بھلے دنوں کی بات ہے کہ جب گاؤں میں بجلی نہیں آئی تھی دیسی گھی 60 روپے کلو بیچاجاتا مگر لینے والا کوئی نہیں ہوتا تھا ہر گھر میں دودھ اور دیسی گھی اپنا ہی واافر ہوتا تھا کسی کے گھر اتفاقا کوئی مہمان پدھارتا تو آس پڑوس کے گھر والے دودھ کے مٹکے بھر بھر بھیجتے تھے ہر گھر سے ایک بچہ اپنی استطاعت بھر لسی ، دودھ ، مکھن اور دیسی گھی سے بنی خوراک اٹھائے دوڑتا مہمان خانے کے جانب جا رہا ہوتا ، 5 روپے کی ریگولر کولڈرنک ملا کرتی تھی ، عشاء کے بعد گھر کا کوئی بوڑھا جہاں بیٹھ جاتا تو گھر کے سب بڑے چھوٹے اسکے گرد حلقہ لگا لیتے تھے قصے کہانیوں اور لطیفوں کا دور چلتا تو آس پڑوس کے بوڑھے بچے جوان بھی جمع ہوجاتے ، ساری عورتیں کچّے گارے سے بنے چولھے کے پاس جمع ہو کے دن بھر کے حالات ڈسکس کرتیں ، بوڑھوں کے حلقے میں دیسی حقّے کا سرکل گھوم رہا ہوتا اور ساتھ ہی ساتھ دادوں پردادوں کے کارناموں اور گزرے انسانوں کے قصّے سنائے جاتے اور اس حلقے سے پورے گاؤں کے بچوں کی تربیت ہوتی ،
دن میں کھیتوں زمینوں پہ اگر کسی کی کسی سے تلخ کلامی ہوجاتی تو رات کی اس مجلس میں دلوں کے فاصلے مٹ جایا کرتے ، جو اس محفل سے غیر حاضر ہوتا اسکے گھر کسی مشٹنڈے جوان کو دوڑایا جاتا کہ جاؤ بلا کے لاؤ یا پوچھ کے آؤ کہ آج تم غیرحاضر کیوں ہو؟
سرد گرم راتوں کی یہ مجلس پورے گاؤں کی تربیت کیا کرتی تھی ، بچے خاموشی سے کان کھڑے کیئے بوڑھے جسموں کے حلقوں میں بیٹھے زندگی کے اسباق سیکھا کرتے یعنی ایک بچہ جب اس مجلس سے گھر جانے کو اٹھتا تو اسکے ننھے ذہن میں ایسے مسئلے کا حل محفوظ ہوچکا ہوتا جو اسے تیس سال بعد پیش آنا ہوگا ، اکثر اوقات بچوں کا مستقبل بھی یہیں طے ہوجایا کرتا ، بھلائی کا دور تھا تو جس غریب کی بیٹی جوان ہوتی اسکی شادی میں امداد و تعاون سلسلہ بھی اسی وقت نمٹادیا جاتا، کسی کا لڑکا اگر قمّاش ہوتاتو اسے بھی سب مل جل کے تنبیہ و نصائح یہیں کردیا کرتا، گاؤں کا کوئی فرد پردیس میں ہوتا اسکا ذکر چل پڑتا تو اسکے خطوط پڑھے جاتے اور پھر قہقہوں کے جھرمٹ میں گاوں کی پوری ہفتے کی ساری کارگزاری قلمبند کرکے خط اس پردیسی کو بھیجا جاتا
گویا یہ مجلس بیک وقت درسگاہ ، ہسپتال ، شادی دفتر ، تھانہ ، عدالت کچہری ، ڈاکخانہ سب ہوا کرتی تھی
اور پھر ٹیکنالوجی نے ترقی کرلی ، امریکہ افریقہ سمیت سات برّاعظم انسان کی جیب میں آگئے لیکن انسان اپنے رشتوں سے دور ہوگیا ، باپ فیس بک ٹویٹر پہ معاشرے کی اصلاح کی خاطر 70 سطری کالم لکھنے میں مصروف رہتا ہے لیکن بیٹے کو یہ تک پتہ نہیں کہ اسکی خاندانی روایات کیا ہیں خاندان کا بیک گراؤنڈ آباؤ اجداد کی تاریخ کیا ہے ؟ بڑے بزرگ تو اب اولڈ ہاؤسز کے مکین ہوگئے کسی کے بچے زیادہ بھی نیک ہوں تو گھر کے پچھلے بوسیدہ کمرے میں بوڑھے باپ کا لاغر جسم پرانے تخت پہ پڑا آخری سانسیں گن رہا ہوگا جسے کھانا پہنچانا گھر کے ملازموں یا آیا کی ذمہ داری ہوگی ، اب تو سگی اولاد کو سگے ماں باپ کے پاس بیٹھنے کا وقت نہیں اور ہوگا بھی کیسے “پاپا” کام سے تھکے آتے ہیں تو انھیں ذہنی سکون کے لئے نیٹ فلیکس پہ کوئی اچھی سی ویب سیریز دیکھنی ہوتی ہے ، دادا کے کمرے میں پوتے جا نہیں سکتے کیونکہ انکے کمرے سے “اسمیل ” جو آتی ہے ، 10×12 کے کمرے میں ساتھ بیٹھا دادا اگر بیٹے یا پوتے کو پکارے تو تین بار آواز لگانی پڑتی ہے
دنیا تو چھوٹی ہوگئی ہے لیکن رشتے بکھر گئے ہیں اور اس چیز کو موٹیویشنلز اسپیکرز ، پڑھے لکھے طبقے اور شہری بابوؤں کی زبان میں “کمیونیکیشن گیپ” کہا جاتا ہے
