کہتے ہیں عرب کے ایک بادشاہ نے
اپنی طاقت کے اظہار کے لیے
ایک ایسی بھول بھلیاں بنوائی
جس میں داخل ہونا آسان
اور نکلنا ناممکن تھا۔
ایک دن
بابِل کا بادشاہ وہاں آیا۔
عرب بادشاہ نے اسے
ہنستے ہوئے
اسی بھول بھلیاں میں داخل کر دیا۔
بابِل کا بادشاہ
دن بھر
راستوں میں بھٹکتا رہا
دیواروں سے ٹکراتا رہا
آخرکار
اللہ سے فریاد کی
اور کسی طرح بچ نکلا۔
وہ خاموشی سے واپس لوٹا۔
کچھ عرصہ بعد
وہ ایک عظیم لشکر کے ساتھ
عرب کی سرزمین پر آیا
فتح حاصل کی
اور عرب بادشاہ کو قید کر لیا۔
پھر اسے صحرا میں لے گیا۔
کہا
“یہ ہے میری بھول بھلیاں
جس کی کوئی دیوار نہیں
کوئی دروازہ نہیں
کوئی نشان نہیں۔”
عرب بادشاہ کو
ریگستان میں چھوڑ دیا گیا
جہاں نہ سایہ تھا
نہ راستہ۔
وہ وہیں
پیاس میں مر گیا۔
حاصلِ سبق
ظلم
جب فن کا لباس پہن لے
تب بھی ظلم ہی رہتا ہے۔
اور جو دوسروں کو
راستہ بھلاتا ہے
وہ ایک دن
خود
لامحدود صحرا میں کھو جاتا ہے۔
