بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

عربی کی ایک مشہور حکایت ہے کہ کسی بستی کے لوگ جھوٹ بولنے اور جھوٹی گواہی دینے کے لیے بدنام تھے۔ اسی بستی کے ایک مرد اور عورت نے خفیہ طور پر، مگر شرعی تقاضوں کے مطابق قاضی اور گواہوں کی موجودگی میں نکاح کر لیا۔
کچھ عرصے بعد میاں بیوی میں ناچاقی ہوگئی۔ شوہر نے نہ صرف بیوی کو گھر سے نکال دیا، بلکہ اسے تمام شرعی حقوق سے بھی محروم کر دیا۔ خاتون انصاف کے لیے شہر کے قاضی کی عدالت میں پہنچی اور اپنی فریاد پیش کی۔
قاضی نے کہا: “تمہارے اس نکاح کی تو کسی کو خبر ہی نہیں۔”
خاتون نے اصرار کیا: “جناب! ہمارا نکاح عین شریعت کے مطابق ہوا تھا۔”
قاضی نے پوچھا: “کیا کوئی گواہ ہے؟”
خاتون نے جواب دیا: “جی قاضی صاحب! دو گواہ تھے، جن کی موجودگی میں یہ نکاح پڑھایا گیا تھا۔”
قاضی نے شوہر اور گواہوں کو طلب کر لیا، مگر انہوں نے بھری عدالت میں خاتون کو پہچاننے سے بھی انکار کر دیا اور بیک زبان ہو کر بولے: “ہم نے آج سے پہلے اس عورت کو کبھی دیکھا تک نہیں۔”
قاضی صاحب نے ان سب کے چہروں پر گہری نظر ڈالی اور خاتون سے پوچھا: “کیا تمہارے شوہر کے پاس کتے ہیں؟”
خاتون نے کہا: “جی ہاں۔”
قاضی نے پوچھا: “کیا تم کتوں کی گواہی اور ان کے فیصلے کو قبول کرو گی؟”
خاتون نے کہا: “جی، مجھے ان کا فیصلہ منظور ہے۔”
قاضی نے حکم دیا کہ خاتون کو اس شخص کے گھر لے جایا جائے۔ اگر کتے اسے اجنبی جان کر بھونکنے لگیں تو عورت جھوٹی ہے، اور اگر وہ اسے گھر کا فرد سمجھ کر خوشی سے اس کا استقبال کریں تو خاتون کا دعویٰ درست اور شوہر و گواہ جھوٹے ہیں۔
یہ حکم سنتے ہی شوہر اور گواہوں کے چہرے خوف سے پیلے پڑ گئے اور ان کے جسم کپکپانے لگے۔ فیصلہ ہو چکا تھا کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون۔ قاضی نے سپاہیوں کو حکم دیا: “ان جھوٹوں کو گرفتار کر لو اور انہیں کوڑے لگاؤ۔”
قاضی نے اپنے مشاہدے میں درج کیا:
“وہ بستیاں بدترین ہیں جن کے باشندوں سے زیادہ ان کے کتے سچے ہوں۔”

Leave a Reply

NZ's Corner