کسان اور بیل

کسان اور بیل



ہم چند دوست بیٹھے ہوئے تھے۔ گفتگو کا سلسلہ جاری تھا کہ ایک دوست نے ایک واقعہ سنایا۔

کہنے لگا کہ کسی زمانے میں ہمارے علاقے میں نظام الدین نام کا ایک شخص رہتا تھا۔ وہ محلے کے سرمایہ دار لوگوں میں شمار ہوتا تھا۔ اس کی فیکٹری میں محلے کے کافی لوگ کام کرتے تھے۔

محلے کے ایک شخص نے کچھ عرصہ پہلے ہی اس فیکٹری میں ملازمت اختیار کی تھی اور اپنے بیٹے کو بھی ساتھ کام پر لگا لیا تھا۔

ایک دن نظام الدین نے اسے دیکھا تو حیران ہو کر پوچھا:

’’تم تو بیل گاڑی چلایا کرتے تھے، اب اپنا کام چھوڑ کر یہاں کیا کر رہے ہو؟‘‘

اس شخص نے اپنی داستان سناتے ہوئے بتایا:

’’صاحب! میرا بیل مر گیا ہے۔ اسی کی وجہ سے میرا روزگار ختم ہو گیا، لہٰذا مجبوراً یہاں ملازمت اختیار کر لی ہے۔ بیٹے کو بھی ساتھ لگا لیا ہے تاکہ گھر کا خرچ چل سکے۔‘‘

نظام الدین نے اس کی بات سنی اور تسلی دیتے ہوئے کہا:

’’کوئی بات نہیں، اللہ مالک ہے۔ تم یہاں کام کرو، باقی اللہ بہتر کرے گا۔‘‘

کچھ دن گزرے تو عیدالاضحیٰ قریب آ گئی۔ نظام الدین اپنے ایک ملازم کے ساتھ قربانی کے جانور خریدنے منڈی گیا۔ وہاں اس کی نظر ایک نہایت خوب صورت اور صحت مند بیل پر پڑی۔ اس نے وہ بیل خریدا اور واپس آ کر اپنے اس ملازم کے حوالے کر دیا جس کا بیل مر گیا تھا۔

ساتھ ہی کہا:

’’جاؤ، اب دوبارہ اپنا کام شروع کرو اور اپنے بیٹے کو بھی اسکول میں داخل کرواؤ۔‘‘

نظام الدین کے ساتھ منڈی جانے والا ملازم یہ سب دیکھ کر حیران رہ گیا۔ اس نے پوچھا:

’’سر! آپ نے تو قربانی کے لیے جانور خریدنا تھا، پھر یہ بیل اس شخص کو کیوں دے دیا؟‘‘

نظام الدین نے جواب دیا:

’’یار! کیا یہ قربانی نہیں ہے؟ اس جانور کو ہم سب نے مل کر کھانا تھا، لیکن اب یہ ایک پورے خاندان کا چولہا جلائے گا۔ پہلے یہ جانور ایک دن کے لیے لوگوں کا پیٹ بھرتا، اب یہ ایک خاندان کو مستقل روزگار فراہم کرے گا۔‘‘

بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ انسان کو اندھی تقلید یا بے مقصد سخاوت کا حکم نہیں دیا گیا۔ اصل مقصد یہ ہے کہ ہمارے کسی عمل سے کسی دوسرے انسان کی زندگی میں بہتری آئے، اس کی مشکلات کم ہوں اور وہ خوش حالی کی طرف بڑھے۔

یہ کیا بات ہوئی کہ ہم لوگوں کو کبھی راشن کی لائن میں کھڑا کر دیں اور کبھی بریانی کی پلیٹ پکڑا کر اپنی ذمہ داری پوری سمجھ لیں، جبکہ وہ لوگ ہمیشہ اسی محتاجی میں زندگی گزارتے رہیں؟

اگر کوئی شخص آپ کے عہدے، سرمایہ، چوہدراہٹ یا رعب و دبدبے کی وجہ سے آپ کا محتاج ہے تو ذرا سوچیے، اس سے حاصل کیا ہوا؟ سرمایہ دار ہونے کا مطلب صرف دولت جمع کرنا یا اپنے رعب سے لوگوں کو مرعوب کرنا نہیں۔ اصل بڑائی تو یہ ہے کہ آپ کسی غریب کی حالت بدلنے کا ذریعہ بنیں، اسے باعزت روزگار دیں، اس کے ساتھ انصاف کریں اور اسے محض ایک مزدور نہیں بلکہ ایک انسان سمجھیں۔

آپ اپنی ہر کوتاہی کو خدا کی مرضی کہہ کر بھی نہیں چھپا سکتے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل، شعور اور اختیار بھی عطا کیا ہے۔ ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ہم اپنی استطاعت کے مطابق دوسروں کی زندگی بہتر بنانے کے لیے کیا کر رہے ہیں۔

دینا بھی سوچ سمجھ کر چاہیے اور لینا بھی۔

زکوٰۃ محض دولت کا ایک حصہ کسی دوسرے کے حوالے کر دینے کا نام نہیں۔ انسان اپنے مال کے ساتھ ساتھ اپنی حیثیت، اپنا رتبہ، اپنا علم، اپنا شعور، اپنا وقت اور اپنا تجربہ بھی دوسروں کی بھلائی کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ گویا جو کچھ بھی آپ کسی دوسرے انسان کی بہتری کے لیے کر سکتے ہیں، اسے اپنی ذمہ داری سمجھ کر کیجیے۔

اصل بات یہ نہیں کہ انسان صرف زکوٰۃ دے، بلکہ اصل کمال یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کو زکوٰۃ اور خدمتِ خلق کے جذبے کے تابع کر دے۔

کسی کو ایک وقت کا کھانا کھلانا نیکی ہے، لیکن اسے اس قابل بنا دینا کہ وہ عمر بھر اپنے بچوں کو عزت سے کھلا سکے، اس سے کہیں بڑی خدمت ہے۔

بقول شاعر:

فرشتوں سے بہتر ہے انسان بننا،
مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ۔
#منقول

Leave a Reply

NZ's Corner