پرانے زمانے میں ایک پہلوان اپنے فن میں بہت ماہر تھا۔ جو پہلوان بھی اس کے مقابلے پر آتا تھا، وہ اسے مار گراتا تھا۔چنانچہ اس کی اس قابلیت اور مہارت کی وجہ سے بادشاہ اس کی بہت عزت کرتا تھا ۔ یہ نامی پہلوان بہت سے نوجوانوں کو کشتی لڑنے کا فن سکھا یا کرتا تھا۔ ان میں سے ایک نوجوان کو اس نے اپنا شاگرد خاص بنایا تھا اور اسے وہ سارے داؤپیچ سکھا دبے تھے جو اسے آتے تھے۔ احتیاط کے طور پر بس ایک داؤنہ سکھایا تھا۔
زمانہ اسی طرح گزرتا رہا۔ نامی گرامی پہلوان بوڑھا ہوگا اور اس کا چہیتا شاگرد اپنے وقت کا سب سے بڑا پہلوان بن گیا۔ شرافت کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ اپنے استا د کایہ احسان مانتا کہ اس نے اسے اپنا ہنر سکھا کر ایسا قابل بنادیا لیکن وہ کچھ ایسا بد فطرت تھا کہ ایک دن اس نے بادشاہ کے دربار میں یہ بڑہانکی کہ بے شک میرا استاد بزرگی میں مجھ سے زیادہ ہے لیکن طاقت اور کشتی لڑنے کے فن میں اب میں اس سے بڑھ کر ہوں ۔
بادشاہ کو اس کی یہ بات بہت ناگوار گزری۔ اس نے حکم دیا کہ استاد اور شاگرد کشتی لڑیں تاکہ یہ فیصلہ ہوسکے کہ ان دونوں میں کون بڑا ہے۔ چنانچہ ایک میدان میں اکھاڑا تیار کیا گیا ۔ اور استاد اور اس کا شاگرد کشتی لڑنے کے لیے اکھاڑے میں اترے نوجوان شاگرد اپنی طاقت کے نشے جھومتا ہوا استاد کے سامنے آیا۔ یوں لگتا تھا کہ اگر لوہے کہ پہاڑ بھی اس کے سامنے ہو تو وہ اسے اکھاڑ کر پھینک دے گا لیکن جب اس نے استاد سے ہاتھ ملایا اور کشتی شروع ہوئی تو استاد نے اپنا وہی داؤ آزمایا جو اس نے نالائق شاگرد کو نہ سکھایا تھا اور اسے سرسے اونچا اٹھا کر زمیں پر پٹخ دیا۔
ہر طرف سے واہ وا کے نعرے بلند ہوئے بادشاہ نے بوڑھے پہلوان کو خلعت اور بھاری انعام دیا اور ناخلف شاگرد کو خوب لعنت ملامت کی ۔ وہ کہنے لگا کہ استاد صاحب صرف اس وجہ سے جیت گئے ہیں کہ انھوں نے مجھے یہ داؤ نہ سکھایا تھا جسے استعمال کر کے مجھے گرایا ہے۔
استاد صاحب نے فوراً جواب دیا، اور یہ داؤ میں نے تجھے اسی خیال سے نہ سکھایا تھا کہ اگر کبھی تو میرے مقابلے پر آجائے تو میں اپنا بچاؤ کر سکوں دانشمندوں نے بالکل سچ کہا ہے کہ اپنے بہترین دوست کو بھی اس قابل نہیں بنانا چاہیے کہ اگر وہ کبھی مقابلے پر آجائے تو تمہیں نقصان نہ پہنچا سکے ۔
یہ زمانے کا عجب دستور ہے باوفاؤں پر جفا کرتے ہیں لوگ
جن سے سیکھیں تیر اندازی کا فن نوک خنجر پر انھیں دھرتے ہیں لوگ
سبق:- حضرت سعدی نے اس حکایت میں اس سچائی کی طرف اشارہ کیا ہے کہ جس طرح انسانوں میں اہلیت اور نااہلیت کا فرق ہے۔ اسی طرح کمینگی اور شرافت کا فرق ہے اور کمینے سے کچھ بعید نہیں ہوتا کہ اپنے استاد بلکہ اپنے سگے باپ کے سر پاؤں رکھنے کے لیے تیار ہوجائے۔ اس لیے دانائی کا تقاضا یہ ہے علم اور ہنر سکھاتے ہوئے بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہیے اور اپنی حفاظت کے خیال سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔
✭ نوٹ:- مزید دلچسپ اور ایمان افروز واقعات و حکایات کے لئے ہمیں فالو کر لیں شُکریہ
