بلاعنوان۔۔۔😊!

بلاعنوان۔۔۔😊!

یہ ایک بادشاہ کے عہد کی بات ہے۔
ایک دن وہ کسی بات پر بے حد خوش ہوا تو اس نے ایک عام سے شخص کو بلا کر کہا:

“سورج غروب ہونے تک تم جتنی زمین کا دائرہ مکمل کر لو گے، وہ ساری زمین تمہاری ہو گی۔”

مگر ساتھ ہی ایک شرط بھی رکھ دی:
“اگر سورج ڈوبنے سے پہلے دائرہ مکمل نہ کر سکے تو تمہیں کچھ بھی نہیں ملے گا۔”

یہ سن کر اس شخص کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔ دل خوشی سے بھر گیا۔ وہ فوراً چل پڑا، بڑے ارمانوں کے ساتھ، بڑے خوابوں کے ساتھ۔
چلتے چلتے ظہر کا وقت آ گیا۔ دل نے آہستہ سے کہا،
“اب واپسی کا رخ کر لینا چاہیے، دائرہ کافی بن چکا ہے۔”

مگر نفس نے سرگوشی کی:
“ابھی نہیں… تھوڑا سا اور۔ جتنی زیادہ زمین ہو گی، اتنا فائدہ ہو گا۔”

وہ آگے بڑھتا گیا۔ کچھ دیر بعد ایک دلکش پہاڑ سامنے آیا۔ دل پھر بہک گیا۔
اس نے سوچا،
“یہ پہاڑ بھی میری جاگیر میں آ جانا چاہیے، پھر لوٹ چلوں گا۔”

یوں وہ وقت کو ٹالتا رہا، اور واپسی کا فیصلہ مؤخر کرتا رہا۔

اب سورج ڈھلنے لگا تھا۔
یوں محسوس ہوتا تھا جیسے سورج اس کے ساتھ دوڑ لگا رہا ہو۔
وہ تیز چلتا، سورج اور تیزی سے جھکتا۔
عصر کے بعد تو لگنے لگا جیسے سورج ڈھل نہیں رہا، بلکہ پگھل رہا ہو۔

وہ دوڑنے لگا۔
پسینہ بہنے لگا، سانس اکھڑ گئی، اور دل میں پچھتاوے کی آگ بھڑک اٹھی:
“کاش میں وقت پر لوٹ آتا! کاش میں لالچ میں نہ پڑتا!”

مگر اب وقت ہاتھ سے نکل چکا تھا۔

وہ پوری قوت سے دوڑتا رہا۔ سینہ پھٹنے کو آ گیا، قدم لڑکھڑانے لگے، مگر وہ رکا نہیں۔
اچانک سورج غروب ہو گیا۔

اسی لمحے وہ زمین پر گر پڑا، اور اس کی روح پرواز کر گئی۔
حیرت کی بات یہ تھی کہ اس کا سر اس مقام کو چھو رہا تھا جہاں سے وہ روانہ ہوا تھا، اور اس کے پاؤں اس دائرے کو مکمل کر رہے تھے جس کے لیے وہ نکلا تھا۔

یوں، زندگی میں جو دائرہ وہ مکمل نہ کر سکا، موت نے اسے مکمل کر دیا۔

اسی جگہ اس کی قبر بنا دی گئی۔
قبر پر ایک کتبہ نصب کیا گیا، جس پر لکھا تھا:

“اس انسان کو دراصل اتنی ہی زمین کی ضرورت تھی، جتنی اس کی قبر نے گھیر رکھی ہے۔”

یہی وہ حقیقت ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ ہمیں بار بار متوجہ فرماتا ہے۔
سورۃ العصر میں ارشاد ہوتا ہے:

“قسم ہے زمانے کی، بے شک انسان خسارے میں ہے۔”

اور ایک اور مقام پر فرمایا:

“جان لو کہ دنیا کی زندگی محض کھیل، تماشا، زینت اور آپس میں فخر اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش ہے۔”
(سورۃ الحدید)

آج ہمارے دائرے بھی بہت وسیع ہو چکے ہیں۔
خواہشیں بڑھتی جا رہی ہیں، مگر واپسی کا راستہ نظرانداز ہو رہا ہے۔

آئیے، اس سے پہلے کہ ہمارا سورج بھی ڈوب جائے،
واپسی کے سفر پر غور کر لیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں موت سے پہلے موت کی تیاری کی توفیق عطا فرمائے،
اور ہمارا خاتمہ ایمان اور خیر کے ساتھ فرمائے۔ آمین۔

Leave a Reply

NZ's Corner