پہلی صدی عیسوی میں بحیرۂ روم میں ڈاکہ زنی ایک بڑا مسئلہ تھا سمندری ڈاکوؤں نے اودھم مچا رکھا تھا سیلیسیا ٹراکیا کے نام سے پکارا جانے والا جنوبی اناطولیہ کا سنگلاخ علاقہ سمندروں میں لوٹ مار کرنے والوں کے سبب مشہور تھا جنہوں نے رومی تاجروں اور سفر کرنے والوں کو خوف زدہ کر رکھا تھا۔
75 عیسوی میں سیلیسیا کے بحری قزاقوں نے روم کی اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے ایک 25 سالہ غیرمعمولی نوجوان کو پکڑ لیا۔ یہ رومی آمر، سیاست دان اور جرنیل جولیس سیزر تھا جو ابھی زمانہ طالب علمی میں تھا وہ فنِ خطابت کی تعلیم کے لیے جزیرہ روڈس جا رہا تھا جو اب جنوب مشرقی یونان میں واقع ہے۔ دراصل جولیس سیزر کو پکڑ کر بحری قزاقوں نے ایک مصیبت اپنے سر ڈال لی۔ سیزر نے اپنی آن بان قائم رکھی اور خود کو یرغمالی ماننے سے انکار کر دیا۔
بحری قزاقوں نے جب ایک مخصوص رقم بطور تاوان مانگی تو وہ ہنس پڑا۔ اس نے خود ہی اپنے تاوان میں ڈیڑھ گنا اضافہ کر کے اپنے ساتھیوں کو رقم اکٹھی کرنے کے لیے بھیج دیا۔ قزاق ہکا بکا رہ گئے۔ جولیس سیزر بڑے مزے سے قزاقوں کے درمیان رہا۔ وہ انہیں اپنی شاعری سناتا رہا اور کھیل کھیلتا۔ وہ یوں خطاب کرتا جیسے قزاق اس کے ماتحت ہوں۔
38 دن بعد تاوان ادا کر دیا گیا اور سیزر آزاد ہو گیا۔ اس نے ملطوس جا کر ایک بحری فوج تیار کی اور بحری قزاقوں کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ وہ اسی جزیرے پر موجود تھے جہاں سیزر رکھا گیا تھا۔ وہ انہیں قیدی بنا کر لے آیا اور پھر مار ڈالا یوں اس نے بدلہ لیا ۔
