ایک حکیم نے اپنے جوان بیٹے کو فجر کی نماز کے لیے جگایا۔ جب وہ دونوں مسجد کی طرف نکلے تو پورے شہر میں ایک عجیب سا سناٹا چھایا ہوا تھا۔ دونوں نے مسجد پہنچ کر باجماعت نماز ادا کی۔
جماعت میں نمازیوں کی تعداد تقریباً نہ ہونے کے برابر تھی۔
نماز کے بعد وہ دونوں اشراق تک عبادت اور ذکرِ الٰہی میں وقت گزارتے رہے۔
جب اشراق کی نماز کے بعد باپ اور بیٹا مسجد سے باہر نکلے تو دیکھتے ہیں کہ دنیا جاگ رہی ہے اور ہر طرف لوگ اپنے کاموں میں مصروف ہیں۔
یہ منظر دیکھ کر جوان شخص کو بہت دکھ ہوا اور بولا،
“ابو جان، دیکھیں کتنے بدنصیب لوگ ہیں! یہ سب دنیا کی فکر میں مشغول ہیں، لیکن آخرت کی کوئی فکر نہیں۔ نماز کے وقت نیند نہیں چھوڑ سکتے، مگر ایک گھنٹے بعد دنیا کے حصول کے لیے اپنے گھروں سے نکل آئے ہیں۔”
یہ سن کر حکیم کو بہت برا لگا، وہ افسوس کے ساتھ بیٹے سے مخاطب ہوا،
“بیٹا، تم خود ان تمام لوگوں سے زیادہ بدنصیب ہو۔ بہتر یہ ہوتا کہ تم نماز ہی نہ پڑھتے۔ تم نے نماز پڑھ کر اللہ کی مخلوق کی غیبت کی، ان کو مغرور کہا اور خود کو ان سے برتر سمجھا۔
بتاؤ، کیا اللہ ایسی عبادت قبول کرے گا جس میں تو اس کی مخلوق کو حقارت کی نگاہ سے دیکھے اور انہیں کمتر سمجھے؟”
اللہ جس کو چاہے جنت میں داخل کر دے، چاہے وہ معمولی نیکی کرنے والا ہی کیوں نہ ہو۔
وہ چاہے تو عمر بھر کی عبادت کو بھی رد کر دے
اگر دل میں خوش پسندی یا دوسروں کے لیے حقارت ہے تو یہ دل کی برتری انسان کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
ہم کسی کو بدنصیب یا بدبخت کیسے کہہ سکتے ہیں؟
ہو سکتا ہے اس کی معمولی نیکی اللہ کے ہاں قبول ہو جائے یا موت سے پہلے وہ توبہ کر کے ہم سے زیادہ متقی بن جائے۔
