بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

ایک غریب کسان تھا۔ اس کے پاس ایک چھوٹا سا کھیت تھا، ایک بوڑھی گائے تھی، اور ایک جھونپڑی تھی۔ وہ اپنی بیوی کے ساتھ رہتا تھا۔ دونوں بہت غریب تھے، لیکن ایک دوسرے سے بہت پیار کرتے تھے۔

ایک دن کسان کھیت میں کام کر رہا تھا۔ شام ہو رہی تھی، وہ تھک کر واپس جا رہا تھا کہ اس نے راستے میں ایک عجیب سا درخت دیکھا۔ درخت چمک رہا تھا، اس کی شاخوں پر روشنی تھی۔

وہ قریب گیا تو درخت سے ایک آواز آئی: “کسان! میں جادوئی درخت ہوں۔ آج تم نے مجھے دیکھ لیا ہے، اس لیے تمہیں تین خواہشیں پوری کرنے کا حق ملے گا۔”

کسان حیران رہ گیا۔ اس نے سوچا: “تین خواہشیں! کتنی بڑی بات ہے!”

وہ دوڑتا ہوا گھر گیا اور بیوی کو ساری بات بتائی۔ بیوی بھی بہت خوش ہوئی۔

کسان نے کہا: “سوچو، ہم کیا مانگیں؟ دولت؟ محل؟ زمینیں؟”

بیوی بولی: “آہستہ سوچو، جلدی نہ کرو۔ تین ہی خواہشیں ہیں، انہیں ضائع نہیں کرنا۔”

وہ دونوں بیٹھ کر سوچنے لگے۔ بہت دیر سوچتے رہے۔ شام ہو گئی، رات ہو گئی، وہ ابھی تک سوچ رہے تھے۔

کسان بولا: “میں بھوکا ہوں۔ کاش میرے ہاتھ میں گرم گرم روٹی ہوتی!”

اتنا کہنا تھا کہ اس کے ہاتھ میں روٹی آ گئی۔

بیوی غصے سے چلائی: “تم نے کیا کر دیا؟ تین میں سے ایک خواہش ضائع کر دی! تمہارے دماغ میں صرف روٹی آئی؟”

کسان نے کہا: “میں بھوکا تھا، میں نے بھوک میں کہہ دیا۔”

بیوی نے غصے میں کہا: “تو یہ روٹی تیرے منہ سے لگ جائے!”

اتنا کہنا تھا کہ روٹی کسان کے منہ سے لگ گئی۔ وہ اسے کھینچنے لگا، لیکن روٹی نہیں اتری۔ اس کا منہ بند تھا، وہ کچھ کہہ نہیں سکتا تھا۔

بیوی گھبرا گئی۔ اس نے کہا: “اب صرف ایک خواہش بچی ہے۔ کیا کروں؟”

وہ سوچنے لگی۔ اگر وہ روٹی اتارنے کی خواہش کرے تو ساری خواہشیں ختم ہو جائیں گی اور ان کے پاس کچھ نہیں ہو گا۔ اگر وہ کچھ اور مانگے تو اس کا شوہر روٹی کے ساتھ پھنسا رہ جائے گا۔

اس نے بہت دیر سوچا۔ پھر اس نے آہ بھری اور کہا: “خدا یا، میری تیسری خواہش یہ ہے کہ میرے شوہر کے منہ سے یہ روٹی اتر جائے اور ہم پھر سے ویسے ہی ہو جائیں جیسے پہلے تھے۔”

اتنا کہنا تھا کہ روٹی غائب ہو گئی۔ کسان کا منہ کھل گیا۔ وہ سانس لے سکتا تھا، بول سکتا تھا۔

دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے رہ گئے۔ پھر ہنس پڑے۔

بیوی نے کہا: “دیکھا؟ ہم نے تین خواہشیں ضائع کر دیں۔ پہلی میں روٹی مانگی، دوسری میں غصے میں بددعا دے دی، تیسری میں پھر سے پہلے جیسے ہونے کی خواہش کی۔ آخر میں وہیں کے وہیں رہ گئے۔”

کسان نے کہا: “لیکن ہم نے کچھ سیکھا۔ ہم نے سیکھا کہ جلدی میں فیصلہ کرنا نقصان دہ ہے۔ ہم نے سیکھا کہ غصے میں کہی گئی بات تباہ کر سکتی ہے۔ ہم نے سیکھا کہ جو ہمارے پاس ہے، وہی سب کچھ ہے۔”

بیوی نے اس کا ہاتھ تھاما۔ “ہاں، ہمارے پاس ایک دوسرے ہیں۔ اور یہی سب سے بڑی خواہش ہے جو پوری ہو چکی ہے۔”

سبق:

یہ کہانی ہمیں تین بڑے سبق دیتی ہے:

  1. جلدی میں فیصلہ نہ کرو۔
  2. غصے میں کچھ مت کہو۔
  3. جو تمہارے پاس ہے، وہی سب سے بڑی دولت ہے۔

کسان اور اس کی بیوی نے تین خواہشیں ضائع کر دیں، لیکن انہوں نے وہ پا لیا جو سب سے قیمتی ہے—ایک دوسرے کا ساتھ، اور اپنی موجودہ زندگی میں خوش رہنے کا سبق۔

اخلاقی سبق: جلدی اور غصے میں کیے گئے فیصلے کبھی اچھے نہیں ہوتے۔ جو ہے، اسی میں خوش رہنا سب سے بڑی دانش ہے۔

حوالہ:

یہ کہانی عربی لوک کہانیوں کے مجموعے “الف لیلہ و لیلہ” (الف لیلیٰ) کے کئی نسخوں میں ملتی ہے۔ یہ کہانی مختلف ثقافتوں میں مختلف ناموں سے جانی جاتی ہے کہیں “تین خواہشیں” تو کہیں “لالچ کا انجام”۔ اس کا اصل پیغام قناعت اور صبر پر مبنی ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner