قدیم فارس میں، جہاں ریت اور پہاڑ تقدیر کی لکیر کھینچتے تھے، ایک سپاہی پیدا ہوا رُستم جس کی طاقت داستانوں میں زندہ تھی۔ ایک مہم کے دوران وہ سمنگان کے دربار میں ٹھہرا، جہاں ایک رات اس کی ملاقات تہمنہ سے ہوئی۔ صبح ہونے سے پہلے راستے جدا ہو گئے، اور رُستم کو خبر نہ ہوئی کہ اس رات کی یاد ایک جان بن کر دنیا میں آنے والی ہے۔
برسوں بعد، اسی سرزمین پر ایک نوجوان جنگجو ابھرا سُہراب جس کی تلوار بجلی اور دل سوال تھا۔ اس نے سنا کہ دنیا میں ایک ہی شخص ہے جو اسے شکست دے سکتا ہے: رُستم۔ مگر کسی نے یہ نہ بتایا کہ وہی اس کا باپ ہے۔ سُہراب نے جنگ اس نیت سے چھیڑی کہ رُستم کو ڈھونڈ کر پہچان لے یا شکست دے کر نام حاصل کرے۔
میدان سجا۔ دونوں آمنے سامنے آئے۔ طاقت طاقت سے ٹکرائی، مگر پہچان خاموش رہی۔ تین دن کی لڑائی میں زمین لرزتی رہی۔ سُہراب بار بار پوچھتا رہا:
“تم کون ہو؟”
اور رُستم، روایت اور فخر کے بوجھ تلے، سچ کہنے سے ٹالتا رہا۔
چوتھے دن، ایک وار نے فیصلہ کر دیا۔ سُہراب گرا۔ اس نے اپنی زرہ کھولی اور بازو پر وہی نشان نکلا جو کبھی رُستم نے تہمنہ کو دیا تھا۔ رُستم کے ہاتھ کانپ گئے۔ وقت رک گیا۔ جو نام جنگ میں چھپا رہا تھا، وہ موت میں ظاہر ہو گیا۔
رُستم نے آسمان کی طرف دیکھا، مگر دیوتا خاموش تھے۔ اس نے سُہراب کو سینے سے لگایا، مگر تاخیر ہو چکی تھی۔ فارس نے جیت کا اعلان کیا، مگر رُستم نے ہار قبول کی
ایسی ہار جو فتح سے بھاری تھی۔ اس دن کے بعد اس کی طاقت قصہ بنی، مگر خاموشی اس کی سزا رہی۔
سبق
سچ کو وقتی حکمت سمجھ کر چھپایا جائے تو وہ انجام میں المیہ بن جاتا ہے۔ طاقت اگر شناخت اور رحم کے بغیر ہو، تو وہ اپنے ہی وجود کو زخمی کر دیتی ہے۔
حوالہ جات
فردوسی، شاہنامہ — داستانِ رُستم و سُہراب
کلاسیکی فارسی رزمیہ ادب
Public Domain Persian Epic Literature
