گاما۔۔۔!

گاما۔۔۔!


ہمارے گاؤں میں ایک شخص “گاما” ہوا کرتا تھا۔ جب بھی اُس کا دل کسی خاص چیز کھانے کو چاہتا، خاص طور پر صبح کی چائے اور پراٹھے، تو وہ چند مخصوص گھروں کا رخ کرتا۔

وہ صبح سویرے کسی گھر کے باہر جا کھڑا ہوتا اور جھاڑو دیتی عورت کو دور سے آواز دیتا، “نیک بخت! تم نے زندگی بھر محنت کی ہے۔ تم جیسی عورت کی قدر نہیں کی گئی، یہ گھر تم نے سنوارا، یہ تمہاری عظمت ہے!” پھر شوہر کی طرف مڑ کر کہتا، “تم خوش نصیب ہو کہ تمہیں ایسی بیوی ملی۔ تم نے تو شاید کبھی سوچا بھی نہ ہو کہ تمہاری بیوی کتنی نیک دل، صابر اور وفادار ہے!” یہ سن کر بیوی، شوہر کی شکایتوں کا دفتر کھول دیتی۔ “ہاں جی، آپ کو تو کسی کی قدر ہی نہیں، سارا دن کام کر کے بھی سنتی ہوں کہ کچھ کرتی نہیں!” گاما ماتھے پر ہاتھ رکھ کر ہمدردی ظاہر کرتا، آہ بھرتا، اور گہری آواز میں کہتا، “دنیا انہی عورتوں پر چل رہی ہے جنہیں کوئی سمجھتا نہیں!” خاتون پھر ہاتھ دھو کر پوچھتی، “چائے پیو گے؟” گاما مسکرا کر کہتا، “صرف چائے؟ نہیں، تمہارے ہاتھ کے پراٹھے تو آج بھی یاد ہیں، لیکن تم تھکی ہوئی لگ رہی ہو، اس لیے زحمت نہ کرو۔” اور پھر تعریفوں کی مٹھاس میں لپٹی ہوئی، وہ خاتون لذیذ پراٹھے اور چائے لے آتی۔ گاما مزے سے کھاتا، چادر جھاڑتا اور اگلے شکار کی طرف نکل جاتا۔

رفتہ رفتہ گاما کی باتوں نے گھروں میں زہر گھولنا شروع کیا۔ جہاں کل تک محبت اور مان تھا، وہاں شک اور فاصلہ آنے لگا۔ عورتیں اپنے شوہروں کی باتوں میں طنز ڈھونڈنے لگیں، اور مرد اپنی بیویوں کے چہروں پر گاما کی تعریفوں کا عکس تلاش کرنے لگے۔ کوئی بیوی سوچتی کہ “شاید میرا شوہر واقعی بے حس ہے”، اور کوئی شوہر دل ہی دل میں کہتا، “گاما کے سامنے تو بہت پارسا بنتی ہے، میرے سامنے وہی جھگڑالو عورت!” یوں چند خوشامدی جملے، چند مصنوعی آہیں، کئی گھروں کی خاموش فضا میں
بدگمانی کی چنگاریاں بن گئے۔

پھر ایک دن گاما خود ہی ایک گھر میں آ کر پھنسا۔ جس خاتون سے وہ روز مسکراہٹیں بانٹتا تھا، اس کا شوہر چھپ کر سب کچھ سننے لگا۔ اور جب گاما اپنے مخصوص انداز میں بولا، “بی بی! تم جیسی عورتیں کم پیدا ہوتی ہیں، خدا تمہیں سلامت رکھے!” تو دروازے کے پیچھے سے ایک آواز گونجی: “اور تم جیسے مرد گاؤں جلانے کے لیے کافی ہوتے ہیں، گاما!” گاما ہکّا بکّا رہ گیا۔ شوہر دروازے پر آیا، آنکھوں میں سختی تھی۔ “چلے جاؤ گاما، اس سے پہلے کہ تمہاری زبان کسی اور کا گھر جلائے۔”
اس دن کے بعد گاما کبھی کسی گھر کے سامنے نہ دیکھا گیا۔ لوگ کہتے ہیں کہ وہ گاؤں چھوڑ کر چلا گیا، مگر اس کی باتوں کی چنگاریاں بہت دنوں تک گھروں میں سلگتی رہیں۔

سبق: گاما جیسے لوگ آگ نہیں لاتے، وہ صرف چنگاری دیتے ہیں۔ اصل آگ ہمارے دلوں میں بھڑکتی ہے — جب ہم کسی اجنبی کی بات کو اپنے رشتوں پر تولنے لگتے ہیں۔ اس لیے ہر تعریف پر نہ ناز کرو، اور ہر ہمدردی پر نہ یقین۔ کیونکہ خوشامد اکثر وہ راستہ ہے جو اعتبار کو جلا دیتا ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner