کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ایک معمولی جانور، ایک اونٹنی کے تھن پر لگنے والا ایک تیر دو عظیم قبیلوں کو 40 سال تک خون میں نہلا سکتا ہے؟
یہ کوئی افسانہ نہیں، یہ تاریخ ہے! یہ داستان ہے عرب کے صحراؤں میں لڑی جانے والی اس جنگ کی جسے “جنگِ بسوس” کہا جاتا ہے۔ یہ کہانی ہے انا، غیرت، تکبر اور نہ ختم ہونے والے انتقام کی۔
بات شروع ہوتی ہے زمانہ جاہلیت کے عرب سے، جہاں تلوار ہی قانون تھی اور قبیلے کی عزت ہی سب کچھ۔ بنو بکر اور بنو تغلب، دو چچا زاد قبیلے تھے جو بھائیوں کی طرح رہتے تھے۔ بنو تغلب کا سردار “کلیب بن ربیعہ” تھا، جسے عرب کا پہلا بادشاہ بھی کہا جا سکتا ہے۔ کلیب بہادر تھا لیکن اس کا تکبر آسمان کو چھو رہا تھا۔ اس کی طاقت کا یہ عالم تھا کہ وہ جس چراگاہ کو اپنے لیے پسند کر لیتا، وہاں کوئی دوسرا اپنے جانور چرانے کی جرات نہیں کر سکتا تھا۔ لوگ کہتے تھے کہ “کلیب کی آگ کے قریب کوئی اپنی آگ نہیں جلا سکتا۔”
دوسری طرف بنو بکر کا سردار “جساس” تھا، جو کلیب کا سالا بھی تھا اور دوست بھی۔ دونوں قبیلوں میں رشتہ داریاں تھیں، محبت تھی، لیکن سرداری اور انا کی چنگاری راکھ کے نیچے دبی ہوئی تھی۔
تباہی کا آغاز اس دن ہوا جب جساس کی خالہ (بعض روایات میں مہمان خاتون) جس کا نام “بسوس” تھا، اپنے ساتھ ایک اونٹنی لائی جس کا نام “سراب” تھا۔ ایک دن یہ اونٹنی غلطی سے چلتے چلتے کلیب کی محفوظ چراگاہ میں داخل ہو گئی۔ کلیب نے جب اپنی زمین پر غیر جانور دیکھا تو اس کا شاہی تکبر جاگ اٹھا۔ اس نے یہ نہیں دیکھا کہ یہ کس کی اونٹنی ہے، بس اپنی کمان نکالی اور ایک تیر اونٹنی کے تھن میں دے مارا۔
خون میں لت پت، بلبلاتی ہوئی اونٹنی جب اپنی مالکن بسوس کے خیمے کے سامنے پہنچی تو کہرام مچ گیا۔ بسوس نے اپنی زخمی اونٹنی کو دیکھا تو اس نے وہ نعرہ لگایا جس نے عرب کی تاریخ بدل دی۔ اس نے سر سے چادر اتار پھینکی اور چیخ کر کہا “وا ذلاہ! وا غربتاہ!” (ہائے میری ذلت! ہائے میری بے کسی!)۔ اس نے جساس کو پکارا کہ تیری پناہ میں ہوتے ہوئے میرے جانور کے ساتھ یہ ظلم ہوا؟ کیا یہی تیری سرداری ہے؟
جساس کے لیے یہ طعنہ زہر بجھے تیر سے زیادہ جان لیوا تھا۔ اس کی رگوں میں خون کھول اٹھا۔ عربوں کے لیے “پناہ میں آئے ہوئے کی حفاظت” زندگی سے زیادہ اہم تھی۔ اس نے اسی وقت قسم کھائی کہ “اے بسوس! اطمینان رکھ، میں اس اونٹنی کے بدلے وہ ‘اونٹ’ قربان کروں گا جس کے پاؤں تلے پورا عرب کانپتا ہے۔” اس کا اشارہ کلیب کی طرف تھا۔
جساس غصے میں بھرا ہوا کلیب کے پاس پہنچا۔ کلیب اس وقت اکیلا تھا۔ تلخ کلامی ہوئی اور پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ جساس نے اپنا نیزہ کلیب کے سینے میں اتار دیا۔ عرب کا بادشاہ، وہ شخص جس کے نام سے صحرا گونجتا تھا، ریت پر تڑپ رہا تھا۔ مرتے ہوئے کلیب نے پانی مانگا لیکن انتقام کی آگ میں جلتے ہوئے جساس نے انکار کر دیا۔ کلیب کی موت کے ساتھ ہی عرب کا امن بھی مر گیا۔
