بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

‏حجاج بن یوسف حافظ قرآن تھاوہ تہجدکی
ایک رکعت میں 10 سپاروں کی تلاوت کرتاتھا،
باجماعت نماز پڑھاتاتھااور شراب و زناسےدور بھاگتاتھالیکن انتہائی ظالم تھاجب اسکی موت آئی توانتہائی عبرتناک موت آئی،
حضرت سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ جوکے ایک تابعی بزرگ تھے ایک دن منبر پر بیٹھے ھوۓ یہ الفاظ ادا کیےکہ “حجاج ایک ظالم شخص ھے”

حجاج کو پتہ چلا دربار میں بلا کر پوچھا۔
کیا تم نے کہتے ہو؟ تو آپ نے فرمایا ھاں یہ سن کر حجاج کا رنگ غصے سے سرخ ھو گیا اورقتل کے احکامات جاری کر دیے۔جب آپ کو قتل کیلیے دربار سے باہر لے کر جانے لگے تو آپ مسکرا دیے۔

حجاج کو ناگوار گزرا اسنے پوچھا کیوں مسکراتے ھو تو آپ نے جواب دیا تیری بے وقوفی پر اور جو اللہ تجھے ڈھیل دے رھا ھے اس پر مسکراتا ھوں۔

حجاج نے پھر حکم دیا کہ اسے میرے سامنے زبح کر دو، جب خنجر گلے پر رکھا گیا تو آپ نے اپنا رخ قبلہ کی طرف کیا اور یہ جملہ فرمایا:

اے اللہ میرا چہرہ تیری طرف ھے تیری رضا پر راضی ھوں یہ حجاج نہ موت کا مالک ھے نہ زندگی کا۔
جب حجاج نے یہ سنا تو بولا اسکا رخ قبلہ کی طرف سے پھیر دو۔ جب قبلہ سے رخ پھیرا تو آپ نے فرمایا: یااللہ رخ جدھر بھی ھو تو ھر جگہ موجود ھے. مشرق مغرب ھر طرف تیری حکمرانی ھے۔ میری دعا ھے کہ میرا قتل اسکا آخری ظلم ھو، میرے بعد اسے کسی پر مسلط نہ فرمانا۔
جب آپکی زبان سے یہ جملہ ادا ھوا اسکے ساتھ ھی آپکو قتل کر دیا گیا اور اتنا خون نکلا کہ دربار تر ھو گیا۔ ایک سمجھدار بندہ بولا کہ اتنا خون تب نکلتا ھے جب کوی خوشی خوشی مسکراتا ھوا اللہ کی رضا پر راضی ھو جاتا ھے۔

حجاج بن یوسف کے نام سے سب واقف ہیں، حجاج کو عبد الملک نے مکہ، مدینہ طائف اور یمن کا نائب مقرر کیا تھا اور اپنے بھائی بشر کی موت کے بعد اسے عراق بھیج دیا جہاں سے وہ کوفہ میں داخل ہوا، ان علاقوں میں بیس سال تک حجاج کا عمل دخل رہا اس نے کوفے میں بیٹھ کر زبردست فتوحات حاصل کیں۔

اس کے دور میں مسلمان مجاہدین، چین تک پہنچ گئے تھے،حجاج بن یوسف نے ہی قران پاک پر اعراب لگوائے، الله تعالی نے اسے بڑی فصاحت و بلاغت اور شجاعت سے نوازا تھا حجاج حافظ قران تھا. شراب نوشی اور بد کاری سےبچتاتھا. وہ جہاد کا دھنی اور فتوحات کاحریص تھا. مگر اسکی تمام اچھائیوں پر اسکی ایک برائی نے پردہ ڈال دیا تھا اور وہ تھی؟”ظلم “

