ایک سبق آموز اور دلچسپ واقعہ
کہا جاتا ہے کہ پرانے زمانے میں ایک قاضی تھے جن کا نام نور الدین تھا۔ وہ اپنی عقل، انصاف پسندی اور حکمت کی وجہ سے بہت مشہور تھے۔ مظلوموں کے حقوق کا تحفظ اور ظالموں کو سزا دینے میں ان کا کوئی ثانی نہ تھا۔
ایک دن انہیں ایک نہایت کھٹن مقدمہ حل کرنا پڑا:
دو پڑوسی ایک دوسرے کے قریب رہتے تھے۔ ایک نیک دل اور دوسرا چالاک و مکار۔ نیک دل پڑوسی کو یہ بات معلوم نہیں تھی کہ اس کا پڑوسی دھوکے باز ہے۔
ایک دن چالاک پڑوسی سخت مصیبت میں پھنس گیا۔ اس کے گھر میں کھانے کے لیے کچھ نہ تھا۔ وہ مدد کے لیے اپنے نیک دل پڑوسی کے پاس گیا، لیکن وہاں اسے کچھ نہ ملا کیونکہ نیک پڑوسی صبح سے کام پر گیا ہوا تھا۔
جب وہ باہر گیا تو راستے میں اپنے پڑوسی کو کام سے لوٹتے ہوئے دیکھ لیا۔ اس نے روکا اور کہا:
“میں بہت سخت مصیبت میں ہوں، مجھے دو ہزار درہم قرض دے دو۔”
نیک دل پڑوسی نے بغیر کسی شک یا ہچکچاہٹ کے کہا:
“کل انشاءاللّٰہ اسی جگہ، اس کجھور کے درخت کے پاس آنا، میں رقم کا انتظام کر دوں گا۔”
اگلے دن نیک دل پڑوسی وعدے کے مطابق وہاں پہنچا اور دو ہزار درہم دے دیے۔ بدقسمت پڑوسی نے وعدہ کیا کہ وہ تین مہینے میں واپس کرے گا۔ نیک دل پڑوسی نے کوئی شرط یا ثبوت نہیں لیا۔
تین مہینے بعد نیک دل پڑوسی رقم واپس لینے گیا، مگر بدتمیز پڑوسی صاف انکار کر گیا۔ نیک دل پڑوسی حیران رہ گیا، اور دل ہی دل میں سوچا:
“ایسے دور میں جہاں بھلائی کو برائی سے لوٹا جاتا ہے اور برائی کو بھلائی سے، انصاف کے لیے عدالت ہی واحد راستہ ہے۔”
نیک دل پڑوسی قاضی نور الدین کے پاس گیا اور پورا واقعہ سنایا۔ قاضی نے بدتمیز پڑوسی کو بلا کر پوچھا:
“کیا یہ دعویٰ سچ ہے کہ تمہیں دو ہزار درہم قرض دیا گیا؟”
بدتمیز پڑوسی نے صاف انکار کر دیا۔
قاضی نورالدین نے نیک پڑوسی سے کہا:
“چلو، جہاں تم نے قرض دیا تھا وہاں سے مٹھی بھر مٹی لے آؤ۔”
نیک پڑوسی تھوڑی دیر بعد واپس نہ آیا۔ قاضی نے بدتمیز پڑوسی سے پوچھا:
“تمہیں معلوم ہے وہ دیر کیوں کر رہا ہے؟”
بدتمیز پڑوسی نے بغیر سوچے کہا:
“وہ جگہ یہاں سے کافی دور ہے۔”
قاضی مسکرائے اور بولے:
“اگر تم نے وہاں کبھی قرض لیا ہی نہیں، تو تمہیں وہ جگہ کیسے معلوم ہوئی؟”
اسی طرح قاضی نے نیک پڑوسی کا حق ثابت کیا اور حکم دیا کہ قرضدار قید میں رہے جب تک دو ہزار درہم واپس نہ کرے۔
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ ایمانداری، بھروسہ اور انصاف ہمیشہ فتح پاتے ہیں۔
اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو مجھے فالو ضرور کریں
