ایک بادشاہ کے دربار میں ایک انگریز، ایک ہندو اور ایک مسلمان چوری کرتے ہوئے پکڑے گئے۔ معاملہ چونکہ شاہی دربار کا تھا، اس لیے بادشاہ سلامت نے فیصلہ کیا کہ مثال قائم کی جائے۔

وزیروں کو حکم ملا کہ تینوں کو میدان میں لایا جائے اور شہر کے سب لوگوں کو بھی بلایا جائے تاکہ سب دیکھ لیں کہ دربار میں چوری کرنے کا انجام کیا ہوتا ہے۔
اعلان ہوا:
“تینوں کو ڈیڑھ سو ڈیڑھ سو کوڑے مارے جائیں گے، اور سزا سے پہلے ہر ایک کی ایک خواہش بھی پوری کی جائے گی!”

سب سے پہلے انگریز کو بلایا گیا۔ جلاد نے کوڑے سنبھالے تو بادشاہ نے پوچھا:
“تمہاری خواہش؟”
انگریز فوراً بولا:
“میرے جسم پر نرم روئی باندھ دی جائے۔”
بادشاہ نے اجازت دی۔ روئی باندھی گئی، کوڑے پڑے… مگر پھر بھی انگریز چیخنے چلانے لگا۔

اب باری آئی ہندو کی۔ اس نے انگریز کا حال دیکھ رکھا تھا، فوراً بولا:
“میرے اوپر ڈبل روئی باندھی جائے!”
سوچا تھا درد کم ہوگا، مگر جب کوڑے پڑے تو اس کی آواز بھی میدان میں گونجنے لگی۔

آخر میں مسلمان کو بلایا گیا۔ سب نے سمجھا شاید وہ بھی روئی مانگے گا۔
بادشاہ نے پوچھا:
“بتاؤ، تمہاری خواہش کیا ہے؟”

مسلمان مسکرایا اور بولا:
“بادشاہ سلامت! مجھے ڈیڑھ سو نہیں، پورے دو سو کوڑے مارے جائیں…
لیکن شرط یہ ہے کہ میرے اوپر پہلے انگریز کو باندھا جائے، پھر ہندو کو!”
آہ غُربت 😜🤪😃😁🤣

Leave a Reply

NZ's Corner