بلاعنوان۔۔۔😄!

بلاعنوان۔۔۔😄!

جب پپو نے اسکول کی چھٹی کے لیے اپنی ہی وفات کا جھوٹا لیٹر لکھ دیا
پپو کا ریاضی یعنی میتھس کا ٹیسٹ تھا جس کی اس نے ایک لفظ بھی تیاری نہیں کی تھی۔ صبح اٹھتے ہی اسے بخار کا بہانہ سوجھا، پھر پیٹ درد کا، لیکن جب امی نے عرقِ گلاب اور کڑوی دوا نکال لی تو پپو نے پینترا بدلا۔ اس نے سوچا کہ کوئی ایسا بڑا بہانہ ہونا چاہیے کہ ٹیچر اسے اگلے ایک ہفتے تک فون بھی نہ کریں۔
اس نے بڑی سنجیدگی سے ایک خط لکھا: محترمہ ٹیچر صاحبہ! بڑے افسوس کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہ آپ کا پیارا اور ذہین طالب علم پپو آج صبح اس دنیا سے رخصت ہو گیا ہے، لہٰذا وہ آج ٹیسٹ دینے نہیں آ سکے گا۔ نیچے اس نے اپنے ابو کے جلی حروف میں دستخط بھی کر دیے۔ اس نے یہ خط اسکول کے چوکیدار کے ہاتھ پرنسپل کے آفس بھجوا دیا اور خود سکون سے چادر تان کر سو گیا کہ اب تو ہفتہ بھر کی چھٹی پکی ہے!
مزاحیہ تباہی والا اختتام:
پپو ابھی خوابِ خرگوش کے مزے لے ہی رہا تھا کہ اچانک اس کے گھر کے باہر ایمبولینس کے سائرن، لوگوں کے رونے دھونے کی آوازیں اور اللہ اکبر کی صدائیں آنے لگیں۔
ہوا یہ کہ پرنسپل صاحبہ نے خط پڑھتے ہی اسکول میں سوگ کا اعلان کر دیا، آدھے اسکول کی چھٹی کر دی اور تمام اساتذہ، کلاس فیلوز اور محلے کے قاری صاحب کو لے کر جنازے میں شرکت کے لیے پپو کے گھر پہنچ گئیں۔
پپو کے ابو، جو باہر صحن میں اطمینان سے اخبار پڑھ رہے تھے، جب انہوں نے دیکھا کہ پورا اسکول بینڈ باجے کے بغیر ان کے گھر ماتم کرتا ہوا گھس رہا ہے اور قاری صاحب پپو کی مغفرت کی دعائیں مانگ رہے ہیں، تو ان کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔
ابھی وہ کچھ پوچھتے، پرنسپل صاحبہ نے روتے ہوئے وہ خط ابو کے ہاتھ میں تھما دیا۔ ابو نے جیسے ہی پپو کی لکھائی پہچانی، ان کا پارہ 100 ڈگری پر پہنچ گیا۔ وہ سیدھے کمرے میں گئے، پپو کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے تمام سوگواروں کے سامنے لے آئے اور بولے: یہ رہا میرا مرحوم بیٹا! قاری صاحب! ذرا اس کی غائبانہ نمازِ جنازہ کے بجائے حاضرانہ چھترول کا بندوبست کریںپپو کی اس اچانک واپسی پر جہاں پورا سکول حیرت زدہ رہ گیا، وہیں قاری صاحب نے فوراً اپنا جوتا نکالا اور غصے سے بولے کہ پپو بیٹا جنازہ تو تمہارا اب بھی نکلنا ہے، بس فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے تم رخصت ہو چکے تھے اور اب ہم تمہیں رخصت کریں گے۔

Leave a Reply

NZ's Corner