ایک آدمی اپنے پیر صاحب کے پاس گیا اور عرض کی کہ مجھے طاقت دیں، اسمِ اعظم عطا کریں۔ اُنہوں نے فرمایا “ آج کا دن سیر و تفریح کر لو، کل دیکھیں گے۔”
وہ شخص پھرتا پھراتا جنگل میں چلا گیا۔وہاں اس نے کیا دیکھا کہ ایک لکڑ ہارا لکڑیوں کا گٹھا اُٹھاۓ چلا آ رہا ہے۔ تھکا تھکا آیا۔ وہاں سے شہر کا کوتوال گزرا۔ اس نے کہا” بابا ! یہ لکڑیاں مجھے دے دو، مجھے ضرورت ہے۔” بوڑھے نے اُس سے معاوضہ مانگا۔ کوتوال نے کہا” تو مجھے نہیں جانتا، میں شہر کا کوتوال ہوں۔”
بوڑھے نے کہا” کوتوال ضرور ہو گا مگر پیسے تو دو۔”قصہ کوتاہ، کوتوال نے بوڑھے کو مارا، پیسے بھی نہ دیےاور لکڑی بھی لے گیا۔
بے چارہ مرید دوسرے دن پیر کے پاس گیا۔ انہوں نے پوچھا”تُم نے کیا دیکھا؟” مرید نے سارا واقعہ کہہ سُنایا ۔ اُنہوں نے دوبارہ فرمایا” اگر تمہارے پاس اَِسمِ اعظم ہوتا تو تم کیا کرتے۔” کہنے لگا” میں یہ ظلم نہ ہونے دیتا۔”
فرمایا “ بات سُنو ! وہ جو بوڑھا لکڑ ہارا ہے وہ میرا پیر ہے اور میں نے اِسمِ اعظم اس سے لیا ہے۔”
۔۔۔۔۔ حضرت واصف علی واصف رح
( کتاب؛۔ گفتگو 3 )
