ایک شہری خاتون گاؤں میں عورتوں کو حساب سکھا رہی تھیں۔ اس نے ایک عورت سے پوچھا،
“اگر تمہارے پاس پچاس روپے ہوں اس میں سے تم بیس روپے اپنے شوہر کو دے دو تو بتاؤ تمہارے پاس کتنے روپے بچیں گے؟”
عورت نے جواب دیا،
“کچھ بھی نہیں۔”
خاتون نے دیہاتی عورت کو ڈانٹتے ہوئے کہا،
“احمق عورت! تم حساب بالکل نہیں جانتی ہو۔”
دیہاتی عورت نے جواب دیا،
“آپ بھی میرے شوہر ’شیرو‘ کو نہیں جانتی ہو۔ وہ سارے روپے مجھ سے چھین لے گا۔”
منقول
بھلے ہی اس عورت نے جواب غلط بتایا۔ لیکن زمینی حقائق کے مطابق اس کا جواب درست تھا۔ کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اس کا شوہر کس قدر ناہنجار ہے۔
ایسے ہی ہماری زندگی میں کچھ لوگ ہم سے سوال کرتے ہیں اور جواب بھی قپنی منشاء کے مطابق چاہتے ہیں۔ اپنی جگہ وہ بھی ٹھیک ہوتے ہیں لیکن ہمارے حالات ان سے مختلف ہوتے ہیں۔ وہ نہیں سمجھ سکتے کہ ہمارے دیئے گئے جواب کے پیچھے کون سی گہرائی پوشیدہ ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
