بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

ایک بادشاہ کہیں جا رہا تھا۔ راستے میں اس کی نظر ایک کمہار پر پڑی جو اپنے ساتھ بہت سے گدھے لے کر جا رہا تھا۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ تمام گدھے ایک ہی قطار میں سیدھے چل رہے تھے۔

بادشاہ نے کمہار سے پوچھا:
“تم ان گدھوں کو اس طرح سیدھی لائن میں کیسے رکھتے ہو؟”

کمہار نے جواب دیا:
“عالی پناہ! جو گدھا لائن توڑتا ہے، میں اسے سزا دیتا ہوں۔ اسی خوف کی وجہ سے باقی سب گدھے قطار میں چلتے رہتے ہیں۔”

بادشاہ نے مزید پوچھا:
“تم انہیں کس قسم کی سزا دیتے ہو؟”

کمہار نے کہا:
“گدھوں کی عادت ہوتی ہے کہ سیدھا چلنے کے لیے ان کی پیٹھ پر ایک خاص وزن ہونا چاہیے۔ اگر وزن کم ہو تو وہ اپنی راہ سے ہٹ جاتے ہیں۔
لیکن بعض شریر گدھے مناسب وزن کے باوجود بھی لائن چھوڑ دیتے ہیں۔ ایسے گدھے کا وزن بطور سزا مزید بڑھا دیتا ہوں جس سے وہ بڑی مشکل سے چلتا ہے۔ اور اگر کوئی دوسرا گدھا اس کی مدد کے لیے آ جائے تو اسے بھی یہی سزا دیتا ہوں۔ اسی لیے یہ سب گدھے سیدھی قطار میں چلتے ہیں۔”

کمہار کی بات سن کر بادشاہ بہت متاثر ہوا اور اس نے کہا:
“کیا تم میرے ملک میں بھی امن قائم کر سکتے ہو؟”

کمہار نے ہامی بھر لی۔ دارالحکومت پہنچنے کے بعد بادشاہ نے اسے شہر کا قاضی مقرر کر دیا۔

ایک دن کمہار کے سامنے ایک چور کا مقدمہ پیش ہوا۔ جرم ثابت ہونے پر کمہار نے فوراً حکم دیا کہ چور کے ہاتھ کاٹ دیے جائیں۔
جلاد نے آہستہ سے کمہار کے کان میں کہا:
“جناب! یہ وزیر صاحب کا خاص آدمی ہے۔”

یہ سن کر کمہار نے دوبارہ وہی حکم دیا:
“چور کے ہاتھ کاٹ دیے جائیں۔”

اب وزیر خود کمہار کے پاس آیا اور اس کے کان میں کہنے لگا:
“جناب! یہ اپنا ہی آدمی ہے، کچھ خیال کریں۔”

یہ سن کر کمہار نے فوراً فیصلہ سنایا:
“چور کے ہاتھ کاٹ دیے جائیں… اور وزیر کی زبان بھی کاٹ دی جائے۔”

کہا جاتا ہے کہ کمہار کے اس ایک فیصلے کے بعد ہی پورے ملک میں انصاف اور امن قائم ہونا شروع ہو گیا۔

بدقسمتی سے آج کل اچھی اور سبق آموز باتیں کم ہی شیئر کی جاتی ہیں، جبکہ ناچ گانے اور فضول چیزیں تیزی سے پھیل جاتی ہیں۔

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو اسے لائک، شیئر ضرور کریں اور مجھے فالو بھی کریں۔ شکریہ۔

Leave a Reply

NZ's Corner