ایک گاؤں میں ایک کسان کے گھر ایک گدھا اور ایک خرگوش رہتے تھے۔ گدھا برسوں سے اس گھر کا حصہ تھا۔ کسان جب بھی کہیں جاتا، گدھے ہی پر سوار ہو کر جاتا۔ کھیتوں کا بوجھ اٹھانا ہو، منڈی جانا ہو یا دور دراز سفر، ہر مشکل کام گدھے ہی کے ذمے ہوتا۔ اسی وجہ سے گھر میں سب اس کی عزت کرتے تھے، مگر سب سے زیادہ خدمت اگر کوئی کرتا تھا تو وہ خرگوش تھا۔ شام کو گدھا تھکا ہارا واپس آتا تو خرگوش اس کے لیے پانی لاتا، اس کے گرد منڈلاتا، اس کی کمر سے گرد جھاڑتا اور خوب خاطر مدارت کرتا۔
ایک دن خرگوش حسبِ معمول پڑوسی کے کھیت میں گاجریں کھانے جا پہنچا۔ ابھی چند ہی گاجریں کھائی تھیں کہ کھیت کے رکھوالے کتوں نے اسے دیکھ لیا۔ پھر کیا تھا، پورا جھنڈ اس کے پیچھے لگ گیا۔ خرگوش اپنی پھرتی کی وجہ سے جان بچا کر کسی نہ کسی طرح گھر پہنچ گیا، مگر خوف سے اس کا برا حال تھا۔
اس دن شام کو گدھا واپس آیا تو خرگوش نے ہمیشہ سے بھی زیادہ اس کی خدمت شروع کر دی۔ کبھی کان سہلاتا، کبھی ٹانگیں دباتا، کبھی پانی پیش کرتا۔
آخر گدھے نے مسکرا کر پوچھ ہی لیا: “آج بڑی خاطر مدارت ہو رہی ہے، آخر بات کیا ہے؟”
یہ سنتے ہی خرگوش کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
وہ بولا: “جناب! آپ تو صبح مالک کے ساتھ نکل جاتے ہیں۔ دن بھر باہر رہتے ہیں، جہاں وہ کھاتا ہوگا، آپ بھی کھاتے ہوں گے۔ کبھی یہ بھی سوچا کہ ادھر میرا کیا حال ہوتا ہے؟”
گدھا چونکا۔ “آخر ہوا کیا ہے؟”
خرگوش نے سارا قصہ سنا دیا کہ کس طرح ہر روز گاجریں کھانے جاتا ہے اور کھیت کے کتے اس کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔
پھر التجا بھرے لہجے میں بولا: “آپ ایک بار ان کتوں سے بات کر لیں۔ انہیں سمجھا دیں کہ چند گاجریں کھانے سے ان کے مالک کا کیا بگڑتا ہے۔ آپ کی بات وہ ضرور مانیں گے۔”
گدھا دل ہی دل میں گھبرا گیا، مگر خرگوش کی روز روز کی خدمت کا قرض بھی تھا۔ صاف انکار کرتے ہوئے شرم آ رہی تھی۔
کافی دیر سوچنے کے بعد بولا:
“اچھا، کل جب وہ تمہارے پیچھے آئیں تو میرا نام لے کر کہنا کہ گدھے نے پیغام بھیجا ہے، بس اتنا کہنا۔”
خرگوش خوش ہو گیا۔
اگلے دن وہ پھر کھیت میں پہنچا۔ حسبِ توقع، کتوں نے اسے دیکھتے ہی دوڑ لگا دی۔
خرگوش بھاگتے بھاگتے زور زور سے چیخنے لگا:
“گدھے نے پیغام بھیجا ہے! گدھے نے پیغام بھیجا ہے!
پہلے بات تو سن لو!”
