کلہاڑے کی دھار

کلہاڑے کی دھار

ایک لکڑہارا نہایت محنتی اور جفاکش تھا۔ ایک ٹھیکیدار نے اسے روزانہ اپنے لیے درخت کاٹنے کے کام پر رکھ لیا۔ پہلے دن اس نے خوب محنت کی اور 18 درخت کاٹنے میں کامیاب رہا۔ ٹھیکیدار نے اس کی کارکردگی کو سراہا اور اگلے دن مزید دل لگا کر کام کرنے کی ترغیب دی۔
اگلے دن اس نے پہلے سے بھی زیادہ محنت کی، لیکن صرف 15 درخت ہی کاٹ سکا۔ اس سے اگلے دن تمام تر کوششوں کے باوجود وہ محض 12 درخت کاٹ پایا۔
ٹھیکیدار نے اسے اپنے پاس بلایا اور پوچھا: “تمہاری کارکردگی میں دن بہ دن کمی کیوں آ رہی ہے؟”
لکڑہارے نے جواب دیا: “میں پورا وقت دے رہا ہوں اور میری محنت میں بھی کوئی کمی نہیں، لیکن اس کے باوجود کاٹے گئے درختوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔ وجہ میری سمجھ سے باہر ہے۔”
ٹھیکیدار نے پوچھا: “تم نے آخری بار اپنے کلہاڑے کی دھار کب تیز کی تھی؟”
اس نے جواب دیا: “مجھے اس کا نہ تو خیال آیا اور نہ ہی اس کے لیے وقت مل سکا۔”
ٹھیکیدار نے مسکراتے ہوئے کہا: “بس یہی وجہ ہے! تم نے محنت تو پوری کی، لیکن اپنے کلہاڑے کی دھار پر توجہ نہ دی، جس کی وجہ سے تمہاری کارکردگی مسلسل گرتی گئی۔”
حاصلِ کلام:
انسان کی تربیت، اخلاق اور صلاحیتیں اس کے حقیقی ہتھیار ہیں۔ اگر وہ ان کی نشوونما اور بہتری سے غافل ہو جائے، تو خواہ زندگی کا کوئی بھی میدان ہو، اس کی کارکردگی زوال پذیر ہونے لگتی ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner