آزادی یا تبادلہ
پارس نے معصومیت سے اپنے بابا کی طرف دیکھا اور پوچھا،
“بابا…! کیا انگریز واقعی ظالم تھے؟”
بابا نے گہری سانس لی،
“ہاں بیٹا…! بہت ظالم تھے۔ ہمارے بڑوں نے بے شمار قربانیاں دے کر آزادی حاصل کی تھی۔”
پارس کچھ لمحے خاموش رہا، پھر الجھن بھری آواز میں بولا،
“بابا…! وہ کیا ظلم کرتے تھے؟”
بابا نے سمجھانے کے انداز میں کہا،
“وہ لالچی تھے بیٹا۔ کسانوں اور عام لوگوں پر ہر سال لگان بڑھا دیتے۔ ایک سال گندم کی دو بوریاں لیتے، اگلے سال چار مانگتے۔ تاجر ہوں یا مزدور، کوئی ان کے ظلم سے بچ نہ پاتا۔ اور سب سے بڑھ کر… لوگوں کو بولنے کی اجازت نہیں تھی۔”
پارس فوراً بولا،
“کیا وہ لوگوں کے گھروں میں گھس جاتے تھے؟”
بابا ہلکا سا مسکرائے،
“نہیں بیٹا…! ظلم کے باوجود وہ اصولوں کے پابند تھے۔ دشمن کی بھی کچھ حد تک عزت رکھتے تھے۔”
پارس کی آواز میں اب کرب شامل تھا،
“کیا وہ بیٹیوں کو گلیوں میں گھسیٹتے تھے؟”
بابا کا چہرہ سنجیدہ ہو گیا،
“نہیں… ایسا بھی نہیں تھا۔ بس لگان اور خاموشی کا حکم تھا۔”
پارس نے سیدھا وار کیا،
“بابا…! پھر کیا ہم واقعی آزاد ہو گئے ہیں؟
یا بس ظالم بدل گئے ہیں؟
کیونکہ مجھے تو لگتا ہے اب ہمارے سروں پر پہلے سے بھی زیادہ ظالم سوار ہیں۔”
بابا ایک لمحہ خاموش رہے، پھر خود کو سنبھالتے ہوئے بولے،
“نہیں بیٹا…! یہ تو ہمارے اپنے ہیں۔ ہمارے محافظ…”
پارس نے آخری بات کہی تو بابا کی آواز جیسے حلق میں ہی اٹک گئی،
“بابا…! انگریز کے ہاتھوں مرتے تو کم از کم یہ بھرم رہتا کہ غیروں نے مارا۔
اب اپنوں کے ہاتھوں مر کر ہم خود کو شہید بھی نہیں کہہ پاتے…
کیا صرف ظالم بدلنے کے لیے ہمارے بڑوں نے جانیں گنوائیں تھیں۔”
بابا کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا اور سچ یہ ہے کہ ہمارے قربانیاں دینے والے بزرگ اگر آج پاکستان کے حالات دیکھتے تو انہیں اپنی دی گئی قربانیوں پر بھی افسوس ہوتا کہ ہم نے کیا سوچا تھا اور ہمارے بچوں نے کیا پایا۔
اللہ ہمارے ملکِ پاکستان پر اپنا خصوصی رحم و کرم نازل فرمائے آمین
