سچائی کی ایک انمول قیمت

لندن میں ایک پاکستانی کئی برسوں سے رہ رہا تھا۔ ایک دن اس نے بتایا کہ وہ وہاں ایک مقامی انگریز جوڑے کے ساتھ رہتا تھا۔ ان کی ابھی نئی نئی شادی ہوئی تھی۔ وہ خود گھر کے ایک حصے میں رہتے تھے جبکہ دوسرا حصہ انہوں نے مجھے کرائے پر دیا ہوا تھا۔ اسی دوران ان کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا۔ ہمارے درمیان کبھی کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوا۔ ہر مہینے کے آخر میں میں باقاعدگی سے انہیں کرایہ ادا کر دیا کرتا تھا۔

ہم پورے بارہ سال تک اکٹھے رہے۔ نہ انہوں نے کبھی مجھے کوئی تکلیف دی اور نہ میری طرف سے انہیں کبھی کوئی دکھ پہنچا۔

ایک دن انہوں نے مجھ سے پوچھا: “کل آپ کی کیا مصروفیت ہے؟”

میں نے جواب دیا: “کل میری چھٹی ہے اور میں گھر ہی میں رہوں گا۔”

یہ سن کر انہوں نے خوشی کا اظہار کیا اور کہا: “مسٹر ظفر! ہم آپ سے ایک چھوٹی سی درخواست کرنا چاہتے ہیں۔”

میں نے کہا: “جی ضرور، حکم کیجیے۔”

انہوں نے بتایا: “ہمیں ایک نہایت ضروری کام کے سلسلے میں شہر سے باہر جانا ہے۔ اگر آپ گھر پر موجود ہوں تو ہم اپنے بیٹے (ڈگلس) کو ساتھ نہیں لے جا سکتے۔ مہربانی کر کے آپ ڈگلس کا خیال رکھ لیجیے گا۔”

میں نے مسکرا کر کہا: “یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ میں آپ کے کام آ سکوں۔”

یہ طے پایا کہ وہ صبح روانہ ہو جائیں گے اور میں ان کے حصے میں آ کر رہوں گا۔

صبح جب وہ گاڑی میں بیٹھ رہے تھے تو انہوں نے ہاتھ ہلا کر گڈ مارننگ کہا اور میں سیدھا ان کے پورشن میں چلا گیا۔ ڈگلس تقریباً نو سال کا تھا۔ وہ صوفے پر بیٹھا لیپ ٹاپ پر کچھ کر رہا تھا۔ میں نے اسے گڈ مارننگ کہا تو اس نے مسکرا کر جواب دیا۔

میں نے پوچھا: “ناشتہ کیا ہے؟”

اس نے انکار میں سر ہلا دیا۔ میں فوراً کچن میں گیا جہاں ناشتہ تیار رکھا تھا۔ میں ٹرے لے آیا اور اس کے سامنے رکھ دی۔ اس نے لیپ ٹاپ ایک طرف رکھا اور ناشتہ کرنے لگا۔ ناشتہ ختم کرنے کے بعد اس نے ٹرے میں رکھا دودھ کا گلاس اٹھایا، جو اس کے ہاتھ سے پھسل کر نیچے گر گیا اور ٹوٹ گیا۔

وہ شرمندگی سے میری طرف دیکھنے لگا۔ میں نے اسے تسلی دی: “کوئی بات نہیں، میں صفائی کر دیتا ہوں۔”

میں نے شیشے کے ٹکڑے اکٹھے کر کے شاپر میں ڈالے، فرش صاف کیا اور ٹوٹے ہوئے گلاس کے ٹکڑے باہر کچرے میں پھینک دیے۔ پھر میں اپنے حصے میں گیا، وہاں سے بالکل ویسا ہی ایک گلاس لے آیا اور کچن میں رکھ دیا۔

ڈگلس اب بھی شرمندہ تھا۔ میں نے اس سے کہا: “پریشان نہ ہو، میں نے اسی جیسا گلاس رکھ دیا ہے، کسی کو کچھ بتانے کی ضرورت نہیں۔”

پھر ہم سارا دن کھیلتے رہے۔ شام کو اس کے والدین واپس آ گئے۔ انہوں نے میرا شکریہ ادا کیا اور کہا: “آج ہمارے ساتھ ڈنر کریں، پھر جانا۔”

ڈنر کے دوران وہ مسلسل میرے لیے اچھے الفاظ کہتے رہے۔ بعد میں میں ان سے اجازت لے کر اپنے پورشن میں واپس آ گیا۔

اگلی صبح چھ بجے میرے دروازے پر دستک ہوئی۔ میں نے دروازہ کھولا تو ڈگلس کے والدین سامنے کھڑے تھے۔ میں حیران رہ گیا۔ انہوں نے کہا: “مسٹر ظفر! آپ ایک اچھے انسان ہیں، ہمیں کبھی آپ سے کوئی شکایت نہیں ہوئی، لیکن اب آپ اپنے لیے کوئی اور گھر تلاش کریں اور ہمارا گھر جلد خالی کر دیں۔”

میں نے حیرت سے پوچھا: “اتنی جلدی کیوں؟ میں نے کیا کیا ہے؟”

انہوں نے جواب دیا: “مسٹر ظفر! آپ نیک انسان ہیں، لیکن کل آپ نے ہمارے بیٹے کو جھوٹ بولنے کی ترغیب دی۔ اسی وجہ سے ہم آپ کو خود سے الگ کرنے پر مجبور ہیں۔”

میں نے کہا: “کون سا جھوٹ؟”

انہوں نے کہا: “گلاس ٹوٹ گیا، یہ کوئی بڑی بات نہیں تھی، لیکن آپ نے ہمارے بیٹے سے کہا کہ اس بات کا کسی سے ذکر نہ کرے۔ ہم اپنے بیٹے کو ہمیشہ سچ بولنا سکھاتے ہیں۔ اس نے ہمیں ساری بات بتا دی ہے۔

اب ہمیں ڈر ہے کہ کہیں آپ کے ساتھ رہتے ہوئے ہمارے بچے پر جھوٹ کا اثر نہ پڑ جائے، اس لیے براہِ کرم کسی اور جگہ اپنا بندوبست کریں۔ شکریہ۔”

یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ سچائی کی تربیت الفاظ سے نہیں بلکہ عمل سے ہوتی ہے، اور ایک چھوٹی سی بات بھی بچوں کے کردار پر گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو مجھے فالو ضرور کریں

Leave a Reply

NZ's Corner