بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

سنہ 1595 میں سلطنت عثمانیہ اپنے عروج پر تھی ۔سلطان مراد سوم کے انتقال پر ان کے بیٹے محمت ثالث کو ملا۔
لیکن اس دن کو تاریخ میں سیاہ دن کے نام سے یاد رکھا جاتا ہے۔اس دن استنبول کے شاہی محل سے 19 شہزادوں کے جنازوں نکلے۔ یہ جنازے نئے سلطان محمت سوم کے بھائیوں کے تھے جنھیں سلطنت میں اس وقت رائج بھائیوں کے قتل کی شاہی روایت کے تحت نئے سلطان کے تخت پر بیٹھتے ہی باری باری گلا گھونٹ کر ہلاک کر دیا گیا تھا-یہ قانون سلطان محمت ثانی کی جانب سے بنایا گیا تھا جس میں لکھ تھا کہ اگر سلطنت میں بغاوت کا اندیشہ ہو تو فرمانروا کو اختیار ہے کہ وہ سلطنت کی بھلائی کے لیے اپنے بھائیوں کا خون بہا سکتا ہے۔بعد میں آنے والے کئی معصوم شہزادے اس قانون کا نشانہ بنے۔ ان میں سلطان مراد سوم کے انتقال کے بعد اسکے 19 بیٹے شامل تھے جنکے جنازے محل سے مراد کے جنازے کے ساتھ نکلے۔
سلطان کی تخت نشینی کے بعد شہزادوں کو ایک ایک کر کے سلطان کے سامنے لایا گیا۔
ان میں سے عمر میں سب سے بڑے شہزادے نے جو خوبصورت اور صحت مند جسامت کا مالک تھا التجا کی کہ ’میرے آقا، میرے بھائی، جو اب میرے والد کی جگہ ہو میری زندگی اس طرح مت ختم کرو- غم سے نڈھال سلطان نے اپنی داڑھی نوچ لی لیکن جواب میں ایک لفظ نہ بولا۔
عثمانی محل میں قیامت گزر چکی تھی۔صبح ہوئی تو محل سے 20 جنازے ایک ساتھ نکلے جن میں مراد کے جنازے کے ساتھ اس کے 19 بیٹے شامل تھے گلیوں میں یہ جنازے جاتے ہوئے دیکھ کر استنبول کے شہریوں کے دل ہل گئے تھے۔
اس موقع پر استنبول کے شہریوں کی دوگنی تعداد باہر آئی تھی اور ہر آنکھ اشکبار تھی۔
اس عمل کو مؤرخین نے اگرچہ ظلم اور بربریت لکھا لیکن اس وقت کے عثمانی قانون کے مطابق یہ سلطنت کی بہتری کےلئے ضروری تھا تاکہ کوئی وارث نا رہے اور بغاوت جنم نا لے۔

Leave a Reply

NZ's Corner