پہنچ مشکل ہے۔ وہاں گواہ، وہاں قاضی، سب اس کے جاننے والے ہیں۔”
“پھر بھی، والد محترم۔ صرف ایک بار۔”
زینب نے سلطان کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کیا۔ سلطان عبدالعزیز نے غور سے سنا۔ اس کی نظر زینب کے چہرے پر تھی—وہ جھوٹ نہیں بول رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں سچائی کی روشنی تھی۔
عدالت میں عبدالرشید بلایا گیا۔ وہ مسکراتا ہوا آیا۔ اس کے ساتھ اس کا وکیل تھا، اس کے دوست تھے۔ اسے یقین تھا کہ یہ مقدمہ پانی کی طرح بہ جائے گا۔
سلطان نے پوچھا: “عبدالرشید! کیا یہ عورت تمہاری بیوی ہے؟”
عبدالرشید نے کندھے اچکا دیے۔ “نہیں، حضور۔ میں اسے نہیں جانتا۔”
زینب کی سانس رک گئی۔ اس نے گڑگڑا کر کہا: “حضور! یہ جھوٹ بول رہا ہے۔ دو ماہ میں اس کے گھر رہی۔ اس کے برتن دھوئے۔ اس کے کپڑے سلوئے۔ یہ کیسے کہہ سکتا ہے کہ مجھے نہیں جانتا؟”
سلطان نے عبدالرشید کی طرف دیکھا۔ “تمہارے پاس گواہ ہیں؟”
“جی حضور، قاضی صاحب بھی میرے نکاح میں موجود تھے۔ اور تین گواہ بھی۔”
قاضی صاحب کو بلایا گیا۔ وہ شخص تھا مگر اس کی آنکھیں جھکی ہوئی تھیں۔ اس نے زینب کی طرف دیکھا اور کہا:
“حضور! میں اس عورت کو نہیں جانتا۔ نہ میں نے اس کا نکاح پڑھا، نہ دیکھا۔”
زینب کے منہ سے چیخ نکل گئی۔ “قاضی صاحب! آپ نے خود نکاح پڑھایا تھا۔ آپ نے ہی دعا پڑھی تھی۔”
قاضی خاموش رہا۔
پھر تین گواہ آئے۔ تینوں نے ایک ایک کر کے کہا کہ وہ زینب کو نہیں جانتے، نہ انہوں نے کوئی نکاح دیکھا۔
زینب وہاں کھڑی تھی جیسے کوئی بھوت ہو۔ اس کا وجود، اس کی عزت، اس کا سارا ماضی، سب مٹ رہا تھا۔ انکار کی تلوار سے کاٹا جا رہا تھا۔
عبدالرشید مسکرا رہا تھا۔ اسے یقین تھا کہ اب زینب کے پاس کوئی راستہ نہیں۔
مگر سلطان عبدالعزیز خاموش تھا۔ اس کی نظر زینب کے چہرے پر تھی، پھر عبدالرشید پر، پھر قاضی پر۔ اس کی آنکھوں میں کوئی بات چل رہی تھی۔ کوئی ایسا خیال جو ابھی تک کسی کے ذہن میں نہیں آیا تھا۔
اس نے اپنے وزیر سے کہا: “شہر کے بازار سے ایک بھوکا کتا پکڑ کر لاؤ۔ اور ایک کتیا بھی۔”
عدالت میں خاموشی چھا گئی۔ لوگ ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ کتے اور کتیا کا اس مقدمے سے کیا تعلق؟
عبدالرشید ہنسا۔ “حضور، یہ عورت اپنی جھوٹی گواہی کے ساتھ کھڑی ہے اور حضور کتے منگوا رہے ہیں؟”
سلطان نے جواب نہیں دیا۔ وہ خاموش بیٹھا انتظار کرتا رہا۔
کتا اور کتیا لائے گئے۔ دونوں بھوکے تھے، بدحواس تھے۔ انہیں دیکھ کر لوگ پیچھے ہٹ گئے۔
سلطان نے حکم دیا: “ان دونوں کو ایک جگہ بٹھاؤ۔ اور ان کے سامنے کھانے کی ایک پلیٹ رکھ دو۔”
ایسا ہی کیا گیا۔ کتا اور کتیا ایک دوسرے کے سامنے بیٹھ گئے۔ ان کی آنکھیں کھانے پر تھیں مگر سلطان کے حکم سے کسی نے انہیں کھانا نہیں دیا۔
پھر سلطان نے کہا: “اب ان دونوں کے درمیان ایک شیشہ رکھ دو۔”
شیشہ رکھا گیا۔ کتا اور کتیا اب ایک دوسرے کو نہیں دیکھ سکتے تھے۔ شیشے نے انہیں جدا کر دیا۔
سلطان اٹھے اور عدالت کے بیچ میں آئے۔ انہوں نے زینب کو اشارہ کیا کہ وہ کتے کی طرف چلی جائے۔ اور عبدالرشید سے کہا: “تم کتیا کی طرف چلے جاؤ۔”
