ایک جنگل میں ایک طاقتور شیر شکار کی تلاش میں نکلا۔ اس کے ساتھ ایک ریچھ اور ایک لومڑی بھی تھے۔ قسمت سے تین شکار ہاتھ آئے: ایک گائے، ایک ہرن اور ایک خرگوش۔
واپسی پر ریچھ کے انداز میں خود اعتمادی سے زیادہ غرور تھا۔ شیر نے کہا، “بتاؤ، ان کی تقسیم کیسے ہوگی؟”
ریچھ نے سینہ تان کر کہا، “گائے آپ کی شان کے لائق ہے، ہرن میرا حصہ، اور خرگوش لومڑی کو دے دیا جائے۔”
بات مکمل بھی نہ ہوئی تھی کہ شیر کے ایک ہی وار نے ریچھ کا غرور خاک میں ملا دیا۔
اب شیر نے لومڑی کی طرف دیکھا، “تم بتاؤ، تقسیم کیسے کرو گی؟”
لومڑی نے ادب سے سر جھکا کر کہا، “حضور، خرگوش صبح کے ناشتے کے لیے، گائے دوپہر کے کھانے کے لیے، اور ہرن رات کے کھانے کے لیے پیش ہے۔”
شیر مسکرایا اور بولا، “یہ حکمت کہاں سے سیکھی؟”
لومڑی نے نظریں جھکا کر کہا، “ریچھ کے انجام سے۔”
اے بے خبر انسان… ذرا ٹھہر اور موت کے سائے کو غور سے دیکھ۔
حضرت مولانا جلال الدین رومی کا مفہوم ہے کہ زندگی ہر لمحہ ہمیں سکھا رہی ہے، مگر ہم سننا نہیں چاہتے
سبق:
دانش صرف بولنے یا آگے بڑھنے کا نام نہیں، دانش یہ ہے کہ انسان دوسروں کی غلطیوں اور انجام سے خود کو سنوار لے۔
ہم روز جنازے اٹھتے دیکھتے ہیں، قبر کی مٹی کو گرتے دیکھتے ہیں، چہرے مٹتے اور نام بھلتے دیکھتے ہیں— مگر دل پھر بھی دنیا کی چمک میں کھو جاتا ہے۔
یاد رکھو… موت سب سے سچی استاد ہے۔ جو اس کے آنے سے پہلے سنبھل گیا، وہی اصل کامیاب ہے۔
اپنے دل کو نرم کرو، اپنے اعمال کو درست کرو، اس سے پہلے کہ وقت کا دروازہ بند ہو جائے اور واپسی کا راستہ نہ ملے۔
اگر یہ تحریر دل کو چھو جائے تو اسے آگے ضرور پہنچائیں۔
#سبق_آموز
#مولانا_رومی
#حکمت
#دانائی
#موت_کی_یاد
#اصلاح_نفس
#غرور
#حرص_دنیا
#زندگی_کا_سبق
#اسلامی_تحریر
#روحانیت
#دل_کی_بات
#نصیحت
#فکر_آخرت
