پھانسی سے قبل مجرم سے آخری خواہش پوچھی گئی تو اس نے حج سے کہا کہ جیل کی چٹائی پر مجھے نیند نہیں آتی، میں زندگی کی آخری رات چٹائی کی بجائے ایک آرام دہ بیڈ پر سونا چاہتا ہوں اور بیڈ پر برف کا بلاک بھی موجود ہونا چاہیے۔
پھانسی سے ایک رات پہلے جب حج محمد یوسف کی کوٹھڑی میں داخل ہوا تو اس کی آنکھوں میں عجیب سی ٹھہراؤ تھا۔ جیل کے اُجالے میں بھی وہ شخص سائے کی طرح لگ رہا تھا۔ حج نے پوچھا: کوئی آخری خواہش؟
محمد یوسف نے آہستگی سے سر اٹھایا۔ اس کی داڑھی میں سفیدی پھیل چکی تھی، مگر آنکھوں میں وہی تیزی تھی جو بیس سال پہلے تھی جب وہ جھنگ کی گلیوں میں موٹر سائیکل کی آواز سے پوری بستی جگا دیا کرتا تھا۔
اس نے کہا: حج صاحب، مجھے جیل کی چٹائی پر نیند نہیں آتی۔ زندگی کی آخری رات ہے۔ میں آرام دہ بیڈ پر سونا چاہتا ہوں۔ اور بیڈ پر برف کا بلاک بھی رکھا جائے۔
حج ٹھٹھک گیا۔ بیڈ تو مانگ لیا، مگر برف؟ دسمبر کی رات، پنجاب کی کڑی سردی میں برف؟ اس نے سوچا شاید یوسف کا دماغ متاثر ہے۔ مگر قانون کہتا ہے، مجرم کی آخری خواہش پوری کی جائے۔
چند گھنٹوں میں جیل کی اس کوٹھڑی میں شہر کے بہترین فرنیچر سٹور سے پلنگ منگوایا گیا۔ نیچے کشن، اوپر نرم گدیلہ۔ اور پلنگ کے سرہانے برف کا بلاک رکھ دیا گیا۔ سفید، ٹھنڈا، جمی ہوئی چادر کی طرح۔
محمد یوسف پلنگ پر لیٹ گیا۔ اس نے برف کو چھوا۔ پھر مسکرایا۔ ایسی مسکراہٹ جیسے کوئی شخص طویل سفر کے بعد گھر واپس آ گیا ہو۔
رات گہری ہو چکی تھی۔ جیل کے باہر شور کم ہو گیا تھا۔ صرف ہوا کی سیٹی اور کہیں دور کتے کا بھونکنا۔ یوسف نے آنکھیں بند کیں۔ ہاتھ برف پر رکھے تھے۔ انگلیاں جم رہی تھیں، مگر وہ ہٹا نہیں رہا تھا۔
آدھی رات کا وقت تھا۔ جب پوری دنیا نیند کی گود میں جا چکی تھی، محمد یوسف نے اچانک آنکھیں کھولیں۔ اس کی سانس تیز ہو گئی۔ وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔ اس کے چہرے پر خوف نہیں، بلکہ ایک عجیب سی بے چینی تھی۔
اس نے آواز دی: حج صاحب! حج صاحب!
حج دوڑتا ہوا آیا۔ اس نے سوچا شاید موت کا خوف ہے، شاید پھانسی کا ڈر۔ مگر یوسف نے کہا: وہ خط۔ میری الماری میں، کپڑوں کے نیچے۔ وہ خط لا دیں۔
حج حیران تھا۔ مگر وہ گیا۔ الماری کھولی۔ کپڑوں کے نیچے واقعی ایک پاکٹ تھا، اور اس میں پرانا، زرد پڑ چکا خط۔
یوسف نے خط تھاما۔ ہاتھ کانپ رہے تھے۔ مگر برف کو چھوتے ہی اس کے ہاتھ ٹھہر گئے۔ اس نے خط کھولا۔ ورق پر بنے حروف مدھم پڑ چکے تھے، مگر یوسف کی آنکھوں نے انہیں پڑھ لیا۔
وہ خط بیس سال پرانا تھا۔ اور اسے لکھا تھا اس کی ماں نے۔
ماں جسے اس نے خود اس گھر سے نکالا تھا۔ ماں جس کے چہرے پر اس نے آخری بار دروازہ بند ہوتے دیکھا تھا۔ ماں جس کی کفن کی خاطر اس نے ایک روپیہ نہ دیا تھا۔
یوسف کی آنکھیں نم تھیں۔ اس نے حج سے کہا: حج صاحب، آپ جانتے ہیں میں نے یہ قتل کیوں کیا تھا؟
حج خاموش تھا۔ مقدمے میں سب کچھ درج تھا۔ محمد یوسف نے اپنے کاروباری پارٹنر کو قتل کیا تھا۔ جائیداد کا جھگڑا۔ عدالت کو یہی ثبوت ملا۔ یوسف نے جرم بھی قبول کر لیا تھا۔
مگر اس رات، برف کے بلاک کے پاس بیٹھے یوسف نے وہ کہانی سنائی جو کسی عدالت میں نہیں گئی تھی۔
اس نے کہا: میرے بابا جی کا انتقال تب ہوا جب میں دس سال کا تھا۔ اماں نے دوسروں کے گھر کپڑے سی کر مجھے پڑھایا۔ جب میں بڑا ہوا، کاروبار کیا، نام کمایا، تو اماں کو بھول گیا۔ ان کی سادی چادر میرے گھر کی ماربل فرش پر پھیکی لگتی تھی۔ ان کی پرانی چپل واک الماری میں عجیب لگتی تھی۔
میں نے ان سے کہا: اماں، تم باہر رہو۔ تمہاری عادتیں میرے بچوں کے لیے ٹھیک نہیں۔
ماں نے کچھ نہیں کہا۔ وہ چپ چاپ اٹھی، اپنی پرانی چادر سنبھالی، اور گھر سے نکل گئی۔ جاتے جاتے دروازے پر کھڑی ہو کر بولی: بیٹا، تجھے کبھی نیند نہ آئے گی۔
یوسف کی آواز ٹوٹ گئی۔ اس نے برف کو چھوا۔ پھر بولا: حج صاحب، جب سے ماں گئی، مجھے نیند نہیں آئی۔ بیس سال ہو گئے۔ ہر رات وہ جملہ کان میں گونجتا ہے۔ تجھے کبھی نیند نہ آئے گی۔
میں نے ڈاکٹروں کو دکھایا، معالج بدلے، دوائیں کھائیں، مگر نیند نہیں آئی۔ اور پھر وہ شخص میرے کاروبار میں آیا۔ میرے پارٹنر نے مجھے دھوکہ دیا، میرا سب کچھ لے لیا۔ مگر مجھے غصہ اس بات پر تھا کہ وہ بچوں کے سامنے بولا: تیری ماں ٹھکانے لگی۔
یوسف نے آنکھیں بند کر لیں۔ اس کی انگلیاں برف پر پھر رہی تھیں، جیسے کوئی چہرہ پہچاننے کی کوشش ہو۔
اس نے کہا: جس رات قتل کیا، اُس رات پہلی بار مجھے نیند آئی۔ پولیس نے جب گرفتار کیا، تب میں سو رہا تھا۔ میرے چہرے پر سکون تھا۔ لوگ حیران تھے کہ قاتل اتنا پُرسکون کیسے۔
مگر حج صاحب، وہ نیند چند گھنٹوں کی تھی۔ پھر وہی بے خوابی۔ جیل کی چٹائی، لوہے کی سلاخیں، مگر ماں کا چہرہ آنکھوں کے سامنے۔
یوسف نے خط حج کی طرف بڑھایا۔ اس نے کہا: یہ خط اماں نے مرنے سے پہلے لکھا تھا۔ کسی پڑوسی کے ذریعے میرے پاس پہنچا۔ مگر میں نے پڑھا نہیں تھا۔ آج پہلی بار پڑھا ہے۔
حج نے خط پڑھا۔ ماں نے لکھا تھا:
“بیٹا یوسف،
تجھے معلوم ہے، جب تو سو رہا ہوتا تھا چھوٹا سا، تو میں تیرے سرہانے بیٹھا کرتی تھی۔ رات کو تیری نیند ٹوٹتی تو میں برف کا ٹکڑا تیرے ماتھے پر رکھ دیتی تھی۔ تجھے بخار تھا یا نہیں، میں جانتی نہیں، مگر برف کی ٹھنڈک سے تو چین سے سو جاتا تھا۔
آج میں جا رہی ہوں۔ تجھے معلوم ہے، میں نے تجھے معاف کر دیا ہے۔ مگر بیٹا، نیند تو آتی نہیں۔ نہ مجھے، نہ تجھے۔
میں ہر رات تیرے لیے دعا کرتی ہوں۔ تجھے نیند آئے۔
تیری اماں”
حج کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ یوسف نے برف کو دونوں ہاتھوں سے پکڑا اور ماتھے سے لگا لیا۔ جیسے بیس سال پہلے ماں نے اس کے سرہانے بیٹھ کر برف رکھی تھی۔
اس نے آنکھیں بند کیں۔ پلنگ پر لیٹ گیا۔ برف کا بلاک اب پگھلنا شروع ہو چکا تھا، پانی کی بوندیں فرش پر ٹپک رہی تھیں۔
صبح ہوئی تو جیل کے سپاہی اندر آئے۔ محمد یوسف پلنگ پر سو رہا تھا۔ اس کے چہرے پر ایسا سکون تھا جیسے کسی طویل مسافت کے بعد ٹھکانہ مل گیا ہو۔
اس کی انگلیاں برف سے لگی تھیں۔ برف پگھل چکی تھی۔ مگر اس کے ماتھے کی ٹھنڈک ابھی تک باقی تھی۔
پھانسی تب دی گئی جب وہ سو رہا تھا۔
جیل کے ریکارڈ میں لکھا گیا: مجرم نے بڑی بے خوفی سے پھانسی پائی۔
مگر حج جانتا تھا، محمد یوسف نے پھانسی نہیں پائی۔ اس نے ماں کو پا لیا تھا۔ اور بیس سال بعد، پہلی بار، اس کی نیند پوری ہوئی تھی۔
—
خلاصہ:
ماں کا معاف کر دینا بھی ایک دعا ہوتی ہے جو برسوں بعد بھی قبول ہوتی ہے۔ بیٹے کی آخری خواہش برف کا بلاک تھا، مگر اس کی حقیقی خواہش ماں کا ہاتھ تھا جو کبھی اس کے سرہانے ہوتا تھا۔
منقول
