ایک بار جنگل میں خوفناک آگ لگ گئی۔ آگ کے خوف سے تمام جانور اپنی جان بچا کر بھاگ گئے۔ جنگل میں ایک چڑیا کا گھونسلہ بھی تھا۔ جب اس نے آگ دیکھی تو فوراً اُڑی اور جنگل کے قریب بہنے والی ندی کے کنارے جا پہنچی۔ وہ اپنی چونچ میں پانی کی چند بوندیں بھر لاتی اور واپس آ کر جنگل کی آگ پر ڈالتی۔ وہ یہ عمل بار بار کرتی رہی۔
اسی دوران شیر کی نظر اس پر پڑی۔ شیر نے طنزیہ انداز میں کہا،
“اے نادان چڑیا! تیری یہ چند بوندیں کہاں اس خوفناک آگ کو بجھا سکتی ہیں؟”
چڑیا نے پُرعزم لہجے میں جواب دیا:
“بات آگ بجھانے کی نہیں۔ بات اپنی ذمہ داری ادا کرنے کی ہے۔
مجھے معلوم ہے کہ میری چند بوندیں جنگل کی آگ نہیں بجھا سکتیں، لیکن جب آخرت میں اللہ تعالیٰ مجھ سے سوال کرے گے کہ آگ لگی تھی تو تم نے کیا کیا؟
تو میں یہ تو کہہ سکوں گی کہ
اے اللہ! میں نے اپنی ہمت اور استطاعت کے مطابق اپنا حق ادا کیا تھا۔”
چڑیا نے بات ختم کرتے ہوئے کہا،
“کیا معلوم…! تب اللہ فرما دے:
جا، میں تجھ سے راضی ہوں، تُو نے کم از کم کوشش تو کی تھی۔”
میں کئی بار مولویوں پر تنقید کرتا ہوں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں ملحد، کافر، قادیانی یا لبرل ہوں۔
میں اکثر سیاسیوں پر تنقید کرتا ہوں تو ہرگز اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں کسی مخصوص پارٹی کا کارکن ہوں۔
میں کئی بار فوج اور جرنیلوں پر بھی تنقید کرتا ہوں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں کوئی غدار یا باغی ہوں۔
مجھے اپنے وطن سے بہت پیار ہے، علماء کی دل میں عزت ہے۔ دینِ اسلام اور ناموسِ رسالت کے لیے جان بھی جاتی ہے تو جائے۔
میں تو وہ ہوں جس نے خدا سے ہمیشہ یہی دعا مانگی کہ یااللہ میری اولاد کے بچے بچے کو دینِ حق کے لیے استعمال میں لانا۔ میں اپنی پوری نسل کو دینِ حق میں قربان کرنے کو تیار ہوں۔ میری نسل کے ہر بچے کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور امام مہدی علیہ السلام کے شانہ بشانہ دجال کے خلاف لڑنے اور شہید ہونے کی سعادت عطا کرنا۔
میں اس لیے نام نہاد مولویوں، فوج اور سیاسی شخصیات پر تنقید کرتا ہوں۔ کیونکہ چند کالی بھیڑوں نے ملک و ملت و اسلام کو نقصان پہنچایا۔
دنیا کے مال کے لیے دین فروشی کی،
ڈالرز کے لیے اپنی عوام کو بیچا،
ملک کے وسائل ہڑپ کر گئے۔
میں تو نہیں رکنے والا۔ میں اپنی آخری سانس تک یہ مزاحمت جاری رکھوں گا۔
ہر بار میری یہ مزاحمت بڑھتی جائے گی۔ ابھی تو میں خود کو سنبھال رہا ہوں۔
جب میں سنبھل گیا تو پھر بتاؤں گا کہ میرا سو سالہ مقصد “زائپس” کیا ہے۔
میں اپنا حق ضرور ادا کروں گا۔ کم از کم خدا کو یہ کہہ سکوں کہ
یااللہ! میں نے اپنا حق ادا کیا، بھلے ہی یہ قوم خود سر تھی مگر میں نے اپنی پوری کوشش کی۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
