بلاعنوان۔۔۔😊!

بلاعنوان۔۔۔😊!

ایران کے ایک سرسبز گاؤں میں ایک نوجوان رہتا تھا، نام سلمان۔ آگ کی پرستش اُس کے قبیلے کا دین تھی اور وہ برسوں سے معبد کی آگ کی نگہبانی کرتا آیا تھا، مگر اس کے دل میں ایک سوال جلتا رہتا: کیا یہ آگ سن سکتی ہے؟ کیا یہ مجھے جواب دے سکتی ہے؟
ایک دن راستے سے گزرتے ہوئے اس نے ایک گرجا سے دعاؤں کی آواز سنی۔ خاموشی، سجدہ اور عاجزی نے اس کے دل کو چھو لیا۔ وہ ایک راہب کے پاس گیا، پھر دوسرے، پھر تیسرے۔ ہر ایک نے اسے سچ کے ایک اور دروازے تک پہنچایا۔

آخرکار ایک بوڑھے راہب نے کہا: اے سلمان! وہ زمانہ قریب ہے جب آخری نبی عرب کی سرزمین میں ظاہر ہوں گے۔ وہ صدقہ نہیں کھائیں گے، تحفہ قبول کریں گے اور ان کے کندھوں کے درمیان نبوت کی مہر ہوگی۔

سلمانؓ نے سب کچھ چھوڑ دیا، گھر، وطن اور آرام۔ قافلوں کے ساتھ عرب کی طرف نکل پڑے۔ راستے میں دھوکہ ہوا، غلام بنا کر بیچ دیے گئے۔ مدینہ کی کھجوروں کے باغ میں زنجیروں کے ساتھ دن گزرنے لگے۔

اسی شہر میں رسولِ اکرم ﷺ تشریف لائے۔ سلمانؓ نے نشانیاں پرکھیں۔ صدقہ پیش کیا، آپ ﷺ نے نہ کھایا۔ تحفہ پیش کیا، قبول فرمایا۔ پھر پیچھے سے دیکھا، مہرِ نبوت جگمگا رہی تھی۔ آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، زمین کو بوسہ دیا اور کہا: میں نے سچ پا لیا۔

رسول اللہ ﷺ نے خود سلمانؓ کی آزادی کا بندوبست کروایا۔ یہی سلمانؓ بعد میں خندق کی تجویز دینے والے بنے، اور نبی ﷺ نے فرمایا:
“سلمان منا اہل البیت”
(سلمان ہمارے اہلِ بیت میں سے ہیں)

🌟 حاصلِ سبق
جو حق کا سچا متلاشی ہو، اسے زنجیریں روک نہیں سکتیں۔ سفر لمبا ہو سکتا ہے، مگر سچ تک پہنچنے والا کبھی خالی نہیں لوٹتا۔

📚 حوالہ: سیرۃ ابن ہشام

Leave a Reply

NZ's Corner