اس نے اپنی زندگی میں ایک خوں خوار درندے کا روپ دھار رکھا تھا.وہ الله کے بندوں، اولیاء اور علماء کے خون سے ہولی کھیل رہا تھا۔حجاج نے ایک لاکھ بیس ہزار انسانوں کو قتل کیا ہے ،اس کے جیل خانوں میں ایک ایک دن میں اسی اسی ہزار قیدی ایک وقت میں ہوتے جن میں سے تیس ہزار عورتیں تھیں۔ اس نے جو آخری قتل کیا وہ عظیم تابعی اور زاہد و پارسا انسان حضرت سعید بن جبیر رضی الله عنہ کا قتل تھا۔

انہیں قتل کرنے کے بعد حجاج پر وحشت سوار ہو گئی تھی، وہ نفسیاتی مریض بن گیا تھا،
اس کے ساتھ حجاج کو وہ بیماری لگ گئی جسے زمہریری کہاجاتا ہے،اس میں سخت سردی کلیجے سے اٹھ کر سارےجسم پرچھاجاتی تھی ،وہ کانپتا تھا،آگ سےبھری انگیٹھیاں اسکےپاس لائی جاتی تھیں اور اس قدر قریب رکھ دی جاتی تھیں کہ اسکی کھال جل جاتی تھی مگر اسےاحساس نہیں ہوتاتھا،حکیموں کو دکھانےپر انہوں نےبتایاکہ پیٹ میں سرطان ہے,ایک طبیب نےگوشت کا ٹکڑا لیا اور اسے دھاگےکے ساتھ باندھ کر حجاج کے حلق میں اتار دیا۔

تھوڑی دیر بعد دھاگے کو کھینچا تو اس گوشت کے ٹکڑے کے ساتھ بہت عجیب نسل کے کیڑے چمٹے ھوۓ تھے اور اتنی بدبو تھی جو پورے ایک مربع میل کے فاصلے پر پھیل گی۔ درباری اٹھ کر بھاگ گئے حکیم بھی بھاگنے لگا، حجاج بولا تو کدھر جاتا ھے علاج تو کر۔۔حکیم بولا تیری بیماری زمینی نہیں آسمانی ھے۔ اللہ سے پناہ مانگ حجاج،
جب مادی تدبیروں سے مایوس ہو گیا تو اس نے حضرت حسن بصری رحمتہ الله علیہ کو بلوایا اور ان سے دعا کی درخواست کی۔

وہ حجاج کی حالت دیکھ کر رو پڑے اور فرمانے لگے میں نے تجھے منع کیا تھا کہ نیک بندوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کرنا، ان پر ظلم نہ کرنا ،مگر تو باز نہ آیا…
آج حجاج عبرت کا سبب بنا ہوا تھا. وہ اندر ،باہر سے جل رہا تھا ،وہ اندر سے ٹوٹ پھوٹ چکا تھا. حضرت سعید بن جبیر رضی الله تعالی عنہ کی وفات کے چالیس دن بعد ہی حجاج کی بھی موت ہو گئی تھی۔

جب دیکھاکہ بچنےکا امکان نہیں تو قریبی عزیزوں کوبلایاجو بڑی کراہت کےساتھ حجاج کےپاس آۓ۔ وہ بولا میں مر جاوں تو جنازہ رات کوپڑھانا اور صبح ھو تو میری قبر کا نشان بھی مٹادیناکیوں کہ لوگ مجھے مرنےکےبعد قبر میں بھی نہی چھوڑیں گے۔اگلےدن حجاج کا پیٹ پھٹ گیااور اسکی موت واقع ھو گئی۔

اللہ ظالم کی رسی دراز ضرور کرتاھے لیکن جب ظالم سےحساب لیتاھے تو، فرشتے بھی خشیت الہی سےکانپتے ھیں، عرش ھل جاتا ھے۔

اللہ ظالموں کےظلم اور دوسروں پر ظلم کرنے سےھم سب کومحفوظ رکھے..!! آمین”

لائک شیئر اور فالو کر لیں شُکریہ

Leave a Reply

NZ's Corner