*ایک وسیع اور پیاس سے تڑپتے گھاس کے میدان میں ایک ہی دریا بہتا تھا — وہی دریا جو ہر جاندار کی زندگی کا سہارا تھا۔ ننھے ہرن سے لے کر بلند قامت زرافے تک، سب اپنی بقا کے لیے اسی کے شفاف اور ٹھنڈے پانی پر انحصار کرتے تھے۔ خشک سالی کے دنوں میں، جب تالاب سوکھ جاتے اور گھاس زرد ہو جاتی، یہی دریا امید کی آخری کرن بن جاتا۔*
ایک سال ایسا آیا کہ ایک طاقتور بھینسے نے دریا کے ایک تنگ موڑ پر قبضہ جما لیا۔ وہ جگہ ایسی تھی جہاں سے گزرے بغیر کوئی جانور پانی تک نہیں پہنچ سکتا تھا۔ اس نے وہیں ڈیرہ ڈال لیا۔ اس کا بھاری جسم راستہ روکے کھڑا تھا اور اس کے نوکیلے سینگ ہر آنے والے کے لیے خوف کی علامت بن گئے۔
جو بھی پیاسا جانور قریب آتا، وہ زور سے پھنکارتا اور زمین پر کھر مارتا۔
وہ غرّاتا:
“یہ دریا میرا ہے! میری اجازت کے بغیر کوئی یہاں سے پانی نہیں پیے گا۔”
سب سے پہلے زیبرا آیا، مگر بھینسے نے اسے ڈرا کر بھگا دیا۔
پھر غزالوں نے کوشش کی، مگر وہ بھی خوفزدہ ہو کر واپس لوٹ گئیں۔
حتیٰ کہ ہاتھی نے بھی، اپنی بے پناہ طاقت کے باوجود، اس تنگ جگہ پر لڑائی کو خطرناک سمجھتے ہوئے پیچھے ہٹ جانا بہتر سمجھا۔
ادھر بھینسا جی بھر کر پانی پیتا اور کیچڑ میں مزے سے لیٹا رہتا، جبکہ باقی جانور چند قطروں کے لیے ترستے رہے۔ کچھ بیمار پڑ گئے، کچھ نے علاقہ چھوڑ دیا۔
اسی دوران ایک دانا کچھوا سب کے پاس آیا۔ اس نے آہستگی سے کہا:
“دریا کسی ایک کی ملکیت نہیں ہوتا۔ اگر ایک نے اسے روک لیا تو سب تباہ ہوں گے… اور وقت آنے پر وہ خود بھی نہیں بچے گا۔”
جانوروں نے مل کر منصوبہ بنایا۔
بندروں نے اوپر کی سمت درختوں کی شاخیں ہلا دیں تاکہ لکڑیاں اور پتے بہہ کر آئیں۔
ہاتھیوں نے مٹی اور پتھر ہٹا کر ساتھ میں ایک نئی نالی بنانا شروع کی۔
جنگلی سوروں نے کناروں پر کھدائی کی۔
آہستہ آہستہ پانی نے نیا راستہ اختیار کر لیا۔
اب دریا کی ایک شاخ اس موڑ سے ہٹ کر بہنے لگی۔
ایک صبح بھینسا جاگا تو اس نے دیکھا کہ اس کے اردگرد پانی کم ہو چکا ہے۔ کچھ ہی دیر میں وہ سکڑتے ہوئے کیچڑ کے گڑھے میں کھڑا تھا، جبکہ صاف پانی اس کی پہنچ سے دور بہہ رہا تھا۔
وہ غصے میں نئے راستے کی طرف بڑھا، مگر اب سب جانور متحد تھے۔
ہاتھی سامنے ڈٹے کھڑے تھے، ہرن کناروں پر موجود تھے، اور چھوٹے سے چھوٹا جاندار بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہ تھا۔
تب اسے سمجھ آیا کہ اتحاد کے سامنے انفرادی طاقت کچھ نہیں۔
شرمندہ ہو کر وہ ایک طرف ہٹ گیا۔
اس دن کے بعد دریا سب کے لیے آزاد ہو گیا۔
کسی کو اجازت نہ دی گئی کہ وہ اسے اپنی ذاتی جاگیر سمجھے۔
✨ اخلاقی سبق:
جب کوئی فرد یا گروہ ان وسائل پر قبضہ کر لیتا ہے جو سب کے لیے ہوتے ہیں، تو ناانصافی، تکلیف اور بگاڑ جنم لیتا ہے۔ پانی، زمین اور رزق جیسے بنیادی وسائل پر اجارہ داری وقتی طاقت تو دے سکتی ہے، مگر بالآخر پورے معاشرے کو کمزور کر دیتی ہے۔
اصل طاقت غلبے میں نہیں، بلکہ انصاف، اشتراک اور اتحاد میں ہے۔ جب کمزور اور طاقتور سب مل کر ناانصافی کے خلاف کھڑے ہو جائیں، تو سب سے بڑی رکاوٹ بھی ٹوٹ جاتی ہے۔
اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہو تو شئیر کریں
۔
