ایک بند تھیلی، ایک کٹا ہوا قالین، اور سلطان کی خاموش تدبیر — تین دن میں سچ کیسے سامنے آ گیا؟
جب امانت میں خیانت ہوئی… اور انصاف قائم کرنے کے لیے ایک بادشاہ نے قالین کاٹ کر سچ کو بے نقاب کر دیا!
سلطان محمود غزنوی کے زمانے میں غزنی کے ایک قاضی کے پاس اس کے ایک دوست تاجر نے اشرفیوں سے بھری ایک تھیلی بطور امانت رکھوائی اور خود کاروبار کے سلسلے میں دوسرے ملک چلا گیا۔ کچھ عرصے بعد جب وہ واپس آیا تو اس نے قاضی سے اپنی امانت طلب کی۔ قاضی نے وہی بند تھیلی اسے واپس کر دی۔
تاجر مطمئن ہو کر تھیلی لے گیا، مگر جب گھر پہنچ کر اس نے تھیلی کھولی تو حیران رہ گیا۔ اس میں اشرفیوں کی جگہ تانبے کے سکے موجود تھے۔
وہ فوراً قاضی کے پاس پہنچا اور کہا:
“اس تھیلی میں تو اشرفیاں تھیں، یہ تانبے کے سکے کیسے آ گئے؟”
قاضی نے لاپروائی سے جواب دیا:
“بھئی! جس طرح تم بند تھیلی میرے پاس چھوڑ گئے تھے، میں نے اسی طرح واپس کر دی۔ اب مجھے کیا معلوم اس میں اشرفیاں تھیں یا تانبے کے سکے۔”
ناامید تاجر انصاف کی امید لے کر سلطان محمود غزنوی کے دربار میں پہنچا اور سارا واقعہ سنا دیا۔
سلطان سمجھ گیا کہ تاجر سچ کہہ رہا ہے، مگر مسئلہ یہ تھا کہ بند تھیلی میں اشرفیوں کی جگہ تانبے کے سکے کیسے آئے، اس کا کوئی واضح ثبوت نہیں تھا۔
سلطان نے تاجر سے کہا:
“یہ تھیلی میرے پاس چھوڑ دو، اور مجھے چند دن کا وقت دو تاکہ میں انصاف کا کوئی راستہ نکال سکوں۔”
تاجر نے تھیلی سلطان کے حوالے کر دی اور واپس چلا گیا۔
سلطان کچھ دیر سوچتا رہا، پھر اچانک اس نے اپنا خنجر نکالا اور تخت پر بچھے شاہی قالین کو ایک کنارے سے کاٹ دیا۔ اس کے فوراً بعد اس نے اعلان کیا کہ وہ شکار پر جا رہا ہے۔
بادشاہ کے روانہ ہونے کے بعد جب وزیر اور درباری واپس آئے تو انہوں نے دیکھا کہ شاہی قالین ایک طرف سے کٹا ہوا ہے۔ سب پریشان ہو گئے اور سوچنے لگے کہ جب سلطان تین دن بعد شکار سے واپس آئے گا اور یہ حال دیکھے گا تو نہ جانے کس کس پر غضب ٹوٹے گا۔
اسی فکر میں تھے کہ ایک شخص نے کہا:
“کیوں پریشان ہوتے ہو؟ احمد رفوگر کو بلا لیتے ہیں۔ وہ قالین کو اس طرح ٹھیک کر دے گا کہ کسی کو پتا بھی نہیں چلے گا کہ یہ کبھی کٹا تھا۔”
چنانچہ احمد رفوگر کو بلایا گیا اور اس سے کہا گیا کہ جلد از جلد قالین کو اس طرح مرمت کر دے کہ کوئی نشان باقی نہ رہے۔
احمد رفوگر نے دو دن میں قالین کی ایسی صفائی سے مرمت کر دی کہ کسی کو پتہ ہی نہ چل سکا کہ اسے کبھی کاٹا گیا تھا۔
تیسرے دن سلطان شکار سے واپس آیا۔ اس نے قالین کو دیکھا تو وہ بالکل صحیح حالت میں تھا۔ بظاہر سلطان بھی یہ نہ جان سکا کہ اسے کہاں سے رفو کیا گیا ہے۔
پھر سلطان نے اپنے وزیروں سے کہا:
“یہ قالین کاٹ کر مرمت کیا گیا ہے۔”
وزیروں نے فوراً قسمیں کھا لیں کہ ایسا کچھ نہیں ہوا۔
سلطان مسکرایا اور بولا:
“میں نے خود اس قالین کو کاٹا تھا۔ بتاؤ اسے کس نے رفو کیا ہے؟”
آخرکار بتایا گیا کہ یہ کام احمد رفوگر نے کیا ہے۔
سلطان نے فوراً احمد کو دربار میں طلب کیا اور اس کے سامنے وہ تھیلی رکھ کر پوچھا:
“ذرا دیکھو، کیا یہ تھیلی بھی تمہارے پاس رفو کے لیے آئی تھی؟”
احمد نے پہلے انکار کیا، مگر جب سلطان نے سختی سے سوال کیا تو اس نے سچ بتا دیا:
“جی ہاں، یہ تھیلی فلاں قاضی صاحب میرے پاس لائے تھے، جسے میں نے رفو کیا تھا۔”
یہ سن کر سلطان نے فوراً قاضی کو دربار میں طلب کیا اور حکم دیا:
“تاجر کی اشرفیاں فوراً واپس کرو، ورنہ سخت سزا دی جائے گی۔”
آخرکار قاضی نے وہ اشرفیاں لا کر سلطان کے سامنے پیش کر دیں، جو سلطان نے تاجر کے حوالے کر دیں۔
اس کے بعد قاضی کے خلاف مقدمہ چلایا گیا اور اسے اس کی خیانت کی سزا دی گئی۔
یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سچا انصاف صرف طاقت سے نہیں بلکہ عقل، حکمت اور دیانت سے قائم ہوتا ہے۔
اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہو تو شئیر کریں

۔