آج ایک دودھ والا ملا۔۔۔ کہنے لگا، “میں رزقِ حلال میں خوش ہوں۔”
میں نے پوچھا، “کیسے؟ میں نے تو دیکھا ہے کہ اکثر دودھ والے روتے دھوتے رہتے ہیں، ریٹ صحیح نہیں ملتا، لوگ پیسے روک لیتے ہیں۔”
وہ ہنس کر بولا، “بھائی، میں آپ کو بتاتا ہوں۔ ہر انسان چاہتا ہے کہ اسے خالص دودھ ملے، ہم پیچھے سے بھی خالص ہی دودھ لیتے ہیں، ہمیں پتہ ہوتا ہے کون ہیرا پھیری کر رہا ہے۔”
“ہمارے محلے میں کئی دودھ والے ہیں جو شہر کو دودھ دیتے ہیں، ان کے گھر دیکھ لیں، پلاٹ دیکھ لیں، لیکن جب وہ ملتے ہیں تو روتے دھوتے ہیں۔ کیونکہ جب وہ دودھ سے کریم نکلوائیں گے یا پانی ملا کر خالص دودھ کو نا خالص کریں گے، تو برکت کہاں سے آئے گی؟”
“پیسے کی فراوانی تو ہو سکتی ہے، لیکن جو زندگی میں برکت ہے وہ ختم ہو جائے گی۔ میں آج تک کریم نہیں نکلوائی اور نہ ہی آج تک پیسے روکے۔ گھر والے ایسے ہی پیسے نہیں روک لیتے، جب انہیں نظر آتا ہے کہ انسان بے ایمان ہو گیا ہے۔”
“مجھے ریٹ سے دس روپے زیادہ مل جاتے ہیں، میں اپنے سارے خرچے نکال کر گھر والوں کے لیے اچھی خوراک اور کپڑے لے آتا ہوں۔ میری زندگی میں برکت ہے۔ چاہے میں کم کماؤں، لیکن حلال کھاتا ہوں!”
اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو مجھے فالو ضرور کریں
