بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔
ایک کسان کے پاس دو جانور تھے۔ ایک خوبصورت، تیز رفتار گھوڑا، اور دوسرا مضبوط مگر سادہ سا گدھا۔
گھوڑا کسان کی شان سمجھا جاتا تھا۔
جب بھی کوئی مہمان آتا، کسان بڑے فخر سے کہتا:
“آئیے، پہلے میرا گھوڑا دیکھیے۔”
وہ باہر کھڑے ہو کر صرف ایک آواز لگاتا:
“ارے میرے شہسوار!”
اور گھوڑا اصطبل سے گرد اڑاتا ہوا دوڑتا چلا آتا۔
مہمان اس کی چال دیکھتے، اس کی گردن سہلاتے، اس کی تعریف کرتے اور کسان کی قسمت پر رشک کرتے۔
یہ سب مناظر اصطبل کے ایک کونے میں کھڑا گدھا خاموشی سے دیکھا کرتا تھا۔
شروع میں وہ صرف دیکھتا رہا، پھر اسے حسرت ہونے لگی
اور آخرکار حسرت نے خواہش کی شکل اختیار کر لی۔
وہ سوچتا: “آخر مجھ میں کیا کمی ہے؟ اگر میں بھی گھوڑے جیسا بن جاؤں تو لوگ میری بھی تعریف کریں، مالک بھی مجھ پر فخر کرے، اور مہمان مجھے دیکھنے آیا کریں۔”
ایک دن اس نے ہمت کر کے گھوڑے سے پوچھ ہی لیا۔
“جناب! آخر آپ جیسا کیسے بنا جا سکتا ہے؟”
گھوڑے نے سر اٹھایا، مسکرایا، پھر خاموشی سے دوبارہ اپنا چارہ کھانے لگا۔
گدھے نے اس خاموشی کو راز سمجھ لیا۔
وہ کئی دن تک گھوڑے کو غور سے دیکھتا رہا۔
اس نے دیکھا کہ گھوڑا چنے بڑے شوق سے کھاتا ہے۔
بس، اس نے فیصلہ کر لیا۔
“راز یہی ہے!”
اگلے ہی دن سے اس نے دوسری خوراک تقریباً چھوڑ دی۔
صبح، دوپہر، شام،
صرف چنے ہی چنے۔
مگر ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ گھوڑا بنتا،
ہوا یہ کہ وہ پہلے سے بھی زیادہ کمزور ہوتا گیا۔
جسم سوکھنے لگا۔
چال ڈگمگانے لگی۔
مگر اسے یقین تھا کہ کامیابی قریب ہے۔
اصطبل میں ایک شریر کتا بھی رہتا تھا۔
وہ گدھے کے دل کا حال جانتا تھا۔
اب اسے ایک نیا کھیل مل گیا۔
دن میں کئی کئی مرتبہ حیرانی کا ڈرامہ کرتا۔
“ارے، معاف کیجیے گا، میں تو پہچان ہی نہیں پایا، مجھے تو آپ گھوڑے لگے!”
گدھا شرما کر کہتا:
“ارے نہیں، میں تو گدھا ہوں۔”
کتا فوراً جواب دیتا: “نام گدھا ہوگا، شکل تو بالکل گھوڑے جیسی ہو گئی ہے”
گدھا باہر سے عاجزی دکھاتا
مگر اندر ہی اندر خوشی سے پھولا نہ سماتا۔
اب وہ چلتا بھی گردن اکڑا کر تھا۔
قدم بھی لمبے لمبے رکھتا۔
کبھی اپنی دم ہلاتا، کبھی بے وجہ ہنہنانے کی ناکام کوشش کرتا۔
اور کتا ہر بار تالیاں بجاتا۔
“واہ! کیا رعب ہے!”
ایک دن گاؤں کا بڑا زمیندار کسان کے گھر آیا۔
چند روز بعد ضلع میں گھوڑوں کی ایک بڑی تقریب ہونے والی تھی، جہاں بہترین گھوڑوں کو بھاری قیمت پر خریدا جانا تھا۔
زمیندار نے آتے ہی کہا:
“سنا ہے تمہارے پاس بڑا عمدہ گھوڑا ہے، ذرا دکھاؤ تو۔”
کسان حسبِ معمول دروازے پر کھڑا ہوا اور بلند آواز میں پکارا۔
“میرے شہسوار!”
اتفاق سے اس وقت گھوڑا اصطبل کے پچھلے حصے میں سو رہا تھا۔
آواز اس کے کان تک نہ پہنچی۔
یہ منظر دیکھ کر کتے کی آنکھیں چمک اٹھیں۔
وہ فوراً گدھے کے کان میں بولا:
“موقع آ گیا!”
گدھا گھبرا گیا۔
“مگر، مالک تو گھوڑے کو بلا رہا ہے”
کتا ہنس کر بولا: “اب بھی خود کو گدھا سمجھتے ہو؟”
“اتنی محنت، اتنے چنے، اتنی مشق، آخر کب کام آئے گی؟”
“جاؤ، آج ثابت کر دو کہ تم بھی گھوڑے ہو۔”
گدھا تو پہلے ہی اس دن کا خواب دیکھ رہا تھا۔
وہ پوری شان سے گردن اکڑا کر، سینہ تان کر اصطبل سے باہر نکلا۔
زمیندار نے جیسے ہی اسے دیکھا
چند لمحے خاموش رہا،
پھر زور زور سے ہنس پڑا۔
“واہ بھئی واہ!”
“یہ ہے وہ مشہور گھوڑا؟”
اس کے ساتھ آئے ہوئے سب لوگ بھی ہنسنے لگے۔
کسان کا چہرہ شرم سے سرخ ہو گیا۔
وہ بار بار کہتا رہا:
“نہیں، نہیں، یہ میرا گھوڑا نہیں، اصل گھوڑا ابھی”
مگر زمیندار نے ہاتھ اٹھا کر بات کاٹ دی۔
“جس آدمی کے اصطبل سے آواز دینے پر گدھا نکلے، اس کے گھوڑے پر بھروسہ کیسے کیا جا سکتا ہے؟”
یہ کہہ کر وہ واپس چلا گیا۔
کسان کے ہاتھ سے زندگی کا بہترین سودا نکل گیا۔
وہ دیر تک خاموش کھڑا رہا۔
پھر آہستہ آہستہ اس کی نظر گدھے پر پڑی،
جو اب بھی اکڑ کر کھڑا تھا، جیسے کوئی بڑا کارنامہ انجام دے آیا ہو۔
کسان نے غصے میں لاٹھی اٹھائی۔
اس دن گدھے کی ایسی خبر لی گئی کہ شام ہوتے ہوتے اس کے جسم کا درد بھی بول رہا تھا۔
کتے نے دور کھڑے ہو کر دیکھا تو آہستہ سے بولا:
“کیسا لگا گھوڑا بننے کا سفر؟”
گدھے نے کراہتے ہوئے جواب دیا:
“آج سمجھ آیا”
“گھوڑا بننے کی کوشش میں، میں اچھا خاصا گدھا بھی نہ رہا تھا۔”
کہتے ہیں، اس دن کے بعد گدھے نے کبھی چنوں کے سہارے قسمت بدلنے کی کوشش نہیں کی، نہ کسی اور کی چال چلنے کی۔
اس نے پہلی بار اپنی رفتار میں چلنا سیکھ لیا۔
اخلاقی سبق:
دوسروں جیسا بننے کی خواہش اکثر انسان سے اس کی اپنی پہچان بھی چھین لیتی ہے۔ تقلید وقتی خوشی تو دے سکتی ہے، مگر عزت نہیں۔ جو اپنی فطرت، اپنی صلاحیت اور اپنی حقیقت کو چھوڑ کر دوسروں کا روپ اختیار کرنا چاہتا ہے، وہ اکثر نہ دوسرا بن پاتا ہے اور نہ خود رہ پاتا ہے۔