کلیب کے قتل کی خبر جب اس کے بھائی “مہلہل” (جسے دنیا ‘زیر’ کے نام سے بھی جانتی ہے) کو ملی تو ایک عجیب تبدیلی آئی۔ مہلہل جو پہلے شراب و کباب اور عیش و عشرت میں ڈوبا رہتا تھا، اچانک بدل گیا۔ اس نے قسم کھائی کہ اب خوشبو، شراب اور عورت اس پر حرام ہے۔ اس نے کہا کہ “صلح” کا لفظ اب میری لغت سے نکل چکا ہے۔ اس نے وہ تاریخی جملہ کہا جو آج بھی یاد کیا جاتا ہے: “کلیب کے جوتے کے تسمے کی قیمت بھی پورا قبیلہ بکر نہیں دے سکتا۔”
پھر جنگ شروع ہوئی۔ ایسی جنگ جس نے ماؤں کی گودیں اجاڑ دیں اور بچوں کو یتیم کر دیا۔ مہلہل پاگلوں کی طرح بنو بکر کے لوگوں کو قتل کرتا تھا۔ وہ ہر قتل کے بعد چلاتا، “یہ کلیب کے جوتے کے تسمے کا بدلہ ہے!”۔ بنو بکر کے لوگ صلح کی بھیک مانگتے رہے، انہوں نے خون بہا دینے کی پیشکش کی، اپنے سرداروں کو پیش کیا، لیکن مہلہل کی آنکھوں سے خون ٹپک رہا تھا۔ وہ صرف ایک ہی بات کہتا: “کلیب کو زندہ کرو، تب صلح ہوگی۔”
سال گزرتے گئے، جنگ جاری رہی۔ وہ بچے جو جنگ کے آغاز میں پیدا ہوئے تھے، جوان ہو کر میدان جنگ میں مارے جانے لگے۔ ایک وقت ایسا آیا کہ دونوں قبیلے مکمل طور پر نڈھال ہو گئے۔ بنو تغلب نے بنو بکر کا اس قدر قتل عام کیا کہ لگتا تھا یہ قبیلہ صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا۔
کہانی میں موڑ تب آیا جب بنو بکر کا ایک سردار حارث بن عباد، جو اب تک جنگ سے الگ تھلگ تھا، اس کا بیٹا بھی مہلہل کے ہاتھوں مارا گیا۔ تب اس بوڑھے شیر نے زرہ بکتر پہنی اور قسم کھائی کہ اب وہ بنو تغلب کا صفایا کرے گا۔ اس کے بعد جنگ کا پانسہ پلٹ گیا۔
چالیس سال… پورے چالیس سال تک تلواریں چلتی رہیں۔ بالآخر جب دونوں طرف کچھ نہ بچا، نہ جوان، نہ مال، نہ طاقت، تو یہ جنگ تھک کر ختم ہوئی۔ نتیجہ کیا نکلا؟ کچھ بھی نہیں! صرف قبرستان آباد ہوئے اور بستیاں ویران۔
یہ “جنگِ بسوس” ہمیں سکھاتی ہے کہ جب “انا” (Ego) عقل پر غالب آ جائے تو انسان درندہ بن جاتا ہے۔ ایک اونٹنی کا زخم تو بھر سکتا تھا، لیکن نفرت کا جو زخم ان دو قبیلوں نے اپنے سینوں پر لگایا، اس نے نسلیں تباہ کر دیں۔ یہ تاریخ کا وہ خونی باب ہے جو بتاتا ہے کہ انتقام کی آگ سب سے پہلے جلانے والے کو ہی خاکستر کرتی ہے۔
سوچنے کا مقام:
کیا آج بھی ہم چھوٹی چھوٹی باتوں، اپنی انا اور خاندانی جھگڑوں میں نسلیں برباد نہیں کر رہے؟ تاریخ صرف پڑھنے کے لیے نہیں، سیکھنے کے لیے ہوتی ہے۔
اگر آپ کو یہ تاریخی داستان پسند آئی تو شیئر ضرور کریں تاکہ لوگ جان سکیں کہ “انا کی جنگ” کا انجام ہمیشہ تباہی ہوتا ہے۔
