دو ٹھگ😃
یہ اُس زمانے کی بات ہے جب سکے اور نوٹ ایجاد نہیں ہوئے تھے۔ اُس وقت لوگ بارٹر سسٹم پر گزارہ کرتے تھے، یعنی گندم دے کر دودھ لینا، یا چاول کے بدلے کپڑا۔ ہر چیز کا مول دوسری چیز ہی سے چکایا جاتا۔
ایسی ہی ایک بستی میں دو مشہور ٹھگ رہا کرتے تھے۔ دونوں کی شہرت یہ تھی کہ فریب میں استاد اور چالاکی میں یکتا ہیں۔ ہر کوئی ان کی عیاری سے ڈرتا تھا، لیکن دونوں ایک دوسرے سے بھی کم نہ تھے۔
ایک دن ایک ٹھگ نے لکڑی کی ایک لمبی تلوار بنائی۔ اُس کے کنارے پر لوہے کی نوک کس دی اور پھر اسے اتنے کمال سے رنگ روغن کیا کہ دیکھنے والا یہی سمجھے کہ یہ بالکل اصلی اور خطرناک تلوار ہے۔ وہ خوشی خوشی اسے بیچنے کے لیے منڈی روانہ ہوا۔
ادھر دوسرا ٹھگ بھی اپنے فن میں کمال دکھا رہا تھا۔ اُس نے ایک بالٹی میں گوبر بھرا اور اُس کے اوپر خالص دیسی گھی کی پتلی سی تہہ جما دی۔ بالٹی دیکھنے والا یہی سمجھے کہ یہ گھی سے لبالب بھری ہے۔ وہ بھی بیچنے کے جوش میں منڈی کی طرف نکل پڑا۔
قسمت کا کھیل دیکھو! منڈی میں دونوں کا آمنا سامنا ہو گیا۔
تلوار والا بولا:
“بھیا! میری بیوی کو خالص دیسی گھی بڑا پسند ہے۔ یہ نایاب تلوار لے لو اور بدلے میں مجھے یہ بالٹی دے دو۔”
گھی والا فوراً بولا:
“بھیا! میں بھی بڑا جنگجو مزاج آدمی ہوں، کبھی دشمنوں سے نمٹنے کے لیے ہتھیار چاہییں۔ سو یہ سودا میرے لیے گھاٹے کا نہیں۔”
یوں دونوں نے بغیر جانچ پڑتال کے سودا پکا کر لیا۔ دونوں کے دل خوش تھے کہ آج قسمت نے بڑی یاوری کی ہے۔
تلوار والا جب گھی کی بالٹی لے کر گھر پہنچا تو خوشی سے بیوی کو آواز دی:
“دیکھو آج تمہارے لیے خالص دیسی گھی لایا ہوں!”
بیوی دوڑی آئی، چمچ بالٹی میں ڈالا۔ اوپر تو گھی تھا، لیکن جونہی نیچے تک پہنچی، تو آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں—نیچے تو سڑا ہوا گوبر بھرا ہوا تھا!
ادھر گھی والا بھی تلوار لے کر اپنی بیوی کے سامنے اکڑتا ہوا بولا:
“دیکھو، یہ کیسی شان دار تلوار لایا ہوں!”
یہ کہہ کر اُس نے جوش میں آ کر تلوار کو درخت کے تنے پر مارا۔ دھڑام! اگلے ہی لمحے لوہے کی نوک الگ ہو کر دور جا گری۔ تلوار بے کار لکڑی کا ڈنڈا بن گئی۔
یہ دیکھ کر گھی والا ہنس کر طنزیہ بولا:
“چل پُتر، خیر ہے… تُوں وی تلوار نال بندے نہ مارے!”
تلوار والا بھی مسکرا کر چوٹ کَس گیا:
“چل پُتر، خیر اے… توں وی اپنڑی رن نوں دیسی کیو نہ کھوایا!”
سبق: یہ ہے کہ اگر تم ٹھگ نہیں ہو اگر تمہارے پاس حق حلال کے پیسے ہیں تو جو چیز خریدنی ہو اچھی طرح دیکھ بھال کر خریدو
کبھی کبھی جب ہم کوئی چیز خریدنے جاتے ہیں منڈی یا بازار میں تو بیچنے والا زیادہ چیک کرنے نہیں دیتا کیونکہ اس کی چیز میں ضرور کوئی نہ کوئی گڑبڑ ہوتی ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ یہ آدمی سمجھدار ہے تو ناگواری کا مظاہرہ کرتا ہے یا بے رخی سے کہہ دیتا ہے بھائی مٹی ہے سونا ہے یہی چیز ہے لینی ہے تو لو نہیں تو آگے بڑھ جاؤ
اصل میں وہ کسی سیدھے سادھے انسان کا انتظار کر رہا ہوتا ہے جو چیز زیادہ چیک بھی نہ کرے نہ زیادہ سمجھ بوجھ رکھتا ہو بس پیسے دے اور لے جائے
جس کے پاس پیسے ہوں اسے چاہیے ایسے لوگوں سے بچے اصل میں وہ ٹھگ ہوتے ہیں
اور دوسری طرف جو بندہ نیک نیت ہوتا ہے اس کی چیز میں کوئی خلل نہیں ہوتا اگر تم اس کی چیز کو ایک گھنٹہ بھی چیک کرو تو وہ پرسکون کھڑا رہے گا بلکہ تمہیں اپنا نمبر اور پتہ بھی دے دے گا کہ اگر میری چیز میں کوئی مسئلہ ہوا تو تم مجھے واپس کر سکتے ہو
اگر آپ کو یہ معلومات اچھی لگیں، تو دوسروں کے ساتھ شیئر کریں تاکہ سب کو فائدہ ہو!
