ہر جگہ قابلیت ہی کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتی

ہر جگہ قابلیت ہی کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتی

جنگل کے بادشاہ شیر نے ایک دن اعلان کیا کہ شاہی دربار میں ایک اہم عہدہ خالی ہے اور اس کے لیے پورے جنگل سے امیدوار درخواستیں جمع کرا سکتے ہیں۔ عہدہ بھی معمولی نہیں تھا؛ اسے شاہی دربار کا نگرانِ نظم و انتظام مقرر کیا جانا تھا، یعنی بادشاہ کے قریب رہنا، دربار کے معاملات دیکھنا، مختلف جانوروں کے درمیان رابطہ رکھنا اور اہم مواقع پر بادشاہ کی نمائندگی کرنا۔ اعلان ہوتے ہی جنگل میں جیسے روزگار کی بہار آ گئی۔ ہاتھی نے درخواست دی کہ اس سے زیادہ مضبوط اور ذمہ دار کون ہو سکتا ہے، ریچھ نے کہا کہ طاقت اور تجربے میں اس کا کوئی مقابلہ نہیں، ہرن نے اپنی پھرتی اور خوب صورتی کو قابلیت سمجھا، بھیڑیے نے اپنی بہادری گنوائی، اونٹ نے اپنی برداشت کا حوالہ دیا، بندر نے اپنی حاضر جوابی کو اپنی سب سے بڑی خوبی قرار دیا، اور دیکھتے ہی دیکھتے درختوں کے نیچے امیدواروں کی ایک لمبی قطار لگ گئی۔ لومڑی نے بھی جب یہ خبر سنی تو فوراً درخواست جمع کرا دی، مگر درخواست جمع کرانے کے بعد جب اس نے امیدواروں کی فہرست اور مطلوبہ معیار دیکھا تو کچھ دیر تک خاموش بیٹھی رہی۔ اس نے ایک ایک امیدوار کو ذہن میں رکھا: کوئی اس سے کئی گنا لمبا تھا، کوئی جسامت میں کئی گنا بھاری، کوئی طاقت میں آگے، کوئی رفتار میں، کوئی بہادری میں، کوئی تجربے میں اور کوئی ظاہری وجاہت میں۔ لومڑی نے اپنے آپ کو دم سے ناک تک دیکھا اور زیرِ لب بولی، “قد میں ان سے چھوٹی، جسامت میں ان سے کم، طاقت میں ان سے کم، رفتار میں ہرن سے پیچھے، بہادری میں بھیڑیے سے پیچھے، وزن میں ریچھ سے پیچھے… آخر مجھ میں ایسا کیا ہے جو مجھے یہ نوکری دلوا دے؟” وہ دیر تک سوچتی رہی۔ پھر اس کے ذہن میں ایک خیال آیا۔ لومڑی مسکرائی اور بولی، “نوکری مجھے چاہیے، مگر مسئلہ یہ ہے کہ اگر مقابلہ قابلیت کا ہوا تو میں شاید کبھی نہ جیتوں… پھر کیوں نہ مقابلہ قابلیت کا ہونے ہی نہ دیا جائے؟” یہی وہ لمحہ تھا جب لومڑی نے فیصلہ کیا کہ وہ شیر کو اپنی طاقت نہیں دکھائے گی، بلکہ اپنی کمزوری کو ایسی خوبی بنا کر پیش کرے گی کہ باقی سب کی خوبیاں معمولی لگنے لگیں۔ اگلے دن انٹرویو کے لیے نکلتے ہوئے اسے راستے میں چیونٹیوں کا ایک بڑا قبیلہ دکھائی دیا۔ سینکڑوں چیونٹیاں ایک منظم قطار میں چل رہی تھیں۔ لومڑی رک گئی۔ اس نے چیونٹیوں کے بزرگ سے کہا، “بابا! ایک کام ہے۔ مجھے جنگل کے بادشاہ کے دربار میں نوکری کا انٹرویو دینے جانا ہے، مگر مجھے آپ کی مدد چاہیے۔” بزرگ چیونٹی نے حیرت سے پوچھا، “ہم کیا کر سکتے ہیں؟” لومڑی نے جھک کر اس کے کان میں کچھ کہا۔ بزرگ چیونٹی نے پہلے اسے دیکھا، پھر مسکرایا اور بولا، “تمہاری عقل واقعی تمہاری جسامت سے بڑی ہے۔” لومڑی نے کہا، “بس مجھے ایک درجن بھر جوان اور تیز چیونٹیاں دے دو، باقی کام میں سنبھال لوں گی۔” بزرگ نے فوراً بارہ چیونٹیاں اس کے حوالے کر دیں۔ لومڑی انہیں ساتھ لے کر شاہی دربار پہنچ گئی۔ وہاں جنگل کے بڑے بڑے جانور پہلے ہی موجود تھے۔ ہاتھی، ریچھ، بھیڑیا، ہرن، اونٹ، بندر اور کئی دوسرے جانور اپنی اپنی باری کے منتظر تھے۔ لومڑی نے ایک نظر سب پر ڈالی اور پھر اپنی بارہ چیونٹیوں کو خاموشی سے اشارہ کیا۔ انٹرویو شروع ہوا۔ شیر نے پہلے ہاتھی کو بلایا۔ “ہاتھی! تمہیں کیوں لگتا ہے کہ تم اس عہدے کے لیے موزوں ہو؟” ہاتھی نے سینہ پھلا کر کہا، “بادشاہ سلامت! میں طاقتور ہوں، تجربہ کار ہوں اور میری یادداشت بہت اچھی ہے…” ابھی وہ اپنی قابلیت گنوا ہی رہا تھا کہ اس کی ٹانگ کے قریب ایک چیونٹی نے کاٹ لیا۔ ہاتھی نے اچانک ٹانگ ہلائی، پھر دوسری ٹانگ، پھر اپنی جلد پر سونڈ سے ہاتھ پھیرنے لگا۔ شیر نے حیرت سے پوچھا، “کیا ہوا؟” ہاتھی نے شرمندگی سے کہا، “بادشاہ سلامت… معلوم نہیں، کچھ کاٹ رہا ہے۔” شیر نے کہا، “اچھا، اپنا جواب مکمل کرو۔” ہاتھی نے دوبارہ شروع کیا، “جی حضور، میں کہہ رہا تھا کہ میری طاقت…” پھر دوسری چیونٹی نے کاٹا۔ ہاتھی نے پھر ٹانگ ہلائی۔ دربار میں ہنسی پھیل گئی۔ ہاتھی نے گھور کر زمین دیکھی مگر چیونٹی دکھائی نہ دی۔ اس کے بعد ریچھ آیا۔ شیر نے پوچھا، “تم کیوں سمجھتے ہو کہ یہ عہدہ تمہیں ملنا چاہیے؟” ریچھ نے اعتماد سے جواب شروع کیا، “بادشاہ سلامت! میں مشکل حالات میں ثابت قدم رہتا ہوں…” چیونٹی نے کاٹا۔ ریچھ نے پنجہ گردن پر مارا۔ “جی… میں کہہ رہا تھا… ثابت قدم…” پھر چیونٹی نے دوسری جگہ کاٹا۔ ریچھ نے دانت بھینچے اور کہا، “کچھ عجیب سی خارش ہو رہی ہے، حضور۔” بھیڑیا آیا تو یہی ہوا۔ ہرن آیا تو یہی ہوا۔ اونٹ آیا تو وہ بھی درمیانِ جواب اپنی گردن رگڑنے لگا۔ بندر آیا تو اس نے پہلے مزاح کرنے کی کوشش کی، مگر چند لمحوں بعد خود اپنی کمر کھجانے لگا۔ ہر امیدوار کا جواب ایک ہی جگہ آ کر رک جاتا: “بادشاہ سلامت، معلوم نہیں کیا ہو رہا ہے، کچھ کاٹ رہا ہے… خارش ہو رہی ہے…” شیر آخرکار تنگ آ گیا۔ اسے لگنے لگا کہ آج پورا جنگل ہی کسی نامعلوم بیماری میں مبتلا ہو کر دربار میں آ گیا ہے۔ پھر لومڑی کی باری آئی۔ وہ نہایت اطمینان سے آگے بڑھی، بادشاہ کے سامنے مناسب فاصلے پر بیٹھ گئی اور سر جھکا کر بولی، “السلام علیکم، بادشاہ سلامت۔” شیر نے غور سے اسے دیکھا۔ “لومڑی! تم کیوں سمجھتی ہو کہ تم اس اہم عہدے کے قابل ہو؟” لومڑی نے بڑے سکون سے جواب دیا، “حضور! میں اس دربار کی خدمت کو اپنے لیے اعزاز سمجھوں گی۔ میں اپنی قابلیت کا دعویٰ نہیں کرتی، مگر ایک بات ضرور کہوں گی کہ بادشاہ کے سامنے بیٹھنے کے آداب مجھے معلوم ہیں۔” شیر نے کہا، “اچھا، اپنی خوبیاں بتاؤ۔” لومڑی نے جواب شروع کیا، “بادشاہ سلامت! میں تیز دماغ رکھتی ہوں، حالات کو جلد سمجھ لیتی ہوں، مشکل وقت میں راستہ نکال سکتی ہوں اور سب سے بڑھ کر”  لومڑی نے یہ کہتے کہتے ایک لمحے کو سنسنی دوڑنے کی اداکاری کی۔ شیر نے فوراً پوچھا، “کیا ہوا؟ تمہیں بھی کچھ محسوس ہوا؟” لومڑی نے نہایت سنجیدگی سے کہا، “جی حضور، خارش تو ہو رہی ہے۔” شیر نے حیرت سے کہا، “پھر تم کھجا کیوں نہیں رہیں؟” لومڑی نے سر جھکا کر کہا، “بادشاہ سلامت! تکلیف تو ہے، مگر میں سمجھتی ہوں کہ آپ کے سامنے بیٹھ کر بار بار ہلنا جلنا، جسم کھجانا یا اپنی تکلیف ظاہر کرنا آپ کی شان کے خلاف ہے۔ اگر ایک معمولی خارش کی وجہ سے میں دربار کے آداب بھول جاؤں تو پھر میں آپ کے قریب رہ کر بڑے معاملات کیسے سنبھالوں گی؟” شیر خاموش ہوگیا۔ لومڑی نے بات جاری رکھی، “میں نے دیکھا کہ مجھ سے پہلے آنے والے کئی قابل جانور معمولی تکلیف برداشت نہ کر سکے۔ کوئی ٹانگ ہلاتا رہا، کوئی گردن کھجاتا رہا، کوئی بات کے درمیان رک گیا۔ میں سمجھتی ہوں کہ دربار میں اصل قابلیت صرف طاقت یا جسامت نہیں، اپنے آپ پر قابو رکھنا اور بادشاہ کے وقار کا خیال رکھنا بھی ہے۔” شیر نے پہلی بار باقی امیدواروں کو ایک مختلف نظر سے دیکھا۔ ہاتھی کو دیکھا، جو ابھی تک اپنی ٹانگ رگڑ رہا تھا؛ ریچھ اپنی گردن کھجا رہا تھا؛ بھیڑیا بے چینی سے دم ہلا رہا تھا؛ بندر اپنی کمر پر ہاتھ پھیر رہا تھا۔ پھر شیر نے لومڑی کو دیکھا، جو بارہ چیونٹیوں کے کاٹنے کے باوجود مجسم سکون بنی بیٹھی تھی۔ شیر نے آہستہ سے کہا، “لومڑی! تمہیں واقعی تکلیف نہیں ہو رہی؟” لومڑی نے مسکرا کر جواب دیا، “تکلیف تو ہو رہی ہے حضور، مگر بادشاہ کے سامنے اپنی تکلیف کو اہم سمجھنا میں بادشاہ کی توہین سمجھتی ہوں۔” شیر نے فوراً فیصلہ سنایا، “باقی امیدوار جا سکتے ہیں۔” دربار میں سناٹا چھا گیا۔ لومڑی کی آنکھوں میں وہی چمک واپس آ گئی جو اس دن امیدواروں کی فہرست دیکھتے وقت پیدا ہوئی تھی۔ وہ کامیاب ہو چکی تھی۔ شیر نے اسے شاہی دربار کا نگرانِ نظم و انتظام مقرر کر دیا۔ سب جانور حیران تھے کہ جس لومڑی کا قد سب سے کم، جسامت معمولی اور طاقت کئی امیدواروں سے کم تھی، وہ سب کو پیچھے چھوڑ گئی۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ شیر نے اس کی قابلیت نہیں، اس کی پیش کردہ تصویر دیکھی تھی۔ دربار ختم ہوا تو لومڑی باہر نکلی۔ بارہ چیونٹیاں پہلے ہی درخت کے پیچھے اس کا انتظار کر رہی تھیں۔ لومڑی نے انہیں دیکھا اور ہنس کر کہا، “آج تم نے بارہ بارہ انٹرویو نہیں دیے، صرف ایک نوکری دلائی ہے۔” چیونٹیوں کے بزرگ نے پوچھا، “اور بادشاہ کو کچھ معلوم ہوا؟” لومڑی نے مسکرا کر کہا، “بادشاہ کو وہی معلوم ہوتا ہے جو اسے دکھایا جائے۔” پھر وہ ذرا رک کر بولی، “اصل کام میرٹ کو ہرانا نہیں تھا؛ اصل کام یہ تھا کہ میرٹ کا مطلب ہی بدل دیا جائے۔” دور کھڑے ایک بوڑھے الو نے یہ منظر دیکھا تو آہستہ سے بولا، “جنگل والو! یاد رکھنا، کبھی کبھی سب سے خطرناک امیدوار وہ نہیں ہوتا جو سب سے زیادہ قابل ہو، بلکہ وہ ہوتا ہے جو اپنی کمزوری کو بھی ایسی اداکاری سے خوبی بنا دے کہ فیصلہ کرنے والا دوسروں کی قابلیت بھول جائے۔”

حاصلِ سبق:

جنگل کے بادشاہ شیر نے ایک دن اعلان کیا کہ شاہی دربار میں ایک اہم عہدہ خالی ہے اور اس کے لیے پورے جنگل سے امیدوار درخواستیں جمع کرا سکتے ہیں۔ عہدہ بھی معمولی نہیں تھا؛ اسے شاہی دربار کا نگرانِ نظم و انتظام مقرر کیا جانا تھا، یعنی بادشاہ کے قریب رہنا، دربار کے معاملات دیکھنا، مختلف جانوروں کے درمیان رابطہ رکھنا اور اہم مواقع پر بادشاہ کی نمائندگی کرنا۔ اعلان ہوتے ہی جنگل میں جیسے روزگار کی بہار آ گئی۔ ہاتھی نے درخواست دی کہ اس سے زیادہ مضبوط اور ذمہ دار کون ہو سکتا ہے، ریچھ نے کہا کہ طاقت اور تجربے میں اس کا کوئی مقابلہ نہیں، ہرن نے اپنی پھرتی اور خوب صورتی کو قابلیت سمجھا، بھیڑیے نے اپنی بہادری گنوائی، اونٹ نے اپنی برداشت کا حوالہ دیا، بندر نے اپنی حاضر جوابی کو اپنی سب سے بڑی خوبی قرار دیا، اور دیکھتے ہی دیکھتے درختوں کے نیچے امیدواروں کی ایک لمبی قطار لگ گئی۔ لومڑی نے بھی جب یہ خبر سنی تو فوراً درخواست جمع کرا دی، مگر درخواست جمع کرانے کے بعد جب اس نے امیدواروں کی فہرست اور مطلوبہ معیار دیکھا تو کچھ دیر تک خاموش بیٹھی رہی۔ اس نے ایک ایک امیدوار کو ذہن میں رکھا: کوئی اس سے کئی گنا لمبا تھا، کوئی جسامت میں کئی گنا بھاری، کوئی طاقت میں آگے، کوئی رفتار میں، کوئی بہادری میں، کوئی تجربے میں اور کوئی ظاہری وجاہت میں۔ لومڑی نے اپنے آپ کو دم سے ناک تک دیکھا اور زیرِ لب بولی، “قد میں ان سے چھوٹی، جسامت میں ان سے کم، طاقت میں ان سے کم، رفتار میں ہرن سے پیچھے، بہادری میں بھیڑیے سے پیچھے، وزن میں ریچھ سے پیچھے… آخر مجھ میں ایسا کیا ہے جو مجھے یہ نوکری دلوا دے؟” وہ دیر تک سوچتی رہی۔ پھر اس کے ذہن میں ایک خیال آیا۔ لومڑی مسکرائی اور بولی، “نوکری مجھے چاہیے، مگر مسئلہ یہ ہے کہ اگر مقابلہ قابلیت کا ہوا تو میں شاید کبھی نہ جیتوں… پھر کیوں نہ مقابلہ قابلیت کا ہونے ہی نہ دیا جائے؟” یہی وہ لمحہ تھا جب لومڑی نے فیصلہ کیا کہ وہ شیر کو اپنی طاقت نہیں دکھائے گی، بلکہ اپنی کمزوری کو ایسی خوبی بنا کر پیش کرے گی کہ باقی سب کی خوبیاں معمولی لگنے لگیں۔ اگلے دن انٹرویو کے لیے نکلتے ہوئے اسے راستے میں چیونٹیوں کا ایک بڑا قبیلہ دکھائی دیا۔ سینکڑوں چیونٹیاں ایک منظم قطار میں چل رہی تھیں۔ لومڑی رک گئی۔ اس نے چیونٹیوں کے بزرگ سے کہا، “بابا! ایک کام ہے۔ مجھے جنگل کے بادشاہ کے دربار میں نوکری کا انٹرویو دینے جانا ہے، مگر مجھے آپ کی مدد چاہیے۔” بزرگ چیونٹی نے حیرت سے پوچھا، “ہم کیا کر سکتے ہیں؟” لومڑی نے جھک کر اس کے کان میں کچھ کہا۔ بزرگ چیونٹی نے پہلے اسے دیکھا، پھر مسکرایا اور بولا، “تمہاری عقل واقعی تمہاری جسامت سے بڑی ہے۔” لومڑی نے کہا، “بس مجھے ایک درجن بھر جوان اور تیز چیونٹیاں دے دو، باقی کام میں سنبھال لوں گی۔” بزرگ نے فوراً بارہ چیونٹیاں اس کے حوالے کر دیں۔ لومڑی انہیں ساتھ لے کر شاہی دربار پہنچ گئی۔ وہاں جنگل کے بڑے بڑے جانور پہلے ہی موجود تھے۔ ہاتھی، ریچھ، بھیڑیا، ہرن، اونٹ، بندر اور کئی دوسرے جانور اپنی اپنی باری کے منتظر تھے۔ لومڑی نے ایک نظر سب پر ڈالی اور پھر اپنی بارہ چیونٹیوں کو خاموشی سے اشارہ کیا۔ انٹرویو شروع ہوا۔ شیر نے پہلے ہاتھی کو بلایا۔ “ہاتھی! تمہیں کیوں لگتا ہے کہ تم اس عہدے کے لیے موزوں ہو؟” ہاتھی نے سینہ پھلا کر کہا، “بادشاہ سلامت! میں طاقتور ہوں، تجربہ کار ہوں اور میری یادداشت بہت اچھی ہے…” ابھی وہ اپنی قابلیت گنوا ہی رہا تھا کہ اس کی ٹانگ کے قریب ایک چیونٹی نے کاٹ لیا۔ ہاتھی نے اچانک ٹانگ ہلائی، پھر دوسری ٹانگ، پھر اپنی جلد پر سونڈ سے ہاتھ پھیرنے لگا۔ شیر نے حیرت سے پوچھا، “کیا ہوا؟” ہاتھی نے شرمندگی سے کہا، “بادشاہ سلامت… معلوم نہیں، کچھ کاٹ رہا ہے۔” شیر نے کہا، “اچھا، اپنا جواب مکمل کرو۔” ہاتھی نے دوبارہ شروع کیا، “جی حضور، میں کہہ رہا تھا کہ میری طاقت…” پھر دوسری چیونٹی نے کاٹا۔ ہاتھی نے پھر ٹانگ ہلائی۔ دربار میں ہنسی پھیل گئی۔ ہاتھی نے گھور کر زمین دیکھی مگر چیونٹی دکھائی نہ دی۔ اس کے بعد ریچھ آیا۔ شیر نے پوچھا، “تم کیوں سمجھتے ہو کہ یہ عہدہ تمہیں ملنا چاہیے؟” ریچھ نے اعتماد سے جواب شروع کیا، “بادشاہ سلامت! میں مشکل حالات میں ثابت قدم رہتا ہوں…” چیونٹی نے کاٹا۔ ریچھ نے پنجہ گردن پر مارا۔ “جی… میں کہہ رہا تھا… ثابت قدم…” پھر چیونٹی نے دوسری جگہ کاٹا۔ ریچھ نے دانت بھینچے اور کہا، “کچھ عجیب سی خارش ہو رہی ہے، حضور۔” بھیڑیا آیا تو یہی ہوا۔ ہرن آیا تو یہی ہوا۔ اونٹ آیا تو وہ بھی درمیانِ جواب اپنی گردن رگڑنے لگا۔ بندر آیا تو اس نے پہلے مزاح کرنے کی کوشش کی، مگر چند لمحوں بعد خود اپنی کمر کھجانے لگا۔ ہر امیدوار کا جواب ایک ہی جگہ آ کر رک جاتا: “بادشاہ سلامت، معلوم نہیں کیا ہو رہا ہے، کچھ کاٹ رہا ہے… خارش ہو رہی ہے…” شیر آخرکار تنگ آ گیا۔ اسے لگنے لگا کہ آج پورا جنگل ہی کسی نامعلوم بیماری میں مبتلا ہو کر دربار میں آ گیا ہے۔ پھر لومڑی کی باری آئی۔ وہ نہایت اطمینان سے آگے بڑھی، بادشاہ کے سامنے مناسب فاصلے پر بیٹھ گئی اور سر جھکا کر بولی، “السلام علیکم، بادشاہ سلامت۔” شیر نے غور سے اسے دیکھا۔ “لومڑی! تم کیوں سمجھتی ہو کہ تم اس اہم عہدے کے قابل ہو؟” لومڑی نے بڑے سکون سے جواب دیا، “حضور! میں اس دربار کی خدمت کو اپنے لیے اعزاز سمجھوں گی۔ میں اپنی قابلیت کا دعویٰ نہیں کرتی، مگر ایک بات ضرور کہوں گی کہ بادشاہ کے سامنے بیٹھنے کے آداب مجھے معلوم ہیں۔” شیر نے کہا، “اچھا، اپنی خوبیاں بتاؤ۔” لومڑی نے جواب شروع کیا، “بادشاہ سلامت! میں تیز دماغ رکھتی ہوں، حالات کو جلد سمجھ لیتی ہوں، مشکل وقت میں راستہ نکال سکتی ہوں اور سب سے بڑھ کر” لومڑی نے یہ کہتے کہتے ایک لمحے کو سنسنی دوڑنے کی اداکاری کی۔ شیر نے فوراً پوچھا، “کیا ہوا؟ تمہیں بھی کچھ محسوس ہوا؟” لومڑی نے نہایت سنجیدگی سے کہا، “جی حضور، خارش تو ہو رہی ہے۔” شیر نے حیرت سے کہا، “پھر تم کھجا کیوں نہیں رہیں؟” لومڑی نے سر جھکا کر کہا، “بادشاہ سلامت! تکلیف تو ہے، مگر میں سمجھتی ہوں کہ آپ کے سامنے بیٹھ کر بار بار ہلنا جلنا، جسم کھجانا یا اپنی تکلیف ظاہر کرنا آپ کی شان کے خلاف ہے۔ اگر ایک معمولی خارش کی وجہ سے میں دربار کے آداب بھول جاؤں تو پھر میں آپ کے قریب رہ کر بڑے معاملات کیسے سنبھالوں گی؟” شیر خاموش ہوگیا۔ لومڑی نے بات جاری رکھی، “میں نے دیکھا کہ مجھ سے پہلے آنے والے کئی قابل جانور معمولی تکلیف برداشت نہ کر سکے۔ کوئی ٹانگ ہلاتا رہا، کوئی گردن کھجاتا رہا، کوئی بات کے درمیان رک گیا۔ میں سمجھتی ہوں کہ دربار میں اصل قابلیت صرف طاقت یا جسامت نہیں، اپنے آپ پر قابو رکھنا اور بادشاہ کے وقار کا خیال رکھنا بھی ہے۔” شیر نے پہلی بار باقی امیدواروں کو ایک مختلف نظر سے دیکھا۔ ہاتھی کو دیکھا، جو ابھی تک اپنی ٹانگ رگڑ رہا تھا؛ ریچھ اپنی گردن کھجا رہا تھا؛ بھیڑیا بے چینی سے دم ہلا رہا تھا؛ بندر اپنی کمر پر ہاتھ پھیر رہا تھا۔ پھر شیر نے لومڑی کو دیکھا، جو بارہ چیونٹیوں کے کاٹنے کے باوجود مجسم سکون بنی بیٹھی تھی۔ شیر نے آہستہ سے کہا، “لومڑی! تمہیں واقعی تکلیف نہیں ہو رہی؟” لومڑی نے مسکرا کر جواب دیا، “تکلیف تو ہو رہی ہے حضور، مگر بادشاہ کے سامنے اپنی تکلیف کو اہم سمجھنا میں بادشاہ کی توہین سمجھتی ہوں۔” شیر نے فوراً فیصلہ سنایا، “باقی امیدوار جا سکتے ہیں۔” دربار میں سناٹا چھا گیا۔ لومڑی کی آنکھوں میں وہی چمک واپس آ گئی جو اس دن امیدواروں کی فہرست دیکھتے وقت پیدا ہوئی تھی۔ وہ کامیاب ہو چکی تھی۔ شیر نے اسے شاہی دربار کا نگرانِ نظم و انتظام مقرر کر دیا۔ سب جانور حیران تھے کہ جس لومڑی کا قد سب سے کم، جسامت معمولی اور طاقت کئی امیدواروں سے کم تھی، وہ سب کو پیچھے چھوڑ گئی۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ شیر نے اس کی قابلیت نہیں، اس کی پیش کردہ تصویر دیکھی تھی۔ دربار ختم ہوا تو لومڑی باہر نکلی۔ بارہ چیونٹیاں پہلے ہی درخت کے پیچھے اس کا انتظار کر رہی تھیں۔ لومڑی نے انہیں دیکھا اور ہنس کر کہا، “آج تم نے بارہ بارہ انٹرویو نہیں دیے، صرف ایک نوکری دلائی ہے۔” چیونٹیوں کے بزرگ نے پوچھا، “اور بادشاہ کو کچھ معلوم ہوا؟” لومڑی نے مسکرا کر کہا، “بادشاہ کو وہی معلوم ہوتا ہے جو اسے دکھایا جائے۔” پھر وہ ذرا رک کر بولی، “اصل کام میرٹ کو ہرانا نہیں تھا؛ اصل کام یہ تھا کہ میرٹ کا مطلب ہی بدل دیا جائے۔” دور کھڑے ایک بوڑھے الو نے یہ منظر دیکھا تو آہستہ سے بولا، “جنگل والو! یاد رکھنا، کبھی کبھی سب سے خطرناک امیدوار وہ نہیں ہوتا جو سب سے زیادہ قابل ہو، بلکہ وہ ہوتا ہے جو اپنی کمزوری کو بھی ایسی اداکاری سے خوبی بنا دے کہ فیصلہ کرنے والا دوسروں کی قابلیت بھول جائے۔”

جنگل کے بادشاہ شیر نے ایک دن اعلان کیا کہ شاہی دربار میں ایک اہم عہدہ خالی ہے اور اس کے لیے پورے جنگل سے امیدوار درخواستیں جمع کرا سکتے ہیں۔ عہدہ بھی معمولی نہیں تھا؛ اسے شاہی دربار کا نگرانِ نظم و انتظام مقرر کیا جانا تھا، یعنی بادشاہ کے قریب رہنا، دربار کے معاملات دیکھنا، مختلف جانوروں کے درمیان رابطہ رکھنا اور اہم مواقع پر بادشاہ کی نمائندگی کرنا۔ اعلان ہوتے ہی جنگل میں جیسے روزگار کی بہار آ گئی۔ ہاتھی نے درخواست دی کہ اس سے زیادہ مضبوط اور ذمہ دار کون ہو سکتا ہے، ریچھ نے کہا کہ طاقت اور تجربے میں اس کا کوئی مقابلہ نہیں، ہرن نے اپنی پھرتی اور خوب صورتی کو قابلیت سمجھا، بھیڑیے نے اپنی بہادری گنوائی، اونٹ نے اپنی برداشت کا حوالہ دیا، بندر نے اپنی حاضر جوابی کو اپنی سب سے بڑی خوبی قرار دیا، اور دیکھتے ہی دیکھتے درختوں کے نیچے امیدواروں کی ایک لمبی قطار لگ گئی۔ لومڑی نے بھی جب یہ خبر سنی تو فوراً درخواست جمع کرا دی، مگر درخواست جمع کرانے کے بعد جب اس نے امیدواروں کی فہرست اور مطلوبہ معیار دیکھا تو کچھ دیر تک خاموش بیٹھی رہی۔ اس نے ایک ایک امیدوار کو ذہن میں رکھا: کوئی اس سے کئی گنا لمبا تھا، کوئی جسامت میں کئی گنا بھاری، کوئی طاقت میں آگے، کوئی رفتار میں، کوئی بہادری میں، کوئی تجربے میں اور کوئی ظاہری وجاہت میں۔ لومڑی نے اپنے آپ کو دم سے ناک تک دیکھا اور زیرِ لب بولی، “قد میں ان سے چھوٹی، جسامت میں ان سے کم، طاقت میں ان سے کم، رفتار میں ہرن سے پیچھے، بہادری میں بھیڑیے سے پیچھے، وزن میں ریچھ سے پیچھے… آخر مجھ میں ایسا کیا ہے جو مجھے یہ نوکری دلوا دے؟” وہ دیر تک سوچتی رہی۔ پھر اس کے ذہن میں ایک خیال آیا۔ لومڑی مسکرائی اور بولی، “نوکری مجھے چاہیے، مگر مسئلہ یہ ہے کہ اگر مقابلہ قابلیت کا ہوا تو میں شاید کبھی نہ جیتوں… پھر کیوں نہ مقابلہ قابلیت کا ہونے ہی نہ دیا جائے؟” یہی وہ لمحہ تھا جب لومڑی نے فیصلہ کیا کہ وہ شیر کو اپنی طاقت نہیں دکھائے گی، بلکہ اپنی کمزوری کو ایسی خوبی بنا کر پیش کرے گی کہ باقی سب کی خوبیاں معمولی لگنے لگیں۔ اگلے دن انٹرویو کے لیے نکلتے ہوئے اسے راستے میں چیونٹیوں کا ایک بڑا قبیلہ دکھائی دیا۔ سینکڑوں چیونٹیاں ایک منظم قطار میں چل رہی تھیں۔ لومڑی رک گئی۔ اس نے چیونٹیوں کے بزرگ سے کہا، “بابا! ایک کام ہے۔ مجھے جنگل کے بادشاہ کے دربار میں نوکری کا انٹرویو دینے جانا ہے، مگر مجھے آپ کی مدد چاہیے۔” بزرگ چیونٹی نے حیرت سے پوچھا، “ہم کیا کر سکتے ہیں؟” لومڑی نے جھک کر اس کے کان میں کچھ کہا۔ بزرگ چیونٹی نے پہلے اسے دیکھا، پھر مسکرایا اور بولا، “تمہاری عقل واقعی تمہاری جسامت سے بڑی ہے۔” لومڑی نے کہا، “بس مجھے ایک درجن بھر جوان اور تیز چیونٹیاں دے دو، باقی کام میں سنبھال لوں گی۔” بزرگ نے فوراً بارہ چیونٹیاں اس کے حوالے کر دیں۔ لومڑی انہیں ساتھ لے کر شاہی دربار پہنچ گئی۔ وہاں جنگل کے بڑے بڑے جانور پہلے ہی موجود تھے۔ ہاتھی، ریچھ، بھیڑیا، ہرن، اونٹ، بندر اور کئی دوسرے جانور اپنی اپنی باری کے منتظر تھے۔ لومڑی نے ایک نظر سب پر ڈالی اور پھر اپنی بارہ چیونٹیوں کو خاموشی سے اشارہ کیا۔ انٹرویو شروع ہوا۔ شیر نے پہلے ہاتھی کو بلایا۔ “ہاتھی! تمہیں کیوں لگتا ہے کہ تم اس عہدے کے لیے موزوں ہو؟” ہاتھی نے سینہ پھلا کر کہا، “بادشاہ سلامت! میں طاقتور ہوں، تجربہ کار ہوں اور میری یادداشت بہت اچھی ہے…” ابھی وہ اپنی قابلیت گنوا ہی رہا تھا کہ اس کی ٹانگ کے قریب ایک چیونٹی نے کاٹ لیا۔ ہاتھی نے اچانک ٹانگ ہلائی، پھر دوسری ٹانگ، پھر اپنی جلد پر سونڈ سے ہاتھ پھیرنے لگا۔ شیر نے حیرت سے پوچھا، “کیا ہوا؟” ہاتھی نے شرمندگی سے کہا، “بادشاہ سلامت… معلوم نہیں، کچھ کاٹ رہا ہے۔” شیر نے کہا، “اچھا، اپنا جواب مکمل کرو۔” ہاتھی نے دوبارہ شروع کیا، “جی حضور، میں کہہ رہا تھا کہ میری طاقت…” پھر دوسری چیونٹی نے کاٹا۔ ہاتھی نے پھر ٹانگ ہلائی۔ دربار میں ہنسی پھیل گئی۔ ہاتھی نے گھور کر زمین دیکھی مگر چیونٹی دکھائی نہ دی۔ اس کے بعد ریچھ آیا۔ شیر نے پوچھا، “تم کیوں سمجھتے ہو کہ یہ عہدہ تمہیں ملنا چاہیے؟” ریچھ نے اعتماد سے جواب شروع کیا، “بادشاہ سلامت! میں مشکل حالات میں ثابت قدم رہتا ہوں…” چیونٹی نے کاٹا۔ ریچھ نے پنجہ گردن پر مارا۔ “جی… میں کہہ رہا تھا… ثابت قدم…” پھر چیونٹی نے دوسری جگہ کاٹا۔ ریچھ نے دانت بھینچے اور کہا، “کچھ عجیب سی خارش ہو رہی ہے، حضور۔” بھیڑیا آیا تو یہی ہوا۔ ہرن آیا تو یہی ہوا۔ اونٹ آیا تو وہ بھی درمیانِ جواب اپنی گردن رگڑنے لگا۔ بندر آیا تو اس نے پہلے مزاح کرنے کی کوشش کی، مگر چند لمحوں بعد خود اپنی کمر کھجانے لگا۔ ہر امیدوار کا جواب ایک ہی جگہ آ کر رک جاتا: “بادشاہ سلامت، معلوم نہیں کیا ہو رہا ہے، کچھ کاٹ رہا ہے… خارش ہو رہی ہے…” شیر آخرکار تنگ آ گیا۔ اسے لگنے لگا کہ آج پورا جنگل ہی کسی نامعلوم بیماری میں مبتلا ہو کر دربار میں آ گیا ہے۔ پھر لومڑی کی باری آئی۔ وہ نہایت اطمینان سے آگے بڑھی، بادشاہ کے سامنے مناسب فاصلے پر بیٹھ گئی اور سر جھکا کر بولی، “السلام علیکم، بادشاہ سلامت۔” شیر نے غور سے اسے دیکھا۔ “لومڑی! تم کیوں سمجھتی ہو کہ تم اس اہم عہدے کے قابل ہو؟” لومڑی نے بڑے سکون سے جواب دیا، “حضور! میں اس دربار کی خدمت کو اپنے لیے اعزاز سمجھوں گی۔ میں اپنی قابلیت کا دعویٰ نہیں کرتی، مگر ایک بات ضرور کہوں گی کہ بادشاہ کے سامنے بیٹھنے کے آداب مجھے معلوم ہیں۔” شیر نے کہا، “اچھا، اپنی خوبیاں بتاؤ۔” لومڑی نے جواب شروع کیا، “بادشاہ سلامت! میں تیز دماغ رکھتی ہوں، حالات کو جلد سمجھ لیتی ہوں، مشکل وقت میں راستہ نکال سکتی ہوں اور سب سے بڑھ کر”  لومڑی نے یہ کہتے کہتے ایک لمحے کو سنسنی دوڑنے کی اداکاری کی۔ شیر نے فوراً پوچھا، “کیا ہوا؟ تمہیں بھی کچھ محسوس ہوا؟” لومڑی نے نہایت سنجیدگی سے کہا، “جی حضور، خارش تو ہو رہی ہے۔” شیر نے حیرت سے کہا، “پھر تم کھجا کیوں نہیں رہیں؟” لومڑی نے سر جھکا کر کہا، “بادشاہ سلامت! تکلیف تو ہے، مگر میں سمجھتی ہوں کہ آپ کے سامنے بیٹھ کر بار بار ہلنا جلنا، جسم کھجانا یا اپنی تکلیف ظاہر کرنا آپ کی شان کے خلاف ہے۔ اگر ایک معمولی خارش کی وجہ سے میں دربار کے آداب بھول جاؤں تو پھر میں آپ کے قریب رہ کر بڑے معاملات کیسے سنبھالوں گی؟” شیر خاموش ہوگیا۔ لومڑی نے بات جاری رکھی، “میں نے دیکھا کہ مجھ سے پہلے آنے والے کئی قابل جانور معمولی تکلیف برداشت نہ کر سکے۔ کوئی ٹانگ ہلاتا رہا، کوئی گردن کھجاتا رہا، کوئی بات کے درمیان رک گیا۔ میں سمجھتی ہوں کہ دربار میں اصل قابلیت صرف طاقت یا جسامت نہیں، اپنے آپ پر قابو رکھنا اور بادشاہ کے وقار کا خیال رکھنا بھی ہے۔” شیر نے پہلی بار باقی امیدواروں کو ایک مختلف نظر سے دیکھا۔ ہاتھی کو دیکھا، جو ابھی تک اپنی ٹانگ رگڑ رہا تھا؛ ریچھ اپنی گردن کھجا رہا تھا؛ بھیڑیا بے چینی سے دم ہلا رہا تھا؛ بندر اپنی کمر پر ہاتھ پھیر رہا تھا۔ پھر شیر نے لومڑی کو دیکھا، جو بارہ چیونٹیوں کے کاٹنے کے باوجود مجسم سکون بنی بیٹھی تھی۔ شیر نے آہستہ سے کہا، “لومڑی! تمہیں واقعی تکلیف نہیں ہو رہی؟” لومڑی نے مسکرا کر جواب دیا، “تکلیف تو ہو رہی ہے حضور، مگر بادشاہ کے سامنے اپنی تکلیف کو اہم سمجھنا میں بادشاہ کی توہین سمجھتی ہوں۔” شیر نے فوراً فیصلہ سنایا، “باقی امیدوار جا سکتے ہیں۔” دربار میں سناٹا چھا گیا۔ لومڑی کی آنکھوں میں وہی چمک واپس آ گئی جو اس دن امیدواروں کی فہرست دیکھتے وقت پیدا ہوئی تھی۔ وہ کامیاب ہو چکی تھی۔ شیر نے اسے شاہی دربار کا نگرانِ نظم و انتظام مقرر کر دیا۔ سب جانور حیران تھے کہ جس لومڑی کا قد سب سے کم، جسامت معمولی اور طاقت کئی امیدواروں سے کم تھی، وہ سب کو پیچھے چھوڑ گئی۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ شیر نے اس کی قابلیت نہیں، اس کی پیش کردہ تصویر دیکھی تھی۔ دربار ختم ہوا تو لومڑی باہر نکلی۔ بارہ چیونٹیاں پہلے ہی درخت کے پیچھے اس کا انتظار کر رہی تھیں۔ لومڑی نے انہیں دیکھا اور ہنس کر کہا، “آج تم نے بارہ بارہ انٹرویو نہیں دیے، صرف ایک نوکری دلائی ہے۔” چیونٹیوں کے بزرگ نے پوچھا، “اور بادشاہ کو کچھ معلوم ہوا؟” لومڑی نے مسکرا کر کہا، “بادشاہ کو وہی معلوم ہوتا ہے جو اسے دکھایا جائے۔” پھر وہ ذرا رک کر بولی، “اصل کام میرٹ کو ہرانا نہیں تھا؛ اصل کام یہ تھا کہ میرٹ کا مطلب ہی بدل دیا جائے۔” دور کھڑے ایک بوڑھے الو نے یہ منظر دیکھا تو آہستہ سے بولا، “جنگل والو! یاد رکھنا، کبھی کبھی سب سے خطرناک امیدوار وہ نہیں ہوتا جو سب سے زیادہ قابل ہو، بلکہ وہ ہوتا ہے جو اپنی کمزوری کو بھی ایسی اداکاری سے خوبی بنا دے کہ فیصلہ کرنے والا دوسروں کی قابلیت بھول جائے۔”

حاصلِ سبق: ہر جگہ قابلیت ہی کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتی۔ بعض اوقات چالاک لوگ اپنی اصل کمزوریوں کو چھپا کر ایسی تصویر بنا دیتے ہیں کہ سامنے والا حقیقت کے بجائے تاثر کو میرٹ سمجھ بیٹھتا ہے۔ ہمیں کسی شخص کے بارے میں فیصلہ صرف اس بات پر نہیں کرنا چاہیے کہ وہ کتنا پُراعتماد، باوقار یا ذہین دکھائی دیتا ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ اس کے دعوے کے پیچھے حقیقی قابلیت، کردار اور عمل کتنا ہے۔ ورنہ بارہ چیونٹیاں بھی کسی کو ایسا قابل بنا سکتی ہیں کہ ہاتھی، ریچھ اور بھیڑیا اپنی اپنی قابلیت کے باوجود نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔

Leave a Reply

NZ's Corner