چچا فیدا اور “یادداشت” کی گولی
چچا فیدا کی یادداشت اتنی کمزور تھی کہ وہ اکثر یہ بھول جاتے تھے کہ انہوں نے کھانا کھا لیا ہے یا ابھی کھانا ہے۔ ایک دن وہ ڈاکٹر کے پاس پہنچے اور بڑے سنجیدہ ہو کر بولے:
چچا فیدا: “ڈاکٹر صاحب! کوئی ایسی دوا دیں کہ میری یادداشت کمپیوٹر جیسی ہو جائے۔ کل میں اپنی بیگم کا نام بھول گیا تھا، اس نے بیلن سے میری یادداشت تھوڑی ‘تازہ’ تو کی ہے، پر مستقل حل چاہیے۔”
ڈاکٹر صاحب نے ایک چمکدار نیلی گولی نکالی اور بولے: “چچا جی! یہ ‘سپرا سمارٹ’ گولی ہے۔ اسے روزانہ صبح نہار منہ کھائیں، آپ کو بچپن کی باتیں بھی یاد آ جائیں گی۔”
چچا گولی لے کر چلے گئے۔ ایک ہفتے بعد وہ دوبارہ ڈاکٹر کے پاس آئے، مگر اس بار ان کے چہرے پر غصہ تھا۔
چچا فیدا: “اوئے ڈاکٹر! یہ کیسی گولی دی تھی تو نے؟ اسے کھا کر مجھے کچھ بھی یاد نہیں آ رہا، بلکہ اب تو مجھے یہ بھی شک ہے کہ میں یہاں کیوں آیا تھا!”
ڈاکٹر حیران رہ گیا: “ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ اچھا یہ بتائیں، کیا آپ نے وہ نیلی گولی باقاعدگی سے کھائی تھی؟”
چچا فیدا نے سر کھجایا اور بولے: “نیلی گولی؟ وہ تو میں نے نہیں کھائی، وہ تو میں نے اپنے ‘کتے’ کو کھلا دی تھی یہ چیک کرنے کے لیے کہ کہیں یہ زہریلی تو نہیں!”
ڈاکٹر نے ماتھا پیٹا: “تو پھر؟ کتے کا کیا حال ہے؟”
چچا فیدا کی آنکھیں چمک اٹھیں اور بڑے فخر سے بولے:
“کتا تو ماشاءاللہ اب کمال کا ہو گیا ہے! کل اسے گلی میں ایک ہڈی ملی، اس نے اسے سونگھا اور فوراً بھونک کر مجھے بتایا کہ: ‘مالک! یہ وہی ہڈی ہے جو آپ نے سن 1998 میں پڑوسی کے کتے سے چھین کر مجھے دی تھی!'”
منقول
