بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

ایک بادشاہ نے اپنے دربار میں ایک قیدی کو لایا۔ وہ شخص موت کی سزا کا مستحق قرار دیا جا چکا تھا۔ جب اسے معلوم ہوا کہ اب اس کی زندگی کے چند ہی لمحے باقی ہیں تو وہ غصے اور مایوسی میں بادشاہ کو برا بھلا کہنے لگا۔

بادشاہ کو اس کی زبان سمجھ نہیں آ رہی تھی، کیونکہ وہ کسی دوسرے علاقے کی زبان بول رہا تھا۔
بادشاہ نے اپنے وزیر سے پوچھا:

“یہ قیدی کیا کہہ رہا ہے؟”

وزیر ایک نیک دل اور نرم طبیعت انسان تھا۔ اس نے کہا:
“حضور! یہ کہہ رہا ہے کہ جو لوگ غصے کو پی جاتے ہیں اور لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں، اللہ انہیں پسند کرتا ہے۔”

بادشاہ نے یہ بات سنی تو اس کا دل نرم ہو گیا اور اس نے قیدی کو معاف کرنے کا حکم دے دیا۔

لیکن دربار میں موجود ایک اور وزیر نے فوراً کہا:
“بادشاہ سلامت! اس وزیر نے آپ سے سچ نہیں کہا۔ قیدی تو آپ کو برا بھلا کہہ رہا تھا۔”

بادشاہ کچھ دیر خاموش رہا، پھر مسکرا کر بولا:
“مجھے اس وزیر کا جھوٹ زیادہ پسند آیا، کیونکہ اس کے جھوٹ سے ایک انسان کی جان بچ گئی۔ اور مجھے تمہارا سچ پسند نہیں آیا، کیونکہ اس سے ایک بے گناہ کی جان جا سکتی تھی۔”

سبق:
بعض اوقات ایسا سچ جو نقصان پہنچائے، اس جھوٹ سے کم تر ہوتا ہے جو کسی کی جان بچا لے اور دلوں میں نرمی پیدا کرے۔

Leave a Reply

NZ's Corner