مگر کتوں نے ایک نہ سنی۔
خرگوش جان بچا کر گھر آ گیا۔
شام کو گدھا آیا تو خرگوش نے مایوسی سے کہا: “جناب! میں نے آپ کا پیغام بار بار سنایا، مگر کسی نے ذرا بھی توجہ نہ دی۔”
گدھے نے کچھ دیر سوچا، پھر اپنی عزت بچانے کے لیے سنجیدہ چہرہ بنا کر بولا: “مجھے تو لگتا ہے، وہ سب کے سب بہرے ہیں۔”
خرگوش نے فوراً اثبات میں سر ہلایا۔
“جی! مجھے بھی یہی لگتا ہے۔ ورنہ اتنی مرتبہ آپ کا نام لینے کے باوجود وہ کیوں نہ رکتے؟”
اگلے ہی دن خرگوش پھر سے منتیں کرنے لگا۔
“جناب! ایک بار خود چل کر سمجھا دیں۔”
گدھا جان چھڑانے کے لیے بولا:
“ابھی ممکن نہیں۔ مالک ہر وقت میرے ساتھ ہوتا ہے۔ جب کبھی وہ گھر پر نہ ہوگا، تب چلوں گا۔”
اس نے دل میں سوچا کہ ایسا دن شاید کبھی آئے ہی نہ۔
لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔
اگلے دن پڑوس میں ایک شخص فوت ہوگیا۔ مالک تعزیت کے لیے چلا گیا۔
خرگوش خوشی سے اچھل پڑا۔
“جناب! آج تو موقع مل گیا۔ خدا نے ہماری سن لی۔”
اب گدھے کے پاس انکار کی کوئی صورت نہ تھی۔
کچھ دیر خاموش رہا، پھر بولا:
“تم یہیں رہو۔ سفارتی معاملات ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہوتے۔ کہیں تم جذبات میں آ کر بات بگاڑ نہ دو۔ میں اکیلا جاتا ہوں، نرمی سے انہیں سمجھا دوں گا۔”
خرگوش نے بڑی حسرت سے کہا: “مگر میری بھی تو خواہش ہے کہ اپنی آنکھوں سے دیکھوں، جنہوں نے میری اتنی بے عزتی کی، وہ آپ کی بات کیسے مانتے ہیں۔”
گدھے نے مصنوعی سنجیدگی سے جواب دیا: “ہر محفل میں سب کو ساتھ نہیں لے جایا جاتا۔ کچھ باتیں نمائندے ہی کرتے ہیں۔”
یہ کہہ کر وہ روانہ ہو گیا۔
راستے بھر وہ سوچتا رہا کہ پہلے سلام کروں گا، پھر نرمی سے بات شروع کروں گا، پھر انہیں خرگوش کی معصومیت سمجھاؤں گا۔
مگر جیسے ہی وہ کھیت کے قریب پہنچا، کتوں کی نظر اس پر پڑ گئی۔
پھر کیا تھا، ساری تقریر، ساری سفارت اور ساری بہادری ایک لمحے میں ہوا ہو گئی۔
کتے بھونکتے ہوئے اس کی طرف لپکے۔
خرگوش تو پھرتیلا تھا، ایسی صورتِ حال کے لیے ہمیشہ تیار رہتا تھا، مگر گدھا دو ہی قدم بھاگا ہوگا کہ کتوں نے اسے گھیر لیا۔
کسی نے دم پکڑی، کسی نے کان، کسی نے ٹانگ۔
بیچارہ گدھا چیختا رہا اور کتے اپنی ڈیوٹی پوری کرتے رہے۔
کافی دیر بعد جب کتے واپس لوٹے تو گدھے کو ہوش آیا اور بڑی مشکل سے لڑکھڑاتا ہوا گھر پہنچا۔
اس کے جسم پر جگہ جگہ زخم تھے، ایک کان لٹک رہا تھا، دم کی حالت الگ تھی۔
خرگوش دوڑتا ہوا آیا۔
“جناب! یہ کیا ہوا؟ پہلے پانی دیجیے۔
پانی پینے کے بعد گدھے کو کچھ ہوش آیا۔
خرگوش بےتابی سے بولا:
“اب تو بتائیے، آخر وہاں کیا ہوا؟”
گدھے نے ایک لمبی آہ بھری، درد سے کراہتے ہوئے سیدھا ہو کر بیٹھا اور بولا:
“میاں خرگوش، میں تو اب تک یہی سمجھتا تھا کہ وہ صرف بہرے ہیں”
خرگوش نے فوراً پوچھا:
“پھر؟”
گدھے نے بڑی سنجیدگی سے جواب دیا: “مگر آج جا کر ملنے کے بعد معلوم ہوا کہ وہ صرف بہرے ہی نہیں، اندھے بھی ہیں۔”
خرگوش نے افسوس سے سر ہلایا اور بولا:
“میں بھی یہی سوچ رہا تھا، ورنہ آپ جیسی باوقار شخصیت کو دیکھ کر آخر کون ایسا سلوک کرتا”
اخلاقی سبق:
بعض اوقات ہم اپنی مشکل کا حل دوسروں سے چاہتے رہتے ہیں، حالانکہ ہر مسئلہ صرف سفارش یا تعلقات سے حل نہیں ہوتا۔ دوسروں پر ضرورت سے زیادہ بھروسا اکثر خود انہیں بھی مشکل میں ڈال دیتا ہے۔ اسی طرح جو شخص کسی معاملے کا تجربہ نہیں رکھتا، وہ دور سے اسے بہت آسان سمجھتا ہے، مگر جب خود اس کا سامنا کرتا ہے تو حقیقت اس کے تصور سے کہیں زیادہ مختلف نکلتی ہے۔
اور ایک بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ جو لوگ دوسروں کی آزمائش کو معمولی سمجھتے ہیں، اکثر جب خود اسی آزمائش سے گزرتے ہیں تو انہیں احساس ہوتا ہے کہ مشورہ دینا آسان، مگر مصیبت برداشت کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔
