بلاعنوان۔۔۔😐!

بلاعنوان۔۔۔😐!

ایک جنگل تھا جہاں تمام جانور امن و سکون سے رہتے تھے۔ اچانک وہاں ایک بندر اور لومڑی کی جوڑی نے “معاشی اصلاحات” کا اعلان کیا۔ انہوں نے جنگل کے بیچوں بیچ ایک بڑی منڈی بنائی اور اعلان کیا کہ اب سے کوئی جانور براہِ راست درخت سے پھل نہیں توڑ سکے گا، بلکہ سب کچھ منڈی سے ملے گا۔
منڈی کا ٹھیکہ ایک طاقتور ہاتھی کو دیا گیا جو ذخیرہ اندوزی کا ماہر تھا۔
ایک صبح جب خرگوش گاجریں خریدنے گیا تو اسے معلوم ہوا کہ گاجر کی قیمت دگنی ہو گئی ہے۔ خرگوش نے حیرت سے پوچھا: “کل تو یہ سستی تھیں، آج کیا ہوا؟”
ہاتھی نے اپنی سونڈ ہلاتے ہوئے جواب دیا: “دیکھو بھائی! دوسرے جنگل میں خشک سالی آ گئی ہے، اس لیے یہاں قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔” حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ ہاتھی نے گاجروں کا سارا اسٹاک اپنے بڑے گودام میں چھپا دیا تھا تاکہ مصنوعی قلت پیدا کی جا سکے۔
خرگوش پریشان ہو کر بندر (جو وزیرِ خزانہ تھا) کے پاس گیا۔ بندر نے ایک بڑا کیلکولیٹر نکالا اور بولا: “گھبرانا نہیں ہے! مہنگائی اس لیے بڑھ رہی ہے کیونکہ تم لوگ ضرورت سے زیادہ گاجریں کھاتے ہو۔ اگر تم آدھی گاجر کھاؤ گے تو قیمتیں خود بخود نیچے آ جائیں گی۔ یہ ‘ڈیمانڈ اور سپلائی’ کا اصول ہے!”
کچھ دن بعد جنگل میں پٹرول (درختوں کا تیل) بھی مہنگا کر دیا گیا۔ لومڑی نے اعلان کیا: “تیل مہنگا ہونے سے اب ہر چیز مہنگی ہوگی، کیونکہ چڑیوں کو دانہ لانے کے لیے اب زیادہ طاقت لگانی پڑتی ہے!” جانوروں نے دیکھا کہ:

  1. ہاتھی کا گودام بھرتا جا رہا تھا اور وہ مزید موٹا ہو رہا تھا
  2. بندر اور لومڑی کو منڈی سے بھاری کمیشن مل رہا تھا۔
  3. بیچاری چیونٹیوں اور بکریوں نے ایک وقت کا کھانا چھوڑ دیا تھا کیونکہ ان کی آمدنی وہیں تھی لیکن قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی تھیں۔
    آخر میں ایک بوڑھے بیل نے، جو سارا دن بوجھ ڈھوتا تھا، ہانپتے ہوئے کہا:
    “اس جنگل میں سب کچھ مہنگا ہو گیا ہے، سوائے غریب جانور کے خون کے۔ یہاں قیمتیں ‘عالمی حالات’ سے نہیں، بلکہ ‘حکمرانوں کی نیتوں’ سے طے ہوتی ہیں۔”

اگر آپ کو ہماری پوسٹ/کہانیاں پسند آتی ہیں تو لائک اور شئیر ضرور کریں اور پیج کو بھی ضرور فالو کریں۔

Leave a Reply

NZ's Corner