سب حیران تھے۔ عبدالرشید نے بے دلی سے کتیا کی طرف قدم بڑھائے۔
پھر سلطان نے حکم دیا: “اب ان کے سامنے کھانا رکھ دو۔”
کتے کے سامنے اور کتیا کے سامنے کھانا رکھ دیا گیا۔ دونوں بھوکے تھے۔ دونوں نے کھانا شروع کر دیا۔
سلطان نے کہا: “اب شیشہ ہٹا دو۔”
شیشہ ہٹایا گیا۔ کتا اور کتیا ایک دوسرے کو دیکھ سکتے تھے۔ مگر وہ کھا رہے تھے۔ ان کی توجہ اپنی اپنی پلیٹ پر تھی۔ دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا بھی نہیں۔
سلطان نے عدالت میں موجود لوگوں سے پوچھا: “کیا یہ ایک دوسرے کو پہچانتے ہیں؟”
لوگ بولے: “نہیں، حضور۔”
سلطان نے کہا: “اب ان کی پلیٹیں بدل دو۔”
کتے کی پلیٹ کتیا کے سامنے رکھ دی گئی، اور کتیا کی پلیٹ کتے کے سامنے۔
کتے نے بغیر کسی تامل کے کتیا والی پلیٹ سے کھانا شروع کر دیا۔ اور کتیا نے بھی اسی طرح کتے والی پلیٹ سے۔
سلطان نے پھر پوچھا: “اب بتاؤ، کیا یہ ایک دوسرے کو پہچانتے ہیں؟”
لوگ خاموش تھے۔
تب سلطان نے کہا: “یہ کتا اور کتیا ایک ساتھ لائے گئے تھے۔ ایک ہی جگہ بٹھائے گئے۔ انہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ مگر جب ان کی اپنی اپنی پلیٹ تھی، تو انہیں ایک دوسرے سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ ان کی پہچان صرف اس پلیٹ تک محدود تھی جو ان کے سامنے تھی۔ پلیٹ بدل گئی تو ان کی توجہ بدل گئی۔”
پھر سلطان نے عبدالرشید کی طرف دیکھا۔
“تم نے زینب کو دو ماہ تک اپنے گھر رکھا۔ وہ تمہارے برتن دھوتی رہی، تمہارے کپڑے سلوتی رہی۔ وہ تمہاری بیوی تھی۔ مگر جب تم نے اسے نکالا اور اس کے سامنے تمہاری اپنی پلیٹ نہیں رہی، تو تم نے اسے پہچاننے سے انکار کر دیا۔ تم کتے سے بھی گئے گزرے ہو، عبدالرشید۔ کیونکہ کتا تو پلیٹ بدلنے پر بھی کھانا کھا لیتا ہے، مگر تم نے ایک انسان کی عزت تک نوچ لی۔”
عدالت میں سناٹا تھا۔ قاضی صاحب کا چہرہ پیلا پڑ گیا۔ گواہوں کے قدم ڈگمگا گئے۔
عبدالرشید نے کہنا چاہا کچھ، مگر سلطان نے ہاتھ ہلا کر اسے خاموش کر دیا۔
“قاضی صاحب! تم نے رشوت لی۔ تم نے جھوٹی گواہی دی۔ تمہارے لیے میری عدالت میں کوئی جگہ نہیں۔ اور عبدالرشید! تم نے ایک عورت کو اس کے جہیز، اس کی عزت، اس کے سب کچھ کے بعد بے یارو مددگار چھوڑ دیا۔ میرا حکم ہے کہ تم زینب کو اس کے حق مہر کے ساتھ دس ہزار درہم بطور تلافی دو۔ اور تمہاری ساری جائیداد ضبط کر کے زینب کے نام کر دی جائے۔”
عبدالرشید کے پاؤں تلے زمین نکل گئی۔ وہ گرتا ہوا بولا: “حضور! رحم کیجیے۔”
سلطان نے کہا: “رحم تو اس وقت کرنا چاہیے تھا جب تم نے اسے گلیوں میں نکالا تھا۔ عدالت میں رحم نہیں، انصاف ہوتا ہے۔”
زینب وہاں کھڑی رو رہی تھی۔ اس کے آنسو اب غم کے نہیں، اس یقین کے تھے کہ اب بھی اس دنیا میں انصاف ممکن ہے۔
—
خلاصہ: انصاف کی عدالت میں کبھی شیشے کی دیواریں نہیں ہونی چاہئیں۔ جو شخص اپنے فائدے کے لیے جھوٹ بول سکتا ہے، وہ کتے سے بھی بدتر ہے۔ زینب کی جیت صرف ایک مقدمہ نہیں تھی، یہ اس یقین کی جیت تھی کہ حق کبھی مرا نہیں کرتا۔ 💔⚖️🕊️
—
سوال: آپ کے مطابق، اگر آج کے معاشرے میں کوئی غریب عورت امیر شوہر کے خلاف انصاف مانگے تو کیا اسے زینب کی طرح انصاف مل سکتا ہے؟ اپنی رائے ضرور دیں